السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2268. -- باب: الحكم فيمن اشترى مصراة
-- باب: اس شخص کے حکم کا بیان جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا ہو) خریدی۔
حدیث نمبر: 10723
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كُنَّا عَلَى بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَنْتَظِرُهُ، فَخَرَجَ فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى أَتَى عَقَبَةً مِنْ عِقَابِ الْمَدِينَةِ فَقَعَدَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" ⦗٥٢١⦘ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَتَلَقَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ سُوقًا وَلَا يَبِيعَنَّ مُهَاجِرِيٌّ لِأَعْرَابِيٍّ، وَمَنْ بَاعَ مُحَفَّلَةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا مِثْلَ" أَوْ قَالَ:" مِثْلَيْ لَبَنِهَا قَمْحًا" تَفَرَّدَ بِهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، آپ مدینہ کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی پر آئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہر سے باہر تجارتی قافلے کو نہ ملے اور مہاجر دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے اور جس نے دودھ روکا ہوا جانور خریدا اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ اگر واپس کرے تو اس کی مثل بھی“ یا فرمایا: ”اس کے دو گنا گندم یعنی دودھ کے دو مثل گندم بھی دے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں جمیع بن عمیر منفرد ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10723]
اس روایت کو بیان کرنے میں جمیع بن عمیر منفرد ہیں، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10723]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 3446»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 10724
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً أَوْ لِقْحَةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ بَيْنَ أَنْ يَرُدَّهَا وَإِنَاءً مِنْ طَعَامٍ، أَوْ يَأْخُذَهَا" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری یا اونٹنی خریدی، اس کو دو میں سے ایک کا اختیار ہے کہ اس کو واپس کر دے اور ایک برتن غلے کا دے دے یا اس یعنی جانور کو رکھ لے۔“
یہی مرسل روایت محفوظ ہے، اور اسماعیل بن مسلم نے اسے حسن سے، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10724]
یہی مرسل روایت محفوظ ہے، اور اسماعیل بن مسلم نے اسے حسن سے، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10724]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 10725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَإِنَّ لِصَاحِبِهَا أَنْ يَحْتَلِبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا فَلْيُمْسِكْهَا وَإِلَّا فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، اس جانور کا دودھ دوہنے کے بعد اگر اس کو اچھی لگے تو روک لے وگرنہ واپس کر دے اور ایک صاع کھجور بھی دے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10725]
تخریج الحدیث: «اسناده منكر»
الحكم على الحديث: اسناده منكر
حدیث نمبر: 10726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُتَلَقَّى الْأَجْلَابُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَمَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، فَإِنْ حَلَبَهَا وَرَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ" قَالَ الشَّيْخُ: يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا شَكًّا مِنْ بَعْضِ الرُّوَاةِ، فَقَالَ: صَاعًا مِنْ هَذَا أَوْ مِنْ ذَلِكَ لَا أَنَّهُ مِنْ وَجْهِ التَّخْيِيرِ؛ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِلْأَحَادِيثِ الثَّابِتَةِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ صحابہ میں سے کسی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تجارتی قافلے کو ملنے سے منع فرمایا اور شہری دیہاتی کے لیے بیع کرے اس سے بھی روکا۔“ ”جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی اس کو دو اختیاروں میں سے ایک ہے، اگر اس کا دودھ دوہنے کے بعد پسند کرے تو اس کو رکھ لے۔ اگر واپس کرے تو ایک صاع غلے یا ایک صاع کھجور کا ساتھ دے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے یہ بعض راویوں کا شک ہو کہ ایک اس سے ہوگا یا اس سے، نہ کہ اختیار کے طریقے پر، تاکہ ثابت احادیث کے موافق ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10726]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے یہ بعض راویوں کا شک ہو کہ ایک اس سے ہوگا یا اس سے، نہ کہ اختیار کے طریقے پر، تاکہ ثابت احادیث کے موافق ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10726]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 4/ 314»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُعْتَمِرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً، فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا"، قَالَ:" وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ"، ⦗٥٢٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے تھنوں میں روکے ہوئے دودھ والا جانور خریدا، اگر وہ اس کو واپس کرنا چاہے تو ساتھ ایک صاع بھی واپس کرے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلوں سے ملنے سے منع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10727]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2042»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10728
وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، أنا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى الرُّويَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ فَذَكَرَهُ. قَالَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: حَدِيثُ الْمُحَفَّلَةِ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ وَقَدْ رَفَعَهُ أَبُو خَالِدٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ..
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”جس نے تھنوں میں دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، اگر اس کو واپس کرنا چاہے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے۔“
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محفلہ والی حدیث سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، البتہ ابو خالد نے اسے تیمی سے مرفوع بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10728]
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محفلہ والی حدیث سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، البتہ ابو خالد نے اسے تیمی سے مرفوع بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10728]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10729
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْقَاسِمُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَقُلْ مِنْ تَمْرٍ. قَالَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَهُشَيْمٌ، وَجَرِيرٌ وَغَيْرُهُمْ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثَ الْمُحَفَّلَةِ.
ابو خالد نے اس کو ذکر کیا لیکن «مِنْ تَمْرٍ» کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن مبارک، یحییٰ بن سعید، ابن ابی عدی، یزید بن زریع، ہشیم، جریر اور دیگر نے محفلہ والی حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10729]
امام اسماعیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن مبارک، یحییٰ بن سعید، ابن ابی عدی، یزید بن زریع، ہشیم، جریر اور دیگر نے محفلہ والی حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10729]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح