السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2471. -- باب: بيان المنهي عنه، وأنه مقصور على كراء الأرض ببعض ما يخرج منها دون غيره مما يجوز أن يكون عوضا في البيوع
-- باب: اس ممنوع صورت کا بیان، اور یہ کہ ممانعت زمین کو اس کی کچھ پیداوار کے عوض کرائے پر دینے تک محدود ہے، نہ کہ ان دیگر اشیاء کے عوض جو بیوع (خرید و فروخت) میں معاوضہ بننا جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 11721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَإِقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ ⦗٢١٩⦘ مِنَ الزَّرْعِ، فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَكَذَا؛ فَلِذَلِكَ زَجَرَ عَنْهُ، فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ نہر کے کنارے اور نالیوں کے سروں پر اور زمین کی پیداوار پر اسے کرایہ پر دیتے تھے۔ کبھی کوئی تلف ہو جاتی اور کوئی بچ جاتی اور لوگوں کے ہاں کرایہ کی یہی ایک صورت تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا، لیکن اگر کوئی معین چیز ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11721]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ:" كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا، فَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم انصار میں سب سے زیادہ کھیتوں والے تھے۔ ہم زمین کرایہ پر دیتے اس شرط پر کہ اس میں سے ہمارے لیے یہ ہوگا اور یہ ان کے لیے۔ کبھی اس کی پیداوار ہو جاتی اور کبھی نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ رہا چاندی کا مسئلہ تو اس سے ہم کو منع نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11722]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ حَنْظَلَةَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ:" كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مُزْدَرَعًا، وَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ بِالنَّاحِيَةِ مِنْهَا تُسَمَّى لِسَيِّدِ الْأَرْضِ، فَرُبَّمَا يُصَابُ ذَلِكَ وَتُصَابُ الْأَرْضُ، وَرُبَّمَا يَسْلَمُ ذَلِكَ وَتَسْلَمُ الْأَرْضُ" قَالَ:" فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدنا حنظلہ بن قیس انصاری رحمہ اللہ نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم اہل مدینہ میں سب سے زیادہ کھیتی والے تھے، ہم ایک کنارے کے عوض زمین کرایہ پر دیتے تھے جو صاحب زمین کا ہوتا تھا۔ پھر کبھی یہ زمین خراب ہوتی کبھی وہ اور کبھی یہ صحیح رہتی اور کبھی وہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہم کو منع کر دیا۔ رہا سونا اور چاندی تو یہ اس زمانہ میں نہیں ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11723]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11724
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدٍ هُوَ ابْنُ ظُهَيْرٍ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ، وَيَشْتَرِطُ الْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ، وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا، قَالَ: وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ، وَنُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَنْفَعَةً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ؛ فَإِنَّهُ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ:" مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لَيَدَعْ"، وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقِ تَمْرٍ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے سیدنا اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین سے بے نیاز ہو جاتا تو وہ ثلث، ربع اور نصف پر دے دیتا اور تین نالیوں کی، بھوسے کی، ربیع کے پانی کی، پیداوار کی شرط لگاتا اور حالات سخت تھے۔ ہم زمینوں میں لوہے سے کام کرتے تھے اور جس سے اللہ چاہتا ہمیں نفع مل جاتا تھا۔ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کام سے منع کیا ہے جس میں تمہارے لیے نفع ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ نفع مند ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو محاقلہ سے منع کیا اور فرمایا: ”جو اپنی زمین سے بے نیاز ہو، وہ اپنے بھائی کو دے دے یا اسے چھوڑ دے۔“ اور تم کو مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ آدمی کے پاس باغ ہو، پھر ایک آدمی آئے اور کہے: میں اسے اتنے وسق کھجوروں کے عوض لیتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11724]
تخریج الحدیث: «ابن ماجه 2460»
الحكم على الحديث: ابن ماجه 2460
حدیث نمبر: 11725
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ:" إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَيَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اكْتَرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے اور مزابنہ سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”تین طرح زراعت کی جاسکتی ہے: زمین کا مالک کھیتی باڑی کرے اور وہ آدمی جسے زمین دی جائے وہ زراعت کرے اور وہ آدمی جو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11725]
تخریج الحدیث: «حسن ابوداؤد3400»
الحكم على الحديث: حسن ابوداؤد3400
حدیث نمبر: 11726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، ثنا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا، فَسَأَلَهُ:" لِمَنِ الزَّرْعُ؟ وَلِمَنِ الْأَرْضُ؟" فَقَالَ: زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي، لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ، فَقَالَ:" أَرْبَيْتُمَا"، فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَى أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَكَ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ زمین میں کھیتی باڑی کرتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے اور وہ پانی لگا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس کے لیے زراعت کر رہے ہو اور زمین کس کی ہے؟“ رافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میری زراعت، میرے بیج اور میرے کام کی وجہ سے نصف میرا اور نصف بنی فلاں کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سودی لین دین کیا ہے، تو زمین اس کے مالک پر لوٹا دے اور اپنا خرچ لے لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11726]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداؤد 3402»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّاقِي، وَبِمَا صَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ النَّبْتِ كَانَ مِنَ الزَّرْعِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ".
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ کھیتوں کو اس پیداوار کے بدلے کرایہ پر دیتے تھے جو نالی کے کنارے پر ہوتی اور پودوں کے ارد گرد جہاں تک پانی پہنچتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ: ”انہیں سونے اور چاندی کے بدلے کرایے پر دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُزَارَعَةِ/حدیث: 11727]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف