السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3079. -- باب: ما جاء في التخيير
-- باب: تخییر (عورت کو طلاق کا اختیار دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15020
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهَا حِينَ أَمَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ فَبَدَأَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ" وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوِيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: ٢٨] " إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوِيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ. زَادَ فِيهِ قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلْتُ ⦗٥٦٥⦘.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، جب اللہ رب العزت نے ان کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اختیار دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ابتدا کی اور فرمایا: ”میں آپ کے لیے ایک بات ذکر کرنے لگا ہوں لیکن آپ نے جلدی نہیں کرنی بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرنا ہے“، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے جدا ہونے کا حکم نہیں دیں گے۔ پھر فرمایا: اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ﴾ [سورة الأحزاب: 28] (مکمل دو آیتیں)۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا اس بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔
(ب) یونس، زہری سے نقل فرماتے ہیں: اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے ایسے ہی کہا تھا جیسے میں نے کہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15020]
(ب) یونس، زہری سے نقل فرماتے ہیں: اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے ایسے ہی کہا تھا جیسے میں نے کہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15020]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ بِزِيَادَتِهِ.
ابو سلمہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا گیا، انہوں نے اس کے ہم معنیٰ ذکر کیا ہے اور اس میں کچھ الفاظ کی زیادتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15021]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الْخِيَرَةِ فَقَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اختیار کے بارے میں سوال کیا، وہ فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا، تو یہ طلاق نہ تھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15022]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15023
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي، وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَكَانَ طَلَاقًا؟" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اپنی بیوی کو ایک مرتبہ اختیار دوں یا سو مرتبہ یا ہزار مرتبہ، جبکہ وہ مجھے اختیار کر چکی ہو، میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو وہ فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا، کیا یہ طلاق تھی؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15023]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15024
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَخْرَمُ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے اختیار کر لیا۔ یہ طلاق نہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15024]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15025
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَقُولَانِ:" إِذَا خَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اختیار دے اور بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اگر بیوی نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15025]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15026
قَالَ: وَنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي التَّخْيِيرِ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ⦗٥٦٦⦘.
طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اختیار کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ہی کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15026]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15027
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَبُو عَبَّادٍ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، نا عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْخِيَارَ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ سَأَلَنِي عَنِ الْخِيَارِ فَقُلْتُ:" إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَيْسَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهَا اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا فَلَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا مُتَابَعَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ"، فَلَمَّا خَلَصَ الْأَمْرُ إِلِيَّ وَعَلِمْتُ أَنِّي مَسْئُولٌ عَنِ الْفُرُوجِ أَخَذْتُ بِالَّذِي كُنْتُ أَرَى فَقَالُوا: وَاللهِ لَئِنْ جَامَعْتَ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ وَتَرَكْتَ رَأْيَكَ الَّذِي رَأَيْتَ إِنَّهُ لَأَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَمْرٍ تَفَرَّدْتَ بِهِ بَعْدَهُ، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَ زَيْدًا فَخَالَفَنِي وَإِيَّاهُ، فَقَالَ زَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
عیسیٰ بن عاصم، زاذان سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اختیار (بیوی کو طلاق کا فیصلہ سونپنے) کا ذکر کیا، پھر کہا کہ امیر المومنین نے مجھ سے اختیار کے بارے میں سوال کیا، میں نے کہا: اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو ایک طلاق کی وجہ سے جدا ہو جائے گی۔ اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے، لیکن خاوند عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس طرح نہیں بلکہ اگر عورت نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کے ذمے کچھ نہیں۔ اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے اور مجھے سیدنا امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب معاملہ خالص مجھ تک محدود ہوا اور میں نے جانا کہ مجھ سے شرمگاہوں (کی حلت و حرمت) کے متعلق سوال کیا جائے گا تو پھر میں نے اپنی رائے کو اختیار کیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی موافقت کرتے اور اپنی رائے کو چھوڑ دیتے تو یہ ہمیں اس سے زیادہ پسند تھا جس میں آپ منفرد ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: وہ ہنس پڑے، پھر انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی جانب کسی کو بھیجا تو اس نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس نے میری بھی اور ان کی بھی مخالفت کر دی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر بیوی اپنے آپ کو اختیار کر لے تو اس کو تین طلاقیں ہیں، اور اگر بیوی نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کو ایک طلاق ہے اور مرد بیوی کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15027]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15028
قَالَ: وَنا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ زَاذَانَ،، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَهُ.
زاذان، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15028]
حدیث نمبر: 15029
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أَحْمَدُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَجْعَتِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَتَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَهُوَ خَاطِبٌ مِنَ الْخُطَّابِ" قَالَ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ ثَلَاثٌ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَجْعَتِهَا، قَوْلُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُوَافِقٌ لِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْخِيَارِ وَبِهِ نَقُولُ لِمُوَافَقَتِهِ السُّنَّةَ الثَّابِتَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّخْيِيرِ وَمُوَافَقَتِهِ مَعْنَى السُّنَّةِ الْمَشْهُورَةِ عَنْ رُكَانَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَتَّةِ أَنَّهَا رَجْعِيَّةٌ إِذَا أَرَادَ بِهَا وَاحِدَةً، وَأَمَّا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ فَأَشْهَرُهَا مَا رَوَيْنَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو حَسَّانَ الْأَعْرَجُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عامر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اختیار دے اور اس نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو وہ ایک طلاق سے جدا ہو جائے گی اور وہ شخص نکاح کا پیغام دینے والوں میں سے ہو گا۔
(ب) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ تین طلاقیں ہیں۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آدمی اپنی بیوی کو اختیار دے اور بیوی اپنے خاوند کو اختیار کرے تو اس کے ذمہ کچھ نہیں۔ اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کرنے کا مالک ہے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول اختیار میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے موافق ہے اور یہی ہم کہتے ہیں، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اختیار کے بارے میں منقول ہے اور جو حدیثِ رکانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لفظ «الْبَتَّةَ» کے بارے میں ہے کہ جب وہ ایک کا ارادہ کرے گا تو ”یہ طلاق رجعی ہو گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15029]
(ب) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ تین طلاقیں ہیں۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آدمی اپنی بیوی کو اختیار دے اور بیوی اپنے خاوند کو اختیار کرے تو اس کے ذمہ کچھ نہیں۔ اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کرنے کا مالک ہے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول اختیار میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے موافق ہے اور یہی ہم کہتے ہیں، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اختیار کے بارے میں منقول ہے اور جو حدیثِ رکانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لفظ «الْبَتَّةَ» کے بارے میں ہے کہ جب وہ ایک کا ارادہ کرے گا تو ”یہ طلاق رجعی ہو گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15029]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح