السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2248. -- باب: ما يذكر في بيع الحنطة في سنبلها
-- باب: گندم کو اس کی بالی کے اندر رہتے ہوئے فروخت کرنے کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 10610
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَى"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ كَمَا مَضَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دھوکے اور کنکری کی بیع سے منع فرمایا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10610]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1513»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10611
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا ⦗٤٩٤⦘ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قُلْنَا لِلشَّافِعِيِّ: إِنَّ عَلِيَّ بْنَ مَعْبَدٍ أَخْبَرَنَا بِإِسْنَادٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَجَازَ بَيْعَ الْقَمْحِ فِي سُنْبُلِهِ إِذَا ابْيَضَّ، فَقَالَ:" أَمَّا هُوَ فَغَرَرٌ؛ لِأَنَّهُ مَحُولٌ دُونَهُ لَا يُرَى"، فَإِنْ ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِهِ، وَكَانَ هَذَا خَاصًّا مُسْتَخْرَجًا مِنْ عَامٍّ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَأَجَازَ هَذَا.
ربیع بن سلیمان کہتے ہیں: ہم نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا کہ علی بن معبد رحمہ اللہ اپنی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم کو بالیوں میں فروخت کرنے کی اجازت دی جب بالیاں سفید ہو جائیں، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہی یہ (بیع) تو یہ دھوکا ہے، کیونکہ اس (دانے) کے آگے رکاوٹ ہے، وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اگر یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو ہم اسی کے قائل ہوں گے، اور یہ خاص ہوگا جو عام سے نکالا گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع کیا ہے اور اس کی اجازت دی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10611]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ذكر الشافعي في الام 3/81»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10612
أَخْبَرَنَا بِالْحَدِيثِ الَّذِي وَرَدَ فِي ذَلِكَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَذِكْرِ السُّنْبُلِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِ نَافِعٍ، وَأَيُّوبُ ثِقَةٌ حُجَّةٌ، وَالزِّيَادَةُ مِنْ مِثْلِهِ مَقْبُولَةٌ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا اخْتَلَفَ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي إِخْرَاجِهِ فِي الصَّحِيحِ فَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَتَرَكَهُ الْبُخَارِيُّ فَقَدْ رَوَى حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ وَغَيْرُهُمْ عَنْ نَافِعٍ، لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ غَيْرُ أَيُّوبَ، وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ مَا ذَكَرَ أَيُّوبُ، وَرَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ فِيهِ مَا ذَكَرَ أَيُّوبُ إِلَّا مَا:.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کے پکنے سے پہلے اس کی بیع سے منع فرمایا ہے اور گندم کی بالیوں کی بیع سے (منع فرمایا ہے) جب تک کہ وہ سفید نہ ہو جائیں اور وہ آفات سے محفوظ ہو جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدنے اور فروخت کرنے والے کو منع فرمایا ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے بیان نہیں کیا۔ اس حدیث میں بالیوں کا ذکر نافع کے شاگردوں میں سے صرف ایوب سختیانی نے نافع سے کیا ہے، اور ایوب ثقہ اور حجت ہیں، ان جیسے راوی کا اضافہ مقبول ہے۔
(ج) ایوب کے علاوہ کسی نے بھی نافع سے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالیوں کے سفید ہونے تک انہیں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10612]
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنا ممنوع ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے بیان نہیں کیا۔ اس حدیث میں بالیوں کا ذکر نافع کے شاگردوں میں سے صرف ایوب سختیانی نے نافع سے کیا ہے، اور ایوب ثقہ اور حجت ہیں، ان جیسے راوی کا اضافہ مقبول ہے۔
(ج) ایوب کے علاوہ کسی نے بھی نافع سے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالیوں کے سفید ہونے تک انہیں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10612]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1535»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10613
رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَزْهُوَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ، وَذِكْرُ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَالْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِ حُمَيْدٍ فَقَدْ رَوَاهُ فِي الثَّمَرِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ⦗٤٩٥⦘ وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَجَمَاعَةٌ يَكْثُرُ تِعْدَادُهُمْ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ دُونَ ذَلِكَ، وَاخْتُلِفَ عَلَى حَمَّادٍ فِي لَفْظِهِ فَرَوَاهُ عَنْهُ عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، وَحَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ وَغَيْرُهُمْ عَلَى مَا مَضَى ذِكْرُهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دانے کے سخت ہونے، انگور کے سیاہ ہونے اور پھلوں کے پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
نوٹ: دانہ سخت ہو جائے اور انگور سیاہ، یہ الفاظ صرف حماد بن سلمہ اپنے استاد حمید سے روایت کرتے ہیں، لیکن باقی حمید سے عن انس بیان کرتے ہیں جس میں یہ تذکرہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10613]
نوٹ: دانہ سخت ہو جائے اور انگور سیاہ، یہ الفاظ صرف حماد بن سلمہ اپنے استاد حمید سے روایت کرتے ہیں، لیکن باقی حمید سے عن انس بیان کرتے ہیں جس میں یہ تذکرہ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10613]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 10598»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10614
وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبِينَ صَلَاحُهَا، تَصْفَرَّ أَوْ تَحْمَرَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يُفْرَكَ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَهُ. وَقَوْلُهُ:" حَتَّى يُفْرَكَ" إِنْ كَانَ بِخَفْضِ الرَّاءِ عَلَى إِضَافَةِ الْإِفْرَاكِ إِلَى الْحَبِّ وَافَقَ رِوَايَةَ مَنْ قَالَ: حَتَّى يَشْتَدَّ، وَإِنْ كَانَ بِفَتْحِ الرَّاءِ وَرَفْعِ الْيَاءِ عَلَى إِضَافَةِ الْفَرْكِ إِلَى مَنْ لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهُ خَالَفَ رِوَايَةَ مَنْ قَالَ فِيهِ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَاقْتَضَى تَنْقِيَتَهُ عَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَجُوزَ بَيْعُهُ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ مُحَدِّثِي زَمَانِنَا ضَبَطَ ذَلِكَ، وَالْأَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ" يَفْرِكَ" بِخَفْضِ الرَّاءِ؛ لِمُوَافَقَةِ مَعْنَى مَنْ قَالَ فِيهِ: حَتَّى يَشْتَدَّ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَلَا يَحْتَجُّ بِهِ أَنَسٌ عَلَى اللَّفْظِ الثَّانِي.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”پھل کو اس کے پکنے سے پہلے فروخت کیا جائے جب تک کہ وہ زرد یا سرخ ہو جائے، اور انگور کے سیاہ ہونے اور دانے کے نکلنے کے قابل ہونے تک فروخت کرنے سے منع فرمایا۔“
اسے ابان بن ابی عیاش نے بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ان سے حجت نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10614]
اسے ابان بن ابی عیاش نے بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ان سے حجت نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10615
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يُفْرَكَ، وَعَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ، وَعَنِ الثِّمَارِ حَتَّى تُطْعَمَ" وَرُوِي عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَرَوَاهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ أُمِّ ثَوْرٍ أَنَّ زَوْجَهَا بِشْرًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ مَتَى يَشْتَرِي النَّخْلَ؟، قَالَ:" حَتَّى يَزْهُوَ"، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ شِرَاءِ الزَّرْعِ وَهُوَ السُّنْبُلُ، قَالَ:" حَتَّى يَصْفَرَّ" وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ فِي هَذَا الْبَابِ رِوَايَةُ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، ثُمَّ رِوَايَةُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَلَى مَا ذَكَرْنَا فِي لَفْظِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دانے کے نکلنے کے قابل ہونے، کھجور کے پکنے اور پھل کے کھانے کے قابل ہونے تک فروخت سے منع فرمایا ہے“۔
(ب) جابر جعفی، ام ثور سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے خاوند بشر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ کھجور کو کب فروخت کیا جائے؟ انہوں نے فرمایا: جب وہ پک جائے۔ بشر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھیتی کی فروخت کے بارے میں سوال کیا جب وہ بالیوں میں ہو تو انہوں نے فرمایا: جب وہ زرد ہو جائے۔
اسے ابوشیبہ کے واسطے سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔ یہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما والی) سند ضعیف ہے، اور اس باب میں صحیح روایت ایوب سختیانی کی ہے، پھر حماد بن سلمہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ جو ہم نے ذکر کیے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10615]
(ب) جابر جعفی، ام ثور سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے خاوند بشر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ کھجور کو کب فروخت کیا جائے؟ انہوں نے فرمایا: جب وہ پک جائے۔ بشر کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھیتی کی فروخت کے بارے میں سوال کیا جب وہ بالیوں میں ہو تو انہوں نے فرمایا: جب وہ زرد ہو جائے۔
اسے ابوشیبہ کے واسطے سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔ یہ (ابن عباس رضی اللہ عنہما والی) سند ضعیف ہے، اور اس باب میں صحیح روایت ایوب سختیانی کی ہے، پھر حماد بن سلمہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ جو ہم نے ذکر کیے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10615]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10616
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ" قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَبُدُوُّ صَلَاحِهِ فِيمَا يَقُولُ الْعُلَمَاءُ أَنْ يَزْهُوَ وَبُدُوُّ صَلَاحِ الزَّرْعِ أَنْ يُرَى فِيهِ الْفَرْكُ.
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پھلوں کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا“۔
«قَالَ الزُّهْرِيُّ» ”امام زہری رحمہ اللہ نے کہا:“ علماء کہتے ہیں کہ وہ زرد ہو جائے اور کھیتی کا پکنا یہ ہے کہ بالی کٹنے کے قابل ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10616]
«قَالَ الزُّهْرِيُّ» ”امام زہری رحمہ اللہ نے کہا:“ علماء کہتے ہیں کہ وہ زرد ہو جائے اور کھیتی کا پکنا یہ ہے کہ بالی کٹنے کے قابل ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10616]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني كثيرا»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ كَانَ يَقُولُ:" لَا تَبِعِ الْحَبَّ فِي سُنْبُلِهِ حَتَّى يَبْيَضَّ".
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ دانے کو بالی میں سفید ہونے تک فروخت نہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10617]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك: 1325»
الحكم على الحديث: ضعيف