السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2703. -- باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء
-- باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
حدیث نمبر: 13089
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ:" عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ زُهْرَةَ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصِ بْنِ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ".
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں حاضر ہوئے وہ بنی زہرہ بن کلاب بن مرہ، عبدالرحمن بن عوف بن عبد عوف بن الحارث بن زہرہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13089]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13090
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: جَاءَ سَعْدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، مَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ" وَأَمَّا تَيْمٌ فَإِنَّهُ كَانَ أَخًا لِكِلَابٍ، وَأَمَّا مَخْزُومٌ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَخًا لَهُمْ، وَإِنَّمَا هُوَ مَخْزُومُ بْنُ يَقَظَةَ بْنِ مُرَّةَ، إِلَّا أَنَّ الْقَبِيلَةَ اشْتُهِرَتْ بِمَخْزُومٍ فَنُسِبَتْ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا قَدَّمَ بَنِي تَيْمٍ عَلَى بَنِي مَخْزُومٍ؛ لِأَنَّهُمْ كَانُوا مِنْ حِلْفِ الْفُضُولِ وَالْمُطَيَّبِينَ..
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کون ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعد بن مالک بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ، جس نے اس کے علاوہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو۔“ رہے تیم تو وہ کلاب کے بھائی ہیں اور مخزوم ان کا بھائی نہیں تھا اور وہ مخزوم بن یقظہ بن مرہ ہیں مگر قبیلہ مخزوم مشہور ہو گیا، پس وہ اسی سے منسوب ہو گیا اور بنی تیم کو بنو مخزوم پر اس لیے مقدم کیا گیا کہ وہ حلف الفضول اور مطیبین میں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13090]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13091
وَقِيلَ ذَكَرَ سَابِقَةً، يُرِيدُ سَابِقَةَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ فَإِنَّهُ أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤِيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرٍ.
ایک قول ہے کہ جو مسابقت کا ذکر ہے، وہ مسابقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے؛ ابوبکر عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13091]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13092
حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَ هَذَا النَّسَبَ..
امام زہری رحمہ اللہ نے اس نسب کو ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13092]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13093
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَتِيقٌ بَدَلَ عَبْدِ اللهِ، ثُمَّ قَالَ: وَعَتِيقٌ لَقَبٌ، وَاسْمُهُ عَبْدُ اللهِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ الْأَحْرَارِ.
امام زہری رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ «عَتِیق» عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بدل ہے، پھر کہا: «عَتِیق» لقب ہے اور «عَبْدُ اللہ» نام ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ آزاد آدمیوں میں سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13093]
شیخ فرماتے ہیں: وہ آزاد آدمیوں میں سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13093]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13094
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ:" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کے ساتھ پانچ غلام، دو عورتیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13094]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3660»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ، فَذَكَرَ دُخُولَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ:" أُدْعَى نَبِيًّا"، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ:" أَرْسَلَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى"، فَقُلْتُ: بِأِيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ؟، فَقَالَ:" أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ لَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ"، قُلْتُ لَهُ: فَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ:" حُرٌّ وَعَبْدٌ"، قَالَ: وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ میں آئے، میں نے کہا: آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے نبی کہتے ہیں“، میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے“۔ میں نے کہا: کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے صلہ رحمی، بتوں کو توڑنے اور یہ کہ توحید کا اقرار کیا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے“۔ میں نے کہا: کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد اور غلام کے ساتھ“۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دن سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما تھے جو آپ پر ایمان لائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 832»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13096
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ؟ فَقَالَ:"" أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ حَسَّانَ:.
مالک بن مغول ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا، پہلے کون ایمان لایا تھا؟ انھوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ کیا تو نے حسان کا قول سنا ہے:
جب تو میرے بااعتماد بھائی سے غم کو یاد کرے تو اپنے بھائی ابوبکر کے ان کارناموں کو یاد کر جو اس نے سر انجام دیے۔
مخلوق میں سب سے بہترین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ وفادار، عادل اور بوجھ کا سب سے زیادہ لائق جو اس نے اٹھایا وہ یارِ غار تھے یعنی ایسی جگہ پر حاضر تھے جس کی تعریف کی گئی ہے اور لوگوں میں سے سب سے پہلا جس نے رسولوں کی تصدیق کی اللہ کے امر کی تعریف کرتے ہوئے اور گزرنے والے دوست کی سیرت اور فرامین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ بات ایسے معلوم ہوتی ہے کہ بنی تیم میں مسابقت سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ بھی تیمی ہیں، ان کا نسب نامہ طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13096]
جب تو میرے بااعتماد بھائی سے غم کو یاد کرے تو اپنے بھائی ابوبکر کے ان کارناموں کو یاد کر جو اس نے سر انجام دیے۔
مخلوق میں سب سے بہترین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ وفادار، عادل اور بوجھ کا سب سے زیادہ لائق جو اس نے اٹھایا وہ یارِ غار تھے یعنی ایسی جگہ پر حاضر تھے جس کی تعریف کی گئی ہے اور لوگوں میں سے سب سے پہلا جس نے رسولوں کی تصدیق کی اللہ کے امر کی تعریف کرتے ہوئے اور گزرنے والے دوست کی سیرت اور فرامین پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ بات ایسے معلوم ہوتی ہے کہ بنی تیم میں مسابقت سے مراد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ بھی تیمی ہیں، ان کا نسب نامہ طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13096]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13097
حَدَّثَنَا بِهَذَا النَّسَبِ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَهُ. وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ الزُّهْرِيُّ وَغَيْرُهُ. صَبَرَ طَلْحَةُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَرَمَى مَالِكُ بْنُ زُهَيْرٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَاتَّقَى طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بِيَدِهِ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ خِنْصَرَهُ فَشَلَّتْ. ذَكَرَهُ الْوَاقِدِيُّ بِإِسْنَادِهِ.
زہری رحمہ اللہ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احد میں صبر کرنا ذکر کیا اور اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک بن زہیر کا پتھر مارنا۔ پس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر رکھا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی انگلی کو پتھر لگا وہ شل ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13097]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13098
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ ⦗٦٠١⦘ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ:" رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَلَّتْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں: میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دیکھا، جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بچایا تھا، وہ شل ہو چکا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13098]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3724»
الحكم على الحديث: صحيح