السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2603. -- باب: نسخ الوصية للوالدين والأقربين الوارثين
-- باب: والدین اور وارث ہونے والے قریبی رشتہ داروں کے حق میں وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12543
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ فِي آيَةِ الْوَصِيَّةِ قَالَ:" كَانَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ، فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ للْوَالِدَيْنِ، وَأَثْبَتَ لَهُمَا نَصِيبَهُمَا فِي سُورَةِ النِّسَاءِ، وَنَسَخَ مِنَ الْأَقْرَبِينَ كُلَّ وَارِثٍ، وَبَقِيَتِ الْوَصِيَّةُ لِلْأَقْرَبِينَ الَّذِينَ لَا يَرِثُونَ".
حضرت حسن رحمہ اللہ نے وصیت والی آیت کے بارے میں کہا کہ وصیت والدین اور رشتہ داروں کے لیے تھی، پس اسے والدین کے لیے منسوخ کر دیا گیا اور [سورة النساء] میں ان کے لیے ان کا حصہ مقرر کر دیا اور رشتہ دار ہر وارث سے منسوخ کر دیا گیا اور وہ رشتہ دار جو وارث نہ ہوں ان کے لیے وصیت باقی رکھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12543]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12544
قَالَ: وَثنا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ أَوْصَى لِغَيْرِ ذِي قَرَابَتِهِ فَلِلَّذِينَ أَوْصَى لَهُمْ ثُلُثُ الثُّلُثِ، وَلِقَرَابَتِهِ ثُلُثَا الثُّلُثِ".
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جو اپنے رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کرے تو جن کے لیے اس نے وصیت کی ہے ان کے لیے ایک تہائی کا تیسرا حصہ ہے اور اس کے رشتہ داروں کے لیے ایک تہائی میں سے دو تہائی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12544]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح