السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2613. -- باب: الوصية بشيء بعينه
-- باب: کسی متعین چیز کی وصیت کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 12594
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْبَغْدَادِيُّ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ:" مَنْ أَوْصَى أَنْ يُجْعَلَ ثُلُثُهُ فِي حَائِطٍ، ثُمَّ سُبِّلَ ذَلِكَ الْحَائِطُ حَيْثُ أَرَادَهُ، فَقَالَ وَرَثَتُهُ: لَا نُجِيزُ، إِنَّمَا لَهُ ثُلُثُ حَائِطِهِ، فَذَلِكَ جَائِزٌ عَلَيْهِمُ، الْمُوصِي يَضَعُ ثُلُثَهُ حَيْثُ أَحَبَّ مِنْ مَالِهِ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ؛ إِنَّمَا الْحَائِطُ كَالرَّحْلِ أَوِ السَّيْفِ أَوِ الثَّوْبِ يُوصِي بِهِ لَيْسَ لِلْوَرَثَةِ أَنْ يَقُولَوا: إِنَّمَا لَهُ ثُلُثُ رَحْلِهِ وَسَيْفِهِ وَثَوْبِهِ".
(١٢٥٩٤) ابو زناد اپنے والد سے اور وہ اہل مدینہ کیفقہائ سے نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے باغ میں سے تیسرے حصے کی وصیت کرے، پھر جہاں اس نے سارا باغ فی سبیل اللہ دے دیا، اس کے وارثوں نے کہا: ہم اس کے لیے صرف تیسرا حصہ جائز قرار دیتے ہیں، ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔ وصیت کرنے والا جہاں پسند کرے اپنے مال سے اس کے برابر قیمت دے گا، باغ سامان رکھنے والے تھیلے، تلوار اور کپڑے کی طرح ہے جس کی وہ وصیت کرتا ہے۔ وارثوں کے لیے ایسا کرنا درست نہیں کہ اس کے لیے تھیلے، تلوار اور کپڑے کا تیسرا حصہ ہے۔ یعنی صرف تیسرے حصے کی وصیت کرنا جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12594]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح