السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2068. -- باب: المفسد لحجه لا يجد بدنة ذبح بقرة فإن لم يجدها ذبح سبعا من الغنم استدلالا بما
-- باب: اپنے حج کو فاسد کرنے والے کا بیان کہ اگر وہ قربانی کا اونٹ نہ پائے تو گائے ذبح کرے، اور اگر وہ بھی نہ پائے تو سات بکریاں ذبح کرے، ان شواہد سے استدلال کرتے ہوئے جو وارد ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 9791
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ⦗٢٧٦⦘ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ"، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ.
ابوزبیر سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیا اور گائے کو بھی سات آدمیوں کی جانب سے قربان کیا۔
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ حدیبیہ کے سال۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9791]
(ب) ابن وہب کی روایت میں ہے کہ حدیبیہ کے سال۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1318»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9792
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ بَدَنَةً فَلَمْ أَجِدْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْبَحْ سَبْعًا مِنَ الْغَنَمِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَوْرَدَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ؛ لِأَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَقَدْ رُوِيَ مَوْقُوفًا.
عطاء خراسانی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اونٹ کی قربانی کی نذر مانی ہے لیکن میرے پاس موجود نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات بکریاں اس کی جگہ ذبح کر دو۔“
ابوداود نے اسے المراسیل میں ذکر کیا ہے، کیونکہ عطاء خراسانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا، اور یہ موقوف بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9792]
ابوداود نے اسے المراسیل میں ذکر کیا ہے، کیونکہ عطاء خراسانی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا، اور یہ موقوف بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9792]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف