🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3030. -- باب: حق المرأة على الرجل
-- باب: مرد پر عورت کے حق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٤٨١⦘ إِسْحَاقَ، نا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ، اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ مِنَ الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ حُسَيْنٍ.
(١٤٧٢٢) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جب اس کے پاس کوئی معاملہ آئے تو بہتر بات کہے یا خاموش رہے۔ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت کو قبول کرو؛ کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سے سب سے ٹیڑھی پسلی اوپر والی ہے۔ اگر آپ اس کو سیدھا کرنا چاہیں گئے تو توڑ ڈالیں گے اور اگر اس کو چھوڑ دیں گے تو ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14722]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14723
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَا: نا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ وَبِهَا عِوَجٌ، وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
(١٤٧٢٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے آپ ہرگز اس کو سیدھا نہیں کرسکتے۔ اگر آپ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اس کے ٹیڑھے پن کے ہوتے ہوئے فائدہ اٹھاؤ۔ اگر آپ کو سیدھا کرنا چاہیں گے تو توڑ ڈالیں گے اور اس کا توڑنا طلاق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14723]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14724
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبِي، نا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ قَالَ:" فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
(١٤٧٢٤) حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کے قصہ اور آپ کے عرفہ میں خطبہ دینے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈر جاؤ، کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امانت سمجھ کرلیا ہے اور نکاح کے ذریعے تم نے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے اور بیشک تمہارا ان کے ذمے یہ حق ہے کہ جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور تمہارے بستر پر کبھی نہ آئیں۔ اگر وہ عورتیں ایسا کریں تو ان کو نہ ظاہر ہونے والی مار مارو اور عورتوں کا حق تمہارے ذمے یہ ہے ان کو کھلانا اور اچھائی کے ساتھ پہننا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14724]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14725
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، نا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ، نا سُفْيَانُ لَفْظًا عَنْ دَاوُدَ الْوَرَّاقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رُفِعْتُ إِلَيْهِ قَالَ:" أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُعَيِّنِّي عَلَيْكُمْ بِالسُّنَّةِ نُخِيفُكُمْ وَبِالرُّعْبِ أَنْ يَجْعَلَهُ فِي قُلُوبِكُمْ" قَالَ: فَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا أَمَا إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ هَكَذَا وَهَكَذَا أَنْ لَا أُؤْمِنَ بِكَ وَلَا أَتَّبِعَكَ فَمَا زَالَتِ السُّنَّةُ تُخِيفُنِي، وَالرُّعْبُ يُجْعَلُ فِي قَلْبِي حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ أَمَا لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَكَ أَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَكَ بِمَا تَقُولُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَهُوَ أَمَرَكَ بِمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَمَا تَقُولُ فِي نِسَائِنَا؟ قَالَ:" هُنَّ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَأَطْعِمُوهُنَّ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُنَّ مِمَّا تَكْسُونَ وَلَا تَضْرِبُوهُنَّ وَلَا تُقَبِّحُوهُنَّ" قَالَ: فَيَنْظُرُ أَحَدُنَا إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ إِذَا اجْتَمَعْنَا؟ قَالَ:" لَا" قَالَ: فَإِذَا تَفَرَّقْنَا؟ قَالَ: فَضَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى فَخِذَيْهِ إِلَى ⦗٤٨٢⦘ الْأُخْرَى ثُمَّ قَالَ:" اللهُ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَحْيُوا مِنْهُ"، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِمُ الْقُدَامُ فَأَوَّلُ مَا يَنْطِقُ مِنَ الْإِنْسَانِ كَفُّهُ وَفَخِذُهُ".
(١٤٧٢٥) سعید بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ رب العزت سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے خلاف میری مدد کرے، ایسی قحط سالی کے ذریعے جو تمہیں ہلاک کر دے اور ایسے رعب کر ذریعے جو تمہارے دلوں میں بیٹھ جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوا اور کہنے لگا: میں نے اس طرح قسم کھائی ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لاؤں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کروں گا کہ جب تک قحط سالی مجھے برباد کر دے اور میرے دل میں رعیب بیٹھ جائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا کیا جاؤں۔ کیا اللہ کی قسم! اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ رہے ہیں کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: جو آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں یہ اللہ نے آپ کو دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس نے کہا: آپ ہماری عورتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتی میں آؤ جیسے چاہو اور ان کو کھلاؤ جہاں سے تم کھاتے ہو اور ان کو پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور تم ان کو نہ مارو اور نہ برا بھلا کہو۔ اس نے کہا: جب ہم جمع ہوں تو کیا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اس نے کہا: جب ہم جدا جدا ہوں؟ تب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک ران پر دوسری ران کو رکھا اور فرمایا: اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے حیا کرو۔ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کیا جائے گا ان کے منہ بند کردیے جائیں گے تو انسان کے سب سے پہلے ہتھیلی اور ران کلام کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14725]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟ قَالَ:" أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى وَلَا يَهْجُرُ إِلَّا فِي الْبَيْتِ، وَلَا يَضْرِبُ الْوَجْهَ وَلَا يُقَبِّحُ".
(١٤٧٢٦) حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: عورت کا مرد پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس کو کھلائے جب کھائے اور اس کو پہنائے جب پہنے اور گھر کے اندر چھوڑ دے۔ چہرے پر نہ مارے اور نہ ہی برا بھلا کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14726]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو قِلَابَةَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُمْرَانَ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا أَبُو عَاصِمٍ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ آخَرَ" لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سِوَاهُ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى الْفَرْكُ الْبُغْضُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
(١٤٧٢٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن مرد مومنہ عورت سے بغض نہ رکھے۔ اگر وہ اس کی ایک عادت کو ناپسند کرتا ہے تو دوسری کو پسند کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14727]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1469»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَتَزَيَّنَ لِلْمَرْأَةِ كَمَا أُحِبُّ أَنْ تَزَّيَّنَ لِي؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ٢٢٨] وَمَا أُحِبُّ أَنْ تَسْتَطِفَّ جَمِيعَ حَقٍّ لِي عَلَيْهَا؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ} [البقرة: ٢٢٨] ".
(١٤٧٢٨) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ عورت کے لیے زینت اختیار کروں جیسا کہ مجھے پسند ہے کہ عورت میرے لیے زینت کرے۔ کیونکہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: { وَ لَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ } [البقرۃ ٢٢٨] اور ان عورتوں کے حقوق بھی ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان کے ذمے ہیں، اچھائی کے ساتھ ہیں پسند کرتا ہوں کہ سارے میرے حقوق عورت کے ذمہ ہوں، کیونکہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: { وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ} مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14728]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں