🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1855. -- باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8828
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ التَّمِيمِيُّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ التُّرْكُ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں کا تلبیہ اکٹھا کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ”میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے، میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8828]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1251»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8829
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَنَسًا، فَحدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا يَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً" ⦗١٤⦘ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ عَنْ هُشَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ حُمَيْدٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ کہا تھا، فرماتے ہیں کہ میں پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو ملا اور یہ بات سنائی تو وہ کہنے لگے کہ وہ تو ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہیں، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً» ”میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے“ کہتے ہوئے سنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8829]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4096۔ مسلم 1232»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: بِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَهَلَّ بِالْحَجِّ"، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَقَالَ: بِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" أَلَمْ تَأْتِنِي عَامَ أَوَّلَ؟"، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَرَنَ، قَالَ: ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ وَهُنَّ مُكَشِّفَاتُ الرُّءُوسِ، وَإِنِّي كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمَسُّنِي لُعَابُهَا أَسْمَعُهُ يُلَبِّي بِالْحَجِّ".
ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تلبیہ کہا تھا؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ صرف حج کا تلبیہ کہا تھا، پھر وہ اگلے سال آیا اور ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح تلبیہ کہا تھا؟ انہوں نے کہا: کیا تو گزشتہ سال نہیں آیا تھا کیا؟ کہنے لگا: کیوں نہیں، لیکن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حج قران کیا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو عورتوں میں چلے جاتے تھے جبکہ وہ سر کھولے ہوتی تھیں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے تھا، اس کا لعاب مجھے چھو رہا تھا، میں نے انہیں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ طبراني: 274»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ بِهَا يَعْنِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ حَمِدَ، وَسَبَّحَ، وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، كَذَا قَالَ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ فَأَضَافَ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہوئی، پھر سوار ہو کر جب بیداء پر پہنچے تو اللہ کی حمد، تسبیح اور تکبیر بیان کی اور حج و عمرہ کا تلبیہ کہا اور لوگوں نے بھی حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا، تو جب ہم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، وہ حلال ہو گئے، حتیٰ کہ جب یومِ ترویہ تھا تو انہوں نے حج کا تلبیہ کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ سات کھڑے اونٹ نحر کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8831]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1473»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8832
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗١٥⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ"، قَالَ أَنَسٌ:" وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ:.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں ادا کیں اور میں نے ان سب کو حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8832]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1473»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8833
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ سُلَيْمَانُ: سَمِعَ أَبُو قِلَابَةَ، هَذَا مِنْ أَنَسٍ وَهُوَ فَقِيهٌ، وَرَوَى حُمَيْدٌ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُلَبِّي بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ"، قَالَ: وَلَمْ يَحْفَظَا إِنَّمَا الصَّحِيحُ مَا قَالَهُ أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ، وَقَدْ جَمَعَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّمَا سَمِعَ أَنَسٌ أُولَئِكَ الَّذِينَ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، هَذَا الْكَلَامُ أَوْ نَحوُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَنَسٍ، كَمَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَرَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ فَالِاشْتِبَاهُ وَقَعَ لِأَنَسٍ لَا لِمَنْ دُونَهُ، وَيُحتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ غَيْرَهُ كَيْفَ يُهِلُّ بِالْقِرَانِ، لَا أَنَّهُ يُهِلُّ بِهِمَا عَنْ نَفْسِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔
سلیمان (بن حرب) کہتے ہیں: ابوقلابہ نے یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ فقیہ ہیں۔ حمید اور یحییٰ بن ابواسحاق نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا، صحیح وہی ہے جو ابوقلابہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ افراد کیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو سنا جنہوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو بڑی جماعت نے بیان کیا ہے، جیسے یحییٰ بن ابواسحاق اور وہیب نے ایوب سے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو شبہ پڑ گیا ہے تو اس کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، وہ کسی دوسرے کو سکھلا رہے تھے کہ حج قران میں تلبیہ کیسے پکارے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8833]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1473۔ مسلم 690»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَالْحَسَنُ، قَالُوا ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ" أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الْعُمْرَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، وَإِنَّمَا يَقُولُ ذَلِكَ أَنَسٌ عَلَى مَا عِنْدَهُ مِنْ أَنَّهُ قَرَنَ وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ غَيْرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَفِي ثُبُوتِهِ نَظَرٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، چاروں ذوالقعدہ میں سوائے اس عمرہ کے جو انہوں نے حج کے ساتھ کیا، ایک عمرہ حدیبیہ کے سال ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ اس سے اگلے سال ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ جعرانہ سے جب حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں، وہ بھی ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ حج کے ساتھ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بات اپنی اس رائے کی بنا پر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ قران کیا تھا۔ یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے، لیکن اس کے ثابت ہونے میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8834]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1688۔ مسلم 1253»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8835
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: مَرَّتَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثًا سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ" كَذَا رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَالرِّوَايَةُ الثَّانِيَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ لَيْسَ فِيهَا هَذَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تو وہ فرمانے لگے: دو، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرہ کے سوا جو انہوں نے حج کے ساتھ ملایا تھا، تین عمرے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8835]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابوداود 1992»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8836
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: ثنا، وَقَالَ، إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَإِذَا أُنَاسٌ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الضُّحَى قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوا لَهُ: كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ"، قَالَ: فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، قَالَ: وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خَلْفَ الْحُجْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّهْ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ:" مَا يَقُولُ؟"، قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي ⦗١٧⦘ رَجَبٍ، قَالَتْ:" يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدٌ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَلَيْسَ فِيهَا مَا فِي رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، تو ہم نے ان سے لوگوں کی نماز کے بارے میں دریافت کیا تو وہ کہنے لگے کہ یہ بدعت ہے، پھر انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ کہنے لگے: چار، ایک رجب میں، تو ہم نے ناپسند کیا کہ ہم اس کو جھٹلائیں یا اس کا رد کریں اور ہم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز حجرے کے پیچھے سے سنی تو عروہ نے کہا: اے اماں جان! کیا آپ نے سنا نہیں جو ابوعبدالرحمن (رضی اللہ عنہما) نے کہا ہے؟ کہنے لگیں: کیا کہا ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا تھا، تو وہ کہنے لگیں: اللہ ابوعبدالرحمن (رضی اللہ عنہما) پر رحم فرمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا وہ اس میں ان کے شریک تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8836]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1685۔ مسلم 1225»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8837
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، حدَّثَنِي عُرْوَةُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا، وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ السِّوَاكِ تَسْتَنُّ، فَقُلْتُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّتَاهُ، أَمَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، يَقُولُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعَهُ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الضَّحَاكِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور میں ان کے مسواک کرنے کی آواز سن رہا تھا تو میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں! میں نے کہا: اے اماں جان! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ابوعبدالرحمن کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ کیا ہے تو وہ کہنے لگیں: اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، ابوعبدالرحمن اس میں ان کے ساتھ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں عمرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 8837]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4007۔ مسلم 1255»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں