🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1937. -- باب: من استحب للمحرم أن يضحى للشمس
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے محرم کے لیے دھوپ میں رہنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9192
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: أَبْصَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا عَلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَدِ اسْتَظَلَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ لَهُ: اضْحَ لِمَنْ أَحْرَمْتَ لَهُ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو اپنے اونٹ پر سوار دیکھا جو سورج سے سایہ کیے ہوئے تھا جب کہ وہ محرم تھا تو انہوں نے فرمایا: جس کے لیے تو نے احرام باندھا ہے اس کے لیے دھوپ میں رہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9192]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن ابي شيبه 14253»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9193
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ جَعَلَ عَلَى وَسَطِ رَاحِلَتِهِ عُودًا وَجَعَلَ ثَوْبًا يَسْتَظِلُّ بِهِ مِنَ الشَّمْسِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَقِيَهُ ابْنُ عُمَرَ فَنَهَاهُ.
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اونٹنی کے درمیان میں لکڑی رکھی ہوئی تھی اور اس پر کپڑا رکھ کر سایہ حاصل کر رہے تھے جبکہ وہ محرم تھے۔ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما ملے تو انہوں نے اس کو منع فرما دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9193]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9194
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلشَّمْسِ حَتَّى تَغْرُبَ إِلَّا غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَمَا قَبْلَهُ مَوْقُوفٌ وَحَدِيثُ أُمِّ الْحُصَيْنِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو محرم شخص بھی سورج کی دھوپ میں رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ سورج اس کے گناہوں کو لے کر ڈوبتا ہے، حتیٰ کہ وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کو اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور اس سے پہلے والی روایت موقوف ہے، اور ام حصین رضی اللہ عنہا کی حدیث صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9194]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ماجه 2925۔ احمد 3/ 373»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں