🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2037. -- باب: التقديم والتأخير في عمل يوم النحر
-- باب: قربانی کے دن کے اعمال میں تقدیم اور تاخیر (آگے پیچھے کرنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9620
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَمَالِكٌ، وَغَيْرُهُمَا أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ لِلنَّاسِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ" وَقَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ رَأْسِي قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:" اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ" قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ" ⦗٢٣٠⦘ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ وَحَدِيثُ الشَّافِعِيِّ وَيَحْيَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ وَقَدَّمَا سُؤَالَ الْحَلْقِ عَلَى سُؤَالِ النَّحْرِ، وَلَمْ يَقُولَا رَأْسِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى كُلُّهُمْ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ أَيْضًا عَنْ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع والے سال لوگوں کے لیے کھڑے ہوئے، لوگ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے۔ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں۔“ دوسرے نے کہا: مجھے علم نہیں تھا، میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذبح کر لے، کوئی حرج نہیں۔“ کہتے ہیں کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی کام کی تقدیم یا تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا: ”کر لے، کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9620]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 83۔ مسلم 1306»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9621
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ⦗٢٣١⦘ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ" قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:" اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ثُمَّ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُسْأَلُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لَهُ بُلْبُلٌ: هَذَا مِمَّا حَفِظْتَ مِنَ الزُّهْرِيِّ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ كَأَنَّكَ تَسْمَعْهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يُطِيلُهُ فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ بُلْبُلًا قَالَ لِسُفْيَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ قَالَ: إِنَّكَ قُلْتَ لَهُ: لَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَالَ سُفْيَانُ: صَدَقَ ابْنُ مَهْدِيٍّ لَمْ أَحْفَظْهُ بِطُولِهِ فَأَمَّا هَذَا فَقَدْ أَتْقَنْتُهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ دُونَ قِصَّةِ بُلْبُلٍ، وَرَوَاهُ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَحَالَ بِمَتْنِهِ عَلَى رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ سِوَى مَا اسْتَثْنَاهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ زِيَادَةٌ أُخْرَى لَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی بات نہیں۔“ ایک دوسرے نے کہا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذبح کر لے، کوئی حرج نہیں۔“
ابوبکر (حمیدی) کہتے ہیں: پھر میں نے سنا کہ سفیان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو بلبل نے ان سے کہا: اے ابو محمد! کیا یہ ان روایات میں سے ہے جو آپ نے زہری سے یاد کی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، گویا تم اسے ان سے سن رہے ہو، البتہ وہ اسے لمبا بیان کرتے تھے، تو یہ وہ حصہ ہے جو میں نے ان سے یاد کیا۔ کہتے ہیں: اور میں نے بلبل کو سفیان سے یہ کہتے سنا کہ عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے کہا تھا: مجھے یہ یاد نہیں، تو سفیان نے کہا: ابن مہدی نے سچ کہا، مجھے یہ پوری طوالت کے ساتھ یاد نہیں، لیکن یہ حصہ میں نے پختہ طور پر یاد کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9621]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1306»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9622
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ" قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، قَالَ:" انْحَرْ وَلَا حَرَجَ" قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ أَوْ أَخَّرَهُ إِلَّا قَالَ:" افْعَلْ وَلَا حَرَجَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِزِيَادَةٍ أُخْرَى.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سر منڈانا ہے تو میں نے ایسا ہی کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر اور کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسرا آدمی آیا اور پوچھا: میں سمجھتا تھا کہ سر منڈانا قربانی سے پہلے ہے تو میں نے ایسا ہی کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کر لے کوئی بات نہیں“، کہتے ہیں کہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی کام کو پہلے یا بعد میں کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کر لے کوئی بات نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9622]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دارقطني 2/ 251۔ بزار 2418»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9623
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغُ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ" وَأَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ⦗٢٣٢⦘ ارْمِ وَلَا حَرَجَ" وَأَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ" قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نحر والے دن آیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کے پاس کھڑے تھے، اس نے کہا: میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسرا آیا اور اس نے کہا: میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں“، ایک اور آیا، اس نے کہا: میں نے رمی کرنے سے پہلے طوافِ افاضہ کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لے، کوئی حرج نہیں“، کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سوال کرنے والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی جواب دیتے سنا ہے، یعنی: ”کر لے، کوئی حرج نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1306۔ احمد 2/ 210۔ دارقطني 2/251»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ فِي الذَّبْحِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالتَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، فَقَالَ:" لَا حَرَجَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ بَهْزٍ، عَنْ وُهَيْبٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی، سر منڈانے، رمی کرنے اور تقدیم و تاخیر کے بارے میں کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9624]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1647۔ مسلم 1307»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَأَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ:" لَا حَرَجَ"، وَقَالَ رَجُلٌ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَأَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَلَا التَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَى بِيَدِهِ وَقَالَ:" وَلَا حَرَجَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجِ وداع میں پوچھا گیا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن تقدیم و تاخیر کے بارے میں جس چیز کا سوال بھی کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9625]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1647»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَقَالَ آخَرُ: إِنِّي رَمَيْتُ مَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"، فَمَا عَلِمْتُهُ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَوْمَئِذٍ إِلَّا قَالَ:" لَا حَرَجَ" وَلَمْ يَأْمُرْ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَفَّارَةِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ دوسرے نے کہا: میں نے شام کے بعد رمی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ تو اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اور کسی کفارے کا حکم نہیں دیا۔
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9626]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9627
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوَ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے قربانی سے پہلے سر منڈایا، اسی طرح کی کوئی اور بات پوچھی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9627]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1634»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9628
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ"، قَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:" اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَزَادَ فِي مَتْنِهِ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" لَا حَرَجَ"..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر، کوئی حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کرلے، کوئی حرج نہیں“۔ ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے رمی سے پہلے زیارت کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1635»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9629
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ فِي الْبَاقِي، فَقَالَ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلَا حَرَجَ" وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ.
ایضاً، اسی اضافے کے ساتھ، مگر باقی حصے میں انہوں نے اختلاف کیا اور کہا: اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے رمی سے پہلے سر منڈا لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر، کوئی حرج نہیں۔“ اور انہوں نے اس کا یہ قول ذکر نہیں کیا: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9629]
تخریج الحدیث: «انظر قبله»

الحكم على الحديث: انظر قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں