السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2517. -- باب: العمرى
-- باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے ہبہ کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 11980
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَعَلَ الْعُمْرَى لِلْوَارِثِ" تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ طَاوُسٍ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عمریٰ وارث کے لیے بنایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11980]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11981
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعُمْرَى جَائِزَةٌ".
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جائز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11981]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 11982
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ: إِنِّي وَهَبْتُ لِابْنِي نَاقَةً حَيَاتَهُ، وَإِنَّهَا تَنَاتَجَتْ إِبِلًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" هِيَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ" فَقَالَ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِهَا، فَقَالَ:" ذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا".
حبیب بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، بستی والوں کا ایک آدمی آیا اس نے کہا: میں نے اپنے بیٹے کے لیے اونٹنی وقف کی تھی اس کی زندگی میں اور اس اونٹنی نے اونٹ جنا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ اونٹنی اس کی زندگی میں اور موت کے بعد بھی اس کی ہے۔ اس نے کہا: میں نے صدقہ کیا تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اب یہ دور کی بات ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11982]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11983
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَضْنَتْ وَاضْطَرَبَتْ، كَذَا رُوِيَ، وَقَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: صَوَابُهُ ضَنَتْ، يَعْنِي تَنَاتَجَتْ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِيمَا:.
اسی طرح کی روایت ہے، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: «أَضْنَتْ وَاضْطَرَبَتْ» ۔ ابوسلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح لفظ «ضَنَتْ» ہے، یعنی اس نے بچے جنے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11983]
حدیث نمبر: 11984
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ" وَرِثَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ دَارَهَا، قَالَ: وَكَانَتْ حَفْصَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدْ أَسْكَنَتِ ابْنَةَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ مَا عَاشَتْ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ ابْنَةُ زَيْدٍ قَبَضَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْمَسْكَنَ، وَرَأَى أَنَّهُ لَهُ، وَرَدَّ فِي الْعَارِيَةِ دُونَ الْعُمْرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ".
نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے گھر کے وارث بنے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے زید بن خطاب کی بیٹی کو اس میں رہائش دی تھی جب تک وہ زندہ رہے اور جب زید کی بیٹی فوت ہوگئی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے گھر لے لیا اور خیال کیا کہ وہ انہی کا ہے۔ یہ عمریٰ کے علاوہ عاریتاً دینے میں وارد ہوا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11984]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 1481»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11985
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: حَضَرْتُ شُرَيْحًا قَضَى لِأَعْمَى بِالْعُمْرَى، فَقَالَ لَهُ الْأَعْمَى: يَا أَبَا أُمَيَّةَ، بِمَا قَضَيْتَ لِي؟ فَقَالَ شُرَيْحٌ: لَسْتُ أَنَا قَضَيْتُ لَكَ، وَلَكِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَكَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ:" مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ".
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا، انہوں نے اندھے کے لیے عمریٰ کا فیصلہ کیا، اندھے آدمی نے ان سے کہا: اے ابوامیہ! آپ نے میرے لیے کس چیز کا فیصلہ کیا ہے؟ شریح رحمہ اللہ نے کہا: میں نے تیرے لیے فیصلہ نہیں کیا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے لیے چالیس سال سے فیصلہ کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اس کی زندگی میں کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی جائے اس کی وفات کے بعد وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11985]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الام للشافعي 4/65»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11986
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا هِشَامٌ وَمَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا أَعْمَرَ رَجُلًا دَارًا حَيَاتَهُ، فَخَاصَمَ فِيهَا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى شُرَيْحٍ، وَكَانَ الَّذِي أُعْمِرَ الدَّارَ أَعْمَى، فَقَضَى لَهُ شُرَيْحٌ بِهَا وَقَالَ: مَنْ مَلَكَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ فَقَالَ الْمُعْمَرُ: كَيْفَ قَضَيْتَ لِي يَا أَبَا أُمَيَّةَ؟ فَقَالَ: لَسْتُ أَنَا قَضَيْتُ، وَلَكِنْ قَضَى الله عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً:" مَنْ مَلَكَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ بَعْدَهُ".
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے عمریٰ کے طور پر دوسرے آدمی کو اس کی زندگی میں گھر دیا۔ اس کے بعد وہ شریح رحمہ اللہ کے پاس اپنا معاملہ لے کر گئے اور جسے گھر دیا تھا وہ اندھا تھا، شریح رحمہ اللہ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا اور کہا: جو اپنی زندگی میں کسی چیز کا مالک بنا وہ اسی کی ملکیت ہے زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی۔ اندھے نے کہا: اے ابوامیہ! آپ نے میرے لیے کیا فیصلہ کیا ہے؟ آپ نے کہا: میں نے یہ فیصلہ نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے پچاس سال سے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ”جو اپنی زندگی میں کسی چیز کا مالک بنا وہ موت کے بعد بھی اس کی ہے اور اس کے ورثاء کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11986]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح