🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2614. -- باب: الوصية بالإعتاق عنه، ومن استحب استغلاء الرقاب وإقلالها أو إكثارها واسترخاصها
-- باب: اپنی طرف سے غلام آزاد کرنے کی وصیت کا بیان، اور اس شخص کا بیان جس نے قیمتی غلام خرید کر آزاد کرنے اور ان کی تعداد کم رکھنے، یا سستے غلاموں کی تعداد زیادہ رکھنے کو مستحب قرار دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ⦗٤٤٧⦘ الْعَبْسِيُّ، قَالَا: أنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ"، قَالَ: فَأِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" تُعِينُ ضَعِيفًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں پسندیدہ ہو۔“ اس نے کہا: اگر اس کی میں طاقت نہ رکھوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کمزور کی مدد کر یا کسی اناڑی کا کام کر دے۔“ اس نے کہا: اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12595]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 527»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12596
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُخْتُرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، إِنَّهُ لَيَعْتِقُ الْيَدَ بِالْيَدِ، وَالرِّجْلَ بِالرِّجْلِ، وَالْفَرْجَ بِالْفَرْجِ" فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ: ادْعُوا لِي مُطَرِّفًا، وَكَانَ مِنْ أَفْرَهِ غِلْمَانِهِ، فَلَمَّا قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ: أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی مومن غلام آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کو اس غلام کے عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کردیں گے، بیشک وہ ہاتھ کو ہاتھ کے بدلے، پاؤں کو پاؤں کے بدلے، شرم گاہ کو شرم گاہ کے بدلے آزاد کرے گا۔“ علی بن حسین رحمہ اللہ نے راوی سے کہا: کیا آپ نے یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ علی رحمہ اللہ نے کہا: مطرف کو بلاؤ اور وہ اس کے محنتی غلاموں سے تھے۔ جب وہ سامنے آئے تو کہا: تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2517»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12597
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَزَّارُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ أَبُو الْفَضْلِ ح وَثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ مِنَ النَّارِ حَتَّى فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ دَاوُدَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مومن غلام آزاد کیا تو اللہ اس کے ہر عضو کو آگ سے اس غلام کے عضو کے بدلے آزاد کریں گے، یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو (آزاد کردہ) کی شرم گاہ کے بدلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12597]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں