السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1615. -- باب: الهدية للوالي بسبب الولاية.
-- باب: حاکم کو اس کے منصب کی وجہ سے ہدیہ (تحفہ) دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7664
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى الصَّدَقَةِ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" مَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ عَلَى بَعْضِ الْعَمَلِ مِنْ أَعْمَالِنَا فَيَجِيءُ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ فَيَنْظُرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ شَيْءٌ أَوْ لَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَرُ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ، فَقَالَ:" اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازد قبیلے میں سے ایک شخص کو عامل بنایا جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا، جب وہ آیا تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ آپ کے لیے ہے اور یہ میرے لیے تحفہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”اس عامل کا کیا حال ہے کہ ہم اسے عامل مقرر کرتے ہیں، پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے والد یا ماں کے گھر میں بیٹھا رہا، پھر وہ دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں! مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، تم میں سے کوئی بھی کوئی چیز نہیں لاتا مگر وہ قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔ اگر وہ اونٹ ہوگا تو اس کی بلبلاہٹ ہوگی، گائے اور بکری کی منمناہٹ ہوگی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ» ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7664]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7664 in Urdu