السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1855. -- باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8848
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حدَّثَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟، حَدَّثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، وَهُوَ بِالْعَقِيقِ أَنْ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عقیق میں تھے تو ”میری طرف میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھیے اور کہا: «عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ» ”عمرہ حج میں ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8848]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8849
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حدَّثَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ:" أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ وَمِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ، فَيَكُونُ ذَلِكَ إِذْنًا، وَاللهُ أَعْلَمُ فِي إِدْخَالِ الْعُمْرَةِ فِي الْحَجِّ؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَمَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فِي نَفْسِهِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقیق نامی وادی میں تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آج رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھیں اور کہیں کہ عمرہ حج میں (داخل) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8849]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8850
حدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ، سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ لِي: أَلَا أُحدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ؟،" إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ، وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ يُحرِّمُهُ، وَأَنَّهُ قَدْ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ انْقَطَعَ عَنِّي، فَلَمَّا تَرَكْتُ عَادَ إِلَيَّ" يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ ⦗٢٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ وَرَوَاهُ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ فِي الْمُتْعَةِ، وَكَذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ مُطَرِّفٍ فِي الْمُتْعَةِ، وَكَذَلِكَ أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ فِي الْمُتْعَةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشَرَةِ، وَقَصْدُهُ مِنْ جَمِيعِ ذَلِكَ بَيَانُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَقَوْلُهُ: جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، إِنْ كَانَ الرَّاوِي حَفِظَهُ يُحتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ إِذْنَهُ فِيهِ، وَأَمْرَهُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ بِذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتاؤں جو تجھے نفع دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ کو جمع کیا اور پھر اس سے منع نہیں فرمایا اور نہ ہی قرآن اس کو حرام کرنے کے لیے اترا اور فرشتے مجھ سے سلام لیتے تھے، جب میں نے داغ لگوایا تو وہ رک گئے اور جب میں نے داغ لگوانا چھوڑ دیا، وہ پھر آنے لگے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8850]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1226۔ احمد 4/ 27»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8851
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَدُومِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ عَلِيٌّ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ صَنَعْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَقَرَنْتُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حِينَ وَصَفَ قَدُومَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِهْلَالَهُ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ سَنَدًا، وَأَحْسَنُ سِيَاقَةً، وَمَعَ حَدِيثِ جَابِرٍ حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا امیر بنایا، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے آنے کا سارا واقعہ بیان کیا اور بتایا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیا کیا ہے؟“ کہنے لگے: میں نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ کہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قربانی لایا ہوں اور حجِ قِران کیا ہے۔“
اس روایت میں ”اور میں نے قران کیا ہے“ کے الفاظ اسی طرح ہیں، لیکن یہ الفاظ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں نہیں ہیں جب انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آنے اور ان کے تلبیہ کا ذکر کیا، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح اور سیاق کے اعتبار سے زیادہ عمدہ ہے، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تائید سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8851]
اس روایت میں ”اور میں نے قران کیا ہے“ کے الفاظ اسی طرح ہیں، لیکن یہ الفاظ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں نہیں ہیں جب انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آنے اور ان کے تلبیہ کا ذکر کیا، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح اور سیاق کے اعتبار سے زیادہ عمدہ ہے، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تائید سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8851]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1797۔ نسائي 2725»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 8852
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ أَهْلَلْتَ؟"، فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَهْلَلْتُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْخَلَّالِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَفِيهِ وَفِي حَدِيثِ جَابِرٍ، جَعَلَ الْعِلَّةَ فِي امْتِنَاعِهِ مِنَ التَّحَلُّلِ كَوْنَ الْهَدْيِ مَعَهُ، وَالْقَارِنُ لَا يَحِلُّ مِنْ إِحْرَامِهِ، حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا، سَوَاءٌ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ أَوْ لَمْ يَكُنْ، وَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى خَطَأِ تِلْكَ اللَّفْظَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیا تلبیہ کہا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: وہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا۔“
(ب) اس حدیث میں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلال ہونے سے رکنے کی علت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا ہونا بیان کی گئی ہے، جبکہ حجِ قران والا اپنے احرام سے اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک حج اور عمرہ دونوں سے اکٹھا حلال نہ ہو جائے، خواہ اس کے پاس قربانی ہو یا نہ ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لفظ (”اور میں نے قران کیا ہے“) غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8852]
(ب) اس حدیث میں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلال ہونے سے رکنے کی علت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا ہونا بیان کی گئی ہے، جبکہ حجِ قران والا اپنے احرام سے اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک حج اور عمرہ دونوں سے اکٹھا حلال نہ ہو جائے، خواہ اس کے پاس قربانی ہو یا نہ ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لفظ (”اور میں نے قران کیا ہے“) غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8852]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1483»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8853
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ، سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَذْهَبُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، إِلَى الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ أَسْأَلُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ فَأَسْلَمَ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فسَمِعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَهُوَ يُهِلُّ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِالْفَارِسِيَّةِ، فَقَالَ: هَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا حُمِّلَ عَلَيَّ بِكَلَامِهِمَا جَبَلٌ، حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا، فَلَامَهُمَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا الْحَدِيثُ يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ الْقِرِانِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ عَلَى جَوَازٍ بِضَلَالٍ، خِلَافَ مَا تَوَهَّمَهُ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ لَا أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْ غَيْرِهِ، وَقَدْ أَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يُفْصَلَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ.
ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق رحمہ اللہ اکثر صبی بن معبد رحمہ اللہ کے پاس یہ بات پوچھنے جاتے اور وہ نصرانی تھا جو کہ مسلمان ہو گیا تھا، اس نے حج و عمرہ کا تلبیہ کہا تو اس کو سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما نے قادسیہ میں حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو کہنے لگے: ”یہ تو اپنے گھر کے اونٹ سے بھی گمراہ ہے۔“ وہ کہتا ہے کہ ان کی اس بات سے مجھ پر پہاڑ ٹوٹ پڑا، حتیٰ کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات بتائی تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے، انھیں ملامت کی اور پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھ سے کہا: ”تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت دیا گیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8853]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح