🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3031. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14729
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا إِسْحَاقُ، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قَوْلِهِ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] قَالَتْ:" نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَا يَسْتَكْثِرُ مِنْهَا فَيُرِيدُ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَيَتَزَوَّجَ ⦗٤٨٣⦘ غَيْرَهَا فَتَقُولُ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنَ النَّفَقَةِ وَالْقِسْمَةِ لِي، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا} الْآيَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
(١٤٧٢٩) ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اللہ کے اس فرمان: { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا } [النساء ١٢٨] کے متعلق فرماتی ہیں: یہ آیت ایسی عورت کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے خاوند سے زیادہ مال نہ مانگتی تھی لیکن بھر بھی خاوند اسے طلاق دے کر کسی دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا تو وہ کہتی: مجھے طلاق نہ دو اپنے پاس روکے رکھو اور آپ کو خرچے اور باری کی تقسیم میں اختیار ہے تو اللہ رب العزت نے فرمایا: { فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ} [النساء ١٢٨] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14729]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14730
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ،" أَنَّ ابْنَةَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ كَانَتْ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَكَرِهَ مِنْهَا أَمْرًا إِمَّا كِبَرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] الْآيَةَ".
(١٤٧٣٠) سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کی بیٹی رافع بن خدیج کے نکاح میں تھی تو انھیں اس کی کوئی عادت اچھی نہ لگی تکبر یا کوئی اور تھی۔ اس نے طلاق دینے کا ارادہ کرلیا۔ وہ کہنی لگیں: مجھے طلاق نہ دو اور میرے لیے اپنی مرضی سے باری تقسیم کرلینا تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل کی؟ { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا } [النساء ١٢٨] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14730]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14731
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ، وَنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ" أَنَّ السُّنَّةَ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا نُشُوزَ الْمَرْءِ وَإِعْرَاضَهُ عَنِ امْرَأَتِهِ فِي قَوْلِهِ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ أَنَّ الْمَرْءَ إِذَا نَشَزَ عَنِ امْرَأَتِهِ وَآثَرَ عَلَيْهَا فَإِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَيْهِ أَنْ يَعْرِضَ عَلَيْهَا أَنْ يُطَلِّقَهَا أَوْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَهُ عَلَى مَا كَانَتْ مِنْ أَثَرَةٍ فِي الْقَسَمِ مِنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَإِنِ اسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ عَلَى ذَلِكَ وَكَرِهَتْ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا آثَرَ عَلَيْهِمَا مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِضْ عَلَيْهَا الطَّلَاقَ وَصَالَحَهَا عَلَى أَنْ يُعْطِيَهَا مِنْ مَالِهِ مَا تَرْضَاهُ وَتَقَرُّ عِنْدَهُ عَلَى الْأَثَرَةِ فِي الْقَسَمِ مِنْ مَالِهِ وَنَفْسِهِ صَلُحَ لَهُ ذَلِكَ وَجَازَ صُلْحُهُمَا عَلَيْهِ" كَذَلِكَ ذَكَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانُ الصُّلْحَ الَّذِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} وَقَدْ ذُكِرَ لِي أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ تَزَوَّجَ عَلَيْهَا فَتَاةً شَابَّةً فَآثَرَ عَلَيْهَا الشَّابَّةَ فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً أُخْرَى ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا كَادَتْ تَحِلُّ رَاجَعَهَا ثُمَّ عَادَ فَآثَرَ الشَّابَّةَ عَلَيْهَا فَنَاشَدَتْهُ الطَّلَاقَ فَقَالَ: مَا شِئْتِ إِنَّمَا بَقِيَتْ لَكِ تَطْلِيقَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِنْ شِئْتِ اسْتَقْرَرْتِ عَلَى مَا تَرَيْنَ مِنَ الْأَثَرَةِ وَإِنْ شِئْتِ فَارَقْتُكِ، فَقَالَتْ: لَا بَلِ أَسْتَقِرُّ عَلَى الْأَثَرَةِ فَأَمْسَكَهَا عَلَى ذَلِكَ فَكَانَ ذَلِكَ صُلْحَهُمَا وَلَمْ يَرَ رَافِعٌ عَلَيْهِ إِثْمًا حِينَ رَضِيَتْ بِأَنْ تَسْتَقِرَّ عِنْدَهُ عَلَى الْأَثَرَةِ فِيمَا آثَرَ بِهِ عَلَيْهَا.
(١٤٧٣١) سعید بن مسیب اور سلمان بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دو آیات میں سنت طریقہ جو اللہ رب العزت نے مرد کی لڑائی اور اعراض عورت سے ذکر کیا ہے: { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا } [النساء ١٢٨] جب مرد اپنی بیوی سے لڑائی یا اس پر کسی کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ مرد کا حق ہے کہ اس سے اعراض کرے یا طلاق دے دے یا وہ اس کے پاس ٹھہری رہے اگرچہ وہ اپنے مال اور نفس میں کسی دوسری کو اس پر ترجیح دے۔ اگر عورت اس کے پاس رہنا چاہیے اور طلاق لینا پسند نہ کرے تو مرد کا کسی دوسری کو اس پر ترجیح دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر مرد طلاق نہ دے بلکہ عورت کو اتنا مال دینے پر رضا مند ہو، جتنا وہ لینا چاہے تو وہ عورت مال اور باری کی تقسم کی ترجیح میں اس کے پاس رہنا چاہتی ہے، دونوں کے درمیان صلح جائز ہے، ایسے ہی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار نے صلح کا تذکرہ کیا ہے: { فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ} [النساء ١٢٨] حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک عورت تھی، جب وہ بوڑھی ہوگئی تو انھوں نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کرلی۔ بوڑھی عورت نے طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع بن خدیج نے طلاق دے دی، پھر اس کو روکے رکھا جب حلال ہونے کے قریب ہوئی تو اس سے رجوع کرلیا، پھر نوجوان لڑکی کو رافع نے ان پر ترجیح دی تو اس نے دوبارہ طلاق کا مطالبہ کردیا تو رافع نے دوسری طلاق بھی دے دی۔ پھر روکے رکھا اور حلال ہونے کے قریب پھر رجوع کرلیا، پھر رافع نے نوجوان لڑکی کو ترجیح دی تو بوڑھی نے پھر طلاق کا مطالبہ کردیا، رافع فرمانے لگے: اب آخری موقع ہے اگر چاہو تو میں طلاق دے دیتا ہوں، اگر اس ترجیح پر باقی رہنا چاہو تو درست۔ وگرنہ جدا کردیتا ہوں تو اس بوڑھی نے اس پر ترجیح پر باقی رہنے کو پسند کرلیا۔ تو انھوں نے روکے رکھا، یہ ان دونوں کے درمیان صلح تھی۔ تو رافع نے اس ترجیح پر گناہ نہیں سمجھا جب وہ رہنے پر رضا مندی ہوگئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14731]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14732
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تُوُفِّيَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ".
(١٤٧٣٢) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں اور باری آٹھ کے لیے تقسیم کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14732]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14733
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا" غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ وَحِبَّانُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
(١٤٧٣٣) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی عورتوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو ساتھ لے جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ تمام عورتوں کے لیے باری تقسیم کرتے؛ کیونکہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی باری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا مندی کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ہبہ کردی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14733]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أَنْ كَبِرَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَهَا بِيَوْمِ سَوْدَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
(١٤٧٣٤) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ بوڑھی ہوگئیں تو انھوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہ کو ہبہ کردی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سودہ کا دن بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے لیے مقرر کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14734]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14735
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَظُنُّهُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَشِيَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ يُطَلِّقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ فَفَعَلَ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] قَالَ: فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ.
(١٤٧٣٥) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ ڈر گئیں کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انھیں طلاق نہ دے دیں تو کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے طلاق نہ دیں اور مجھے اپنے پاس رکھیں اور میرا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے لیے مقرر کرلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرلیا: { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا } [النساء ١٢٨] فرماتے ہیں کہ میاں بیوی کسی بات پر صلح کرلیں وہ جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14735]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14736
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أُنْزِلَ فِي سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَأَشْبَاهِهَا {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] وَذَلِكَ أَنَّ سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتِ امْرَأَةً قَدْ أَسَنَّتْ فَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَنَّتْ بِمَكَانِهَا مِنْهُ وَعَرَفَتْ مِنْ حُبِّ ⦗٤٨٥⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَمَنْزِلَتِهَا مِنْهُ فَوَهَبَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ مَوْصُولًا كَمَا سَبَقَ ذِكْرُهُ فِي أَوَّلِ كِتَابِ النِّكَاحِ.
(١٤٧٣٦) ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت سودہ رضی اللہ عنہ اور اس جیسی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی: { وَ اِنِ امْرَاَۃٌخَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا } [النساء ١٢٨] کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ ایسی عورت تھی جو بوڑھی ہوگئیں اور پریشان ہوئیں کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے جدا نہ کردیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اور ان کے مرتبہ اور مقام کو جانتی تھیں تو انھوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہبہ کردی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قبول کرلیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14736]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں