السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1937. -- باب: من استحب للمحرم أن يضحى للشمس
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے محرم کے لیے دھوپ میں رہنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9194
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلشَّمْسِ حَتَّى تَغْرُبَ إِلَّا غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ حَتَّى يَعُودَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَمَا قَبْلَهُ مَوْقُوفٌ وَحَدِيثُ أُمِّ الْحُصَيْنِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو محرم شخص بھی سورج کی دھوپ میں رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ سورج اس کے گناہوں کو لے کر ڈوبتا ہے، حتیٰ کہ وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کو اس کی ماں نے جنم دیا ہو۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور اس سے پہلے والی روایت موقوف ہے، اور ام حصین رضی اللہ عنہا کی حدیث صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9194]
یہ سند ضعیف ہے، اور اس سے پہلے والی روایت موقوف ہے، اور ام حصین رضی اللہ عنہا کی حدیث صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9194]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ابن ماجه 2925۔ احمد 3/ 373»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9194 in Urdu