السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2652. جماع أبواب الأنفال -- باب: السلب للقاتل
باب: انفال (زائد عطیات اور مالِ غنیمت) کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 12769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَعْقِلِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ ⦗٥٠٢⦘ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَحْشٍ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ:" أَلَا نَأْتِي نَدْعُو اللهَ" فَخَلَوْا فِي نَاحِيَةٍ، فَدَعَا سَعْدٌ قَالَ: يَا رَبِّ، إِذَا لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا، فَلَقِّنِي رَجُلًا شَدِيدًا بَأْسُهُ شَدِيدًا حَرْدُهُ؛ فَأُقَاتِلَهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ ارْزُقْنِي عَلَيْهِ الظَّفَرَ حَتَّى أَقْتُلَهُ وَآخُذَ سَلَبَهُ، فَأَمَّنَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَحْشٍ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ ارْزُقْنِي غَدًا رَجُلًا شَدِيدًا حَرْدُهُ، شَدِيدًا بَأْسُهُ، أُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ يَأْخُذُنِي فَيَجْدَعُ أَنْفِي، فَإِذَا لَقِيتُكَ غَدًا قُلْتَ: يَا عَبْدَ اللهِ، فِيمَ جُدِعَ أَنْفُكَ وَأُذُنُكَ؟ فَأَقُولُ: فِيكَ وَفِي رَسُولِكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقُولُ: صَدَقْتَ"، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: يَا بُنِيَّ، كَانَتْ دَعْوَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ خَيْرًا مِنْ دَعْوَتِي، لَقَدْ رَأَيْتُهُ آخِرَ النَّهَارِ وَإِنَّ أُذُنَهُ وَأَنْفَهُ لَمُعَلَّقَانِ فِي خَيْطٍ.
اسحاق بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے احد کے دن کہا: ”آؤ اللہ کو پکار لیں“، پس ہم ایک کنارے پر چلے گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی: ”اے میرے رب! جب کل ہم دشمن سے ملیں تو مجھے ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں اس سے تیری خاطر لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے۔ پھر مجھے اس پر کامیابی دینا حتیٰ کہ میں اس کو قتل کر دوں اور اس کا سامان لے لوں۔“ پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آمین کہا۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے کل ایسے آدمی سے ملانا جو انتہائی سخت ارادے والا ہو، میں تیری خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے اور میرا ناک کاٹ دے، جب میں کل کو تجھ سے ملوں تو تو کہے: اے عبداللہ! تیرا ناک، کان کیوں کاٹے گئے؟ میں کہوں: تیری اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر، تو تو کہے: تو نے سچ کہا۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے میرے بیٹے! عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی، میں نے دن کے آخر میں دیکھا کہ ان کا کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12769]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ حاكم 530»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12770
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْخَفَّافُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَبِيعَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَقُولُ: إِنَّهُ طَلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُحُدٍ وَهُوَ يَشْتَدُّ، وَفِي يَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ التُّرْسُ فِيهِ مَاءٌ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ وَجْهَهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَقَالَ لَهُ حَاطِبٌ: مَنْ فَعَلَ بِكَ هَذَا؟ قَالَ:" عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، هَشَّمَ وَجْهِيَ، وَدَقَّ رَبَاعِيَتِي بِحَجَرٍ رَمَانِي"، قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ صَائِحًا يَصِيحُ عَلَى الْجَبَلِ: قُتِلَ مُحَمَّدٌ، فَأَتَيْتُ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ رُوحِي، قُلْتُ: أَيْنَ تَوَجَّهَ عُتْبَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَى حَيْثُ تَوَجَّهَ، فَمَضَيْتُ حَتَّى ظَفَرْتُ بِهِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَطَرَحْتُ رَأْسَهُ فَهَبَطَتْ، فَأَخَذْتُ رَأْسَهُ وَسَلَبَهُ وَفَرَسَهُ وَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ ذَلِكَ إِلِيَّ وَدَعَا لِي فَقَالَ:" رَضِيَ اللهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللهُ عَنْكَ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پانی کا برتن تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی سے اپنا چہرہ دھو رہے تھے، حاطب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عتبہ بن ابی وقاص نے میرے چہرے پر مارا اور پتھر کے ساتھ میرے دانت نکال دیے۔“ میں نے عرض کیا: میں نے پہاڑ پر یہ آواز سنی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیے گئے ہیں اور میں اس حال میں آیا گویا کہ میری روح نکل رہی ہے، میں نے پوچھا: عتبہ کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا: ”فلاں طرف ہے۔“ میں اس کی طرف گیا یہاں تک کہ میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے اسے تلوار ماری، پس میں نے اس کا سر اتار دیا۔ پھر میں نے اس کا سر اور اس کا سامان اور اس کا گھوڑا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے دے دیا اور میرے لیے دعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْكَ» ”اللہ تجھ سے راضی ہو، اللہ تجھ سے راضی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12770]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 12771
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَعُثْمَانَ بْنِ يَهُوذَا، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالُوا: فَذَكَرَ قِصَّةَ الْخَنْدَقِ، وَقَتْلَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجْهُهُ يَتَهَلَّلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" هَلَّا اسْتَلَبْتَ دِرْعَهُ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلْعَرَبِ دِرْعٌ خَيْرٌ مِنْهَا"، فَقَالَ:" ضَرَبْتُهُ فَاتَّقَانِي بِسَوَادِهِ فَاسْتَحْيَيْتُ ابْنَ عَمِّي أَنْ أَسْتَلِبَهُ".
محمد بن کعب اور عثمان بن یہودا نے اپنی قوم کے لوگوں سے بیان کیا، انہوں نے کہا: پس خندق کا قصہ ذکر کیا اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا عمرو بن عبد کو مارنے کا، پھر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے اور ان کا چہرہ چمک رہا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے کیوں نہ اسے ہلاک کر کے اس کی زرہ لی، وہ عرب کی سب سے بہترین زرہ تھی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے مارا، وہ ڈر کر اپنے لشکر کی طرف گیا، مجھے شرم آئی کہ اس کی زرہ لے لوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12771]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12772
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي حِصْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ حِينَ خَنْدَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ صَفِيَّةُ:" فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مَنْ يَهُودَ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ، فَقُلْتُ لِحَسَّانَ: إِنَّ هَذَا ⦗٥٠٣⦘ الْيَهُودِيَّ يُطِيفُ بِالْحِصْنِ كَمَا تَرَى، وَلَا آمَنُهُ أَنْ يَدُلَّ عَلَى عَوْرَتِنَا، فَانْزِلْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ"، فَقَالَ: يَغْفِرُ اللهُ لَكِ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَاللهِ لَقَدْ عَرَفْتِ مَا أَنَا بِصَاحِبِ هَذَا، قَالَتْ صَفِيَّةُ:" فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ احْتَجَزْتُ وَأَخَذْتُ عَمُودًا، ثُمَّ نَزَلْتُ مِنَ الْحِصْنِ إِلَيْهِ فَضَرَبْتُهُ بِالْعَمُودِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْحِصْنِ فَقُلْتُ: يَا حَسَّانُ، انْزِلْ فَاسْتَلِبْهُ؛ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَسْتَلِبَهُ إِلَّا أَنَّهُ رَجُلٌ"، فَقَالَ: مَا لِي بِسَلَبِهِ مِنْ حَاجَةٍ يَا بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ میں تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودی تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس سے یہودیوں کا ایک آدمی گزرا، وہ قلعہ کے اردگرد گھوم رہا تھا، میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ یہودی قلعہ کے اردگرد گھوم رہا ہے، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اور مجھے اس سے امن نہیں ہے کہ وہ ہماری عورتوں کا پتہ بتائے گا، پس آپ اتریں اور اسے قتل کر دیں، حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عبدالمطلب کی بیٹی! اللہ تجھے معاف کرے، اللہ کی قسم! تم نے (میرا حال) پہچان لیا ہے، لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب حسان رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو میں نے خود تیاری کی اور لکڑی پکڑی، پھر میں قلعہ سے (نکل کر) اس کی طرف بڑھی اور اسے مارتی رہی یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں واپس پلٹی اور میں نے حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور اس کا سامان لے آئیے، مجھے لانے سے صرف یہ چیز روکتی ہے کہ وہ ایک (نامحرم) آدمی ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنت عبدالمطلب! مجھے اس مال کی کوئی ضرورت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12772]
تخریج الحدیث: «حسن۔ حاكم 6969»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12773
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، مِثْلَهُ. وَزَادَ فِيهِ قَالَ: هِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ قَتَلَتْ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ.
اس روایت میں یہ زیادتی ہے کہ وہ پہلی عورت تھی جس نے مشرکوں کے آدمی کو قتل کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12773]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12774
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ يَوْمَ قُرَيْظَةَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قِمْ يَا زُبَيْرُ"، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاحِدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهُمَا عَلَا عَلَى صَاحِبِهِ قَتَلَهُ"، فَعَلَاهُ الزُّبَيْرُ فَقَتَلَهُ، فَنَفَّلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: قریظہ کے دن ایک یہودی نے کہا: کون مقابلہ کرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! اٹھو۔“ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا اکلوتا (بیٹا)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں میں سے جو اپنے مد مقابل پر غالب آ گیا وہ اسے قتل کر دے گا۔“ پس زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر غلبہ پا لیا اور اسے قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کا سامان دیا۔
یہ روایت مرسل ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12774]
یہ روایت مرسل ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12774]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12775
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" أُصِيبَ بِهَا، يَعْنِي فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَغَنِمَ الْمُسْلِمُونَ بَعْضَ أَمْتِعَةِ الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ مِمَّا غَنِمُوا خَاتَمًا جَاءَ بِهِ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَتَلْتُ صَاحِبَهُ يَوْمَئِذٍ، فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: غزوہ موتہ میں کچھ مسلمان شہید ہوئے اور مسلمانوں نے مشرکوں کا کچھ سامان غنیمت میں حاصل کیا، اس غنیمت میں سے ایک انگوٹھی تھی، جسے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، اس نے کہا: میں نے اس دن اس کے مالک کو قتل کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی اسے دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12775]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا هِشَامٌ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" بَارَزَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ فَقَتَلَهُ، فَنَفَّلَهُ سَيْفَهُ وَتُرْسَهُ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جنگِ موتہ میں ایک آدمی سے مبارزت کی، عقیل رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی تلوار اور ڈھال دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12776]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12777
قَالَ: وَحَدَّثَنَا تَمْتَامٌ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ النَّحَّاسُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَوْ هُوَ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ، قَالَ:" بَارَزَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ، فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ وَتُرْسَهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ عقیل رضی اللہ عنہ نے موتہ میں ایک آدمی سے مبارزت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیل رضی اللہ عنہ کو اس کی تلوار اور ڈھال دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12777]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12778
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَتَلَ رَجُلًا يَوْمَ مُؤْتَةَ فَأَصَابَ عَلَيْهِ خَاتَمًا فِيهِ فَصٌّ أَحْمَرُ فِيهِ تِمْثَالٌ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ:" لَوْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ تِمْثَالٌ"، قَالَ: ثُمَّ نَفَّلَهُ إِيَّاهُ قَالَ: فَهُوَ عِنْدَنَا. هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ لَهُ أَصْلٌ، وَجَابِرٌ الَّذِي رَوَى عَنْهُ أَبُو خَيْثَمَةَ هُوَ الْحَنَفِيُّ، وَالَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ عَقِيلٍ هُوَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَاخْتَلَفُوا فِي قَاتِلِ مَرْحَبٍ. مِنْهُمْ مَنْ قَالَ: قَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: قَتَلَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
جابر (حنفی) کہتے ہیں: مجھے بنی ہاشم کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے موتہ میں ایک آدمی کو قتل کیا، انہیں اس کی انگوٹھی ملی جس میں سرخ رنگ کا نگینہ لگا ہوا تھا، اس میں صورت بنی ہوئی تھی، وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! اس میں صورت نہ ہوتی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (عقیل) دے دی۔ اس نے کہا: وہ (انگوٹھی) ہمارے پاس ہے۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کی اصل ہے، اور جس جابر سے ابوخیثمہ نے روایت کی ہے وہ حنفی ہیں اور جس سے ابن عقیل نے روایت کی ہے وہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: مرحب کے قتل میں انہوں نے اختلاف کیا ہے، بعض نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اور بعض نے کہا: محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12778]
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کی اصل ہے، اور جس جابر سے ابوخیثمہ نے روایت کی ہے وہ حنفی ہیں اور جس سے ابن عقیل نے روایت کی ہے وہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: مرحب کے قتل میں انہوں نے اختلاف کیا ہے، بعض نے کہا: علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اور بعض نے کہا: محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12778]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف