🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2703. -- باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء
-- باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13079
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَهِدْتُ حِلْفًا إِلَّا حِلْفَ قُرَيْشٍ مِنْ حِلْفِ الْمُطَيَّبِينَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ وَأَنِّي كُنْتُ نَقَضْتُهُ" وَالْمُطَيَّبُونَ: هَاشِمٌ، وَأُمَيَّةُ، وَزُهْرَةُ، وَمَخْزُومٌ. قَالَ الشَّيْخُ: لَا أَدْرِي هَذَا التَّفْسِيرَ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ مَنْ دُونَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ إِنَّمَا قِيلَ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّهُمْ غَمَسُوا أَيْدِيَهِمْ فِي طِيبٍ يَوْمَ تَحَالَفُوا وَتَصَافَقُوا بِإِيمَانِهِمْ، وَذَلِكَ حِينَ وَقَعَ التَّنَازُعُ بَيْنَ عَبْدِ مَنَافٍ وَبَنِي عَبْدِ الدَّارِ فِيمَا كَانَ بِأَيْدِيهِمْ مِنَ السِّقَايَةِ وَالْحِجَابَةِ وَالرِّفَادَةِ وَاللِّوَاءِ وَالنَّدْوَةِ، فَكَانَ بَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى فِي جَمَاعَةٍ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ تَبَعًا لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، فَكَانَ لَهُمْ بِذَلِكَ شَرَفٌ وَفَضِيلَةٌ وَصَنِيعَةٌ فِي بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ. وَقَدْ سَمَّاهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فَقَالَ: الْمُطَيَّبُونَ مِنْ قَبَائِلِ قُرَيْشٍ: بَنُو ⦗٥٩٦⦘ عَبْدِ مَنَافٍ؛ هَاشِمٌ، وَالْمُطَّلِبُ، وَعَبْدُ شَمْسٍ وَنَوْفَلٌ، وَبَنُو زُهْرَةَ وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، وَبَنُو تَيْمٍ، وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ، خَمْسُ قَبَائِلَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُمْ حِلفٌ مِنَ الْفُضُولِ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی معاہدے میں شریک نہیں ہوا سوائے قریش کے معاہدے حلف المطیبین کے، اور میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے بدلے میرے لیے سرخ اونٹ ہوں اور میں نے اسے توڑ دیا ہو۔“ اور «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ ہاشم، امیہ، زہرہ اور مخزوم ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ تفسیر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے یا ان سے نیچے کسی راوی کا۔ شیخ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اسے «حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ» ”حلف المطیبین“ کہا گیا؛ اس لیے کہ جس دن انہوں نے معاہدہ کیا تھا، اس دن انہوں نے اپنے ہاتھ خوشبو میں ڈبوئے تھے اور انہوں نے قسمیں کھائی تھیں اور یہ اس وقت ہوا تھا جب بنی عبدمناف اور بنی عبدالدار کے درمیان تنازع تھا، جو ان میں سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانا)، حجابہ (کعبہ کی دربانی)، رفادہ (حاجیوں کی میزبانی)، جھنڈا اور دار الندوہ کے بارے میں ہوا تھا، پس قریش کے قبائل میں سے بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنی عبد مناف کے تابع تھے۔ ان کے لیے اس وجہ سے بنی عبد مناف میں شرف اور فضیلت تھی اور تحقیق محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان کا نام لیا، پس کہا: «الْمُطَيَّبُونَ» ”مطیبون“ قریش کے قبائل تھے؛ بنو عبدمناف سے ہاشم اور مطلب، عبدشمس، نوفل، بنو زہرہ، بنو اسد بن عبدالعزیٰ، بنو تیم اور بنو حارث بن فہر پانچ قبائل تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: بعض نے کہا کہ وہ حلف الفضول والا معاہدہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13079]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13080
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ، وَلَوْ أُدْعَى بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ" قَالَ الْقُتَيْبِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: وَكَانَ سَبَبُ الْحِلْفِ أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَتَظَالَمُ بِالْحَرَمِ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جُدْعَانَ وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَعَاهُمْ إِلَى التَّحَالُفِ عَلَى التَّنَاصُرِ، وَالْأَخْذِ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ، فَأَجَابَهُمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَعْضُ الْقَبَائِلِ مِنْ قُرَيْشٍ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ سَمَّاهُمُ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بْنُو هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَبَنُو أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَبَنُو زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ، وَبَنُو تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: فَتَحَالَفُوا فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ، فَسَمَّوْا ذَلِكَ الْحِلْفَ حِلْفَ الْفُضُولِ تَشْبِيهًا لَهُ بِحِلْفٍ كَانَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ جُرْهُمٍ عَلَى التَّنَاصُفِ وَالْأَخْذِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ، وَلِلْغَرِيبِ مِنَ الْقَاطِنِ، قَامَ بِهِ رِجَالٌ مِنْ جُرْهُمٍ يُقَالُ لَهُمُ: الْفَضْلُ بْنُ الْحَارِثِ، وَالْفَضْلُ بْنُ وَدَاعَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ فَضَالَةَ، فَقِيلَ حِلْفُ الْفُضُولِ جَمْعًا لِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ. قَالَ غَيْرُ الْقُتَيْبِيِّ فِي أَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ: فَضْلٌ وَفَضَالٌ وَفُضَيْلٌ وَفَضَالَةُ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: وَالْفُضُولُ جَمْعُ فَضْلٍ، كَمَا يُقَالُ: سَعْدٌ وَسُعُودٌ، وَزَيْدٌ وَزُيُودٌ، وَالَّذِي فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ. قَالَ الْقُتَيْبِيُّ: أَحْسِبُهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ؛ لِلْحَدِيثِ الْآخَرِ، وَلِأَنَّ الْمُطَيَّبِينَ هُمُ الَّذِينَ عَقَدُوا حِلْفَ الْفُضُولِ. قَالَ: وَأِيُّ فَضْلٍ يَكُونُ فِي مِثْلِ التَّحَالُفِ الْأَوَّلِ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أُحِبُّ أَنْ أَنْكُثَهُ وَأَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ" وَلَكِنَّهُ أَرَادَ حِلْفَ الْفُضُولِ الَّذِي عَقَدَهُ الْمُطَيَّبُونَ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ: قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالسِّيَرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ: إِنَّ قَوْلَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حِلْفُ الْمُطَيَّبِينَ، غَلَطٌ، إِنَّمَا هُوَ حِلْفُ الْفُضُولِ؛ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُدْرِكْ حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَدِيمًا قَبْلَ أَنْ يُولَدَ بِزَمَانٍ، ⦗٥٩٧⦘ وَأَمَّا السَّابِقَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا فَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهَا سَابِقَةَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى الْإِسْلَامِ؛ فَإِنَّهَا أَوَّلُ امْرَأَةٍ أَسْلَمَتْ.
طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ایک معاہدے میں شریک ہوا، مجھے پسند نہیں کہ اس کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹ ملیں، اور اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔“ قتیبی کہتے ہیں: اس معاہدے کا سبب یہ تھا کہ قریش حرم میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے تھے، تو عبداللہ بن جدعان اور زبیر بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور مظلوم کا حق ظالم سے لینے کے معاہدے کی دعوت دی، تو بنو ہاشم اور قریش کے بعض قبائل نے ان دونوں کی بات مان لی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن اسحاق بن یسار نے ان کے نام ذکر کیے ہیں، کہتے ہیں: بنو ہاشم بن عبد مناف، بنو مطلب بن عبد مناف، بنو اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، بنو زہرہ بن کلاب اور بنو تیم بن مرہ۔
قتیبی کہتے ہیں: انہوں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں معاہدہ کیا اور اس معاہدے کا نام حلف الفضول رکھا، اسے اس معاہدے سے تشبیہ دیتے ہوئے جو جرہم کے زمانے میں مکہ میں انصاف کرنے، کمزور کا حق طاقتور سے اور پردیسی کا حق مقامی سے لے کر دینے پر ہوا تھا، اسے جرہم کے کچھ لوگوں نے قائم کیا تھا جنہیں فضل بن حارث، فضل بن وداعہ اور فضل بن فضالہ کہا جاتا تھا، تو ان کے ناموں کو جمع کرتے ہوئے اسے حلف الفضول کہا گیا۔ قتیبی کے علاوہ دوسروں نے ان کے نام فضل، فضال، فضیل اور فضالہ بتائے ہیں۔ قتیبی کہتے ہیں: فضول، فضل کی جمع ہے، جیسے کہا جاتا ہے: سعد اور سعود، زید اور زیود۔ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں حلف المطیبین ہے۔ قتیبی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے، دوسری حدیث کی وجہ سے، اور اس لیے کہ مطیبین ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حلف الفضول کا معاہدہ کیا تھا۔ کہتے ہیں: پہلے معاہدے جیسے معاہدے میں کون سی فضیلت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں: ”مجھے پسند نہیں کہ میں اسے توڑوں، اگرچہ مجھے سرخ اونٹ ملیں“؟ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حلف الفضول ہے جسے مطیبین نے طے کیا تھا۔ محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیرت اور لوگوں کی تاریخ کے بعض ماہرین نے کہا ہے کہ اس حدیث میں حلف المطیبین کہنا غلطی ہے، وہ حلف الفضول ہی ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف المطیبین کا زمانہ نہیں پایا، کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بہت پہلے ہوا تھا۔ اور جس سبقت کا ذکر کیا گیا ہے، ممکن ہے اس سے مراد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اسلام میں سبقت کرنا ہو، کیونکہ وہ سب سے پہلے اسلام لانے والی عورت تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13080]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13081
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:" كَانَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوَّلَ مَنْ آمَنَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
زہری سے روایت ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں میں سے پہلی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13081]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13082
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنا صَدَقَةُ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"" خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ"" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيِّ عَنْ عَبْدَةَ. وَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِالسَّابِقَةِ سَابِقَةَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ؛ فَإِنَّهُ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، مِمَّنْ تَقَدَّمَ إِسْلَامُهُ..
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنت عمران ہیں اور اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے بہتر خدیجہ بنت خویلد ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13082]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3432۔ مسلم 2430»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13083
حَدَّثَنَا بِهَذَا النَّسَبِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
یہ روایت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13083]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13084
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ. قَالَ عُرْوَةُ: وَنُفِخَتْ نَفْخَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخِذَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ، وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَعَهُ السَّيْفُ، فَمَنْ رَآهُ مِمَّنْ لَا يَعْرِفُهُ قَالَ: الْغُلَامُ مَعَهُ السَّيْفُ، حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ يَا زُبَيْرُ؟" قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّكَ أُخِذْتَ، قَالَ:" فَكُنْتَ صَانِعًا مَاذَا؟" قَالَ: كُنْتُ أَضْرِبُ بِهِ مَنْ أَخَذَكَ، قَالَ: فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِسَيْفِهِ وَكَانَ أَوَّلَ سَيْفٍ سُلَّ فِي سَبِيلِ اللهِ.
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اسلام لائے، وہ آٹھ برس کے تھے، عروہ رحمہ اللہ نے کہا: شیطان نے مشہور کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پکڑ لیے گئے ہیں، پس سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نکلے اور وہ بارہ برس کے تھے، ان کے پاس تلوار تھی جو بھی دیکھتا، پہچانتا نہ تھا اور کہتا: بچے کے پاس تلوار ہے یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے زبیر! تجھے کیا ہے؟“ عرض کیا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کو پکڑ لیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تو کیا کرے گا؟“ عرض کیا: میں اس کی گردن اتار دوں گا، جس نے آپ کو پکڑا ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اور ان کی تلوار کے لیے دعا کی اور وہ پہلی تلوار تھی جو اسلام میں سونتی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13084]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13085
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِيِّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قُتَيْبَةَ الْغَنَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الْحَمَّارُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي ⦗٥٩٨⦘ بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيِّيَ الزُّبَيْرُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي وَحَوَارِيِّيَ مِنْ أَهْلِي".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن کہا: ”کون میرے پاس قوم کی خبر لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کہا: ”کون میرے پاس قوم کی خبر لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کہا: ”کون میرے پاس قوم کی خبر لائے گا؟“ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“
(ب) جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبیر میری پھوپھی کے بیٹے اور میرے اہل میں میرے حواری ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2425»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13086
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ. وَيُشْبِهُ أَنْ يُرِيدَ بِهَذِهِ السَّابِقَةِ صَبْرَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَمُبَايَعَتَهُمْ إِيَّاهُ عَلَى الْمَوْتِ.
ہشام سے (پچھلی روایت کی طرح) منقول ہے۔ ممکن ہے کہ اس سبقت سے مراد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ڈٹے رہنا اور ان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کرنا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13086]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13087
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" يَا بُنِيَّ، إِنَّ أَبَاكَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ".
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بیٹے! تیرا باپ (زبیر رضی اللہ عنہ) ان لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو مصیبت پہنچنے کے بعد جواب دیا ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [سورة آل عمران: 172] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13087]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13088
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا ابْنَ أُخْتِي، كَانَ أَبَوَاكَ، تَعْنِي الزُّبَيْرَ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ، قَالَتْ: لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ أُحُدٍ وَأَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ مَا أَصَابَهُمْ، خَافَ أَنْ يَرْجِعُوا، فَقَالَ:" مَنْ يَنْتَدِبُ لِهَؤُلَاءِ فِي آثَارِهِمْ حَتَّى يَعْلَمُوا أَنَّ بِنَا قُوَّةً؟" قَالَ: فَانْتَدَبَ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ فِي سَبْعِينَ، فَخَرَجُوا فِي آثَارِ الْقَوْمِ فَسَمِعُوا بِهِمْ، وَانْصَرَفُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ، قَالَتْ: لَمْ يَلْقَوْا عَدُوًّا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ. وَأَمَّا زُهْرَةُ فَإِنَّهُ كَانَ أَخًا لِقُصِيِّ بْنِ كِلَابٍ، وَمِنْ أَوْلَادِهِ مِنَ الْعَشَرَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ.
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: ”اے میری بہن کے بیٹے! تیرے دونوں باپ زبیر اور ابوبکر رضی اللہ عنہما ﴿ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے مصیبت کے وقت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تھا﴾ [سورة آل عمران: 172] ۔“ کہا: جب احد کے دن مشرکین پھر کٹے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو جو تکلیفیں پہنچیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرے کہ وہ پھر نہ لوٹ آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون کون ان کا پیچھا کرنے کی تیاری کرے گا، حتیٰ کہ وہ جان لیں کہ ہمارے پاس قوت ہے؟“ پس ابوبکر اور زبیر رضی اللہ عنہما ان ستر آدمیوں میں تھے جو ان کے پیچھے گئے۔ انہوں نے ان کی خبر سنی اور اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹ آئے۔ کہا: وہ دشمن کو نہیں ملے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13088]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں