السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3079. -- باب: ما جاء في التخيير
-- باب: تخییر (عورت کو طلاق کا اختیار دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15030
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَا: نا سَعِيدٌ، ⦗٥٦٧⦘ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا"، وَبِهِ كَانَ يَأْخُذُ قَتَادَةُ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ رِوَايَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِي أَنْفُسِهِمَا مُخَالِفَتَانِ لِمَا مَضَى.
ابو حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر عورت اپنے آپ کو اختیار کرتی ہے تو ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے اور اگر اس نے خاوند کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے اور خاوند عورت کا زیادہ حقدار ہے۔ یہی قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15030]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15031
إِحْدَاهُمَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مِخْوَلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ".
ابو جعفر، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: اگر عورت اپنے آپ کو اختیار کرلے تو ایک طلاق جدا کردینے والی ہے اور اگر عورت نے خاوند کو اختیار کرلیا تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15031]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15032
وَالْأُخْرَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو السَّفَرِ، عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ التَّخْيِيرِ، عَنْ رَجُلٍ خَيَّرَ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَقَالَ:" تَطْلِيقَةٌ وَزَوْجُهَا أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا" قُلْنَا: فَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا؟ قَالَ:" فَلَيْسَ بِشَيْءٍ" قُلْنَا: فَإِنَّ نَاسًا يَرْوُونَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَتَطْلِيقَةٌ وَزَوْجُهَا أَحَقُّ بِهَا أَيْ بِرَجْعَتِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَتَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَهِيَ أَمْلَكُ بِنَفْسِهَا"، قَالَ: هَذَا وَجَدُوهُ فِي الصُّحُفِ"، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَالصَّحِيحُ عَنْهُ مَا رَوَيْنَا.
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اور ابو سفر، ابو جعفر کے پاس گئے تو میں نے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو اختیار دیا تو بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا، فرماتے ہیں: یہ ایک طلاق ہے اور اس کا خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے، ہم نے کہا: اگر عورت خاوند کو اختیار کر لے تو؟ فرمایا: پھر اس کے ذمے کچھ بھی نہیں۔ ہم نے کہا: لوگ علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر عورت خاوند کو اختیار کرتی ہے تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے اور عورت اپنے نفس کی زیادہ مالک ہے۔ کہتے ہیں: یہ بات انہوں نے (لکھے ہوئے) صحیفوں میں پائی ہے لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح بات ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15032]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15033
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَفْلِحِي بِأَمْرِكِ أَوْ أَمْرُكِ لَكِ أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ مَسْرُوقٍ.
مسروق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہے: ”اپنے معاملے کا خود فیصلہ کر لے“ یا ”تیرا معاملہ تیرے سپرد“ یا اس شخص نے اس عورت کو اس کے گھر والوں کے لیے ہبہ کر دیا تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
اس روایت میں یہ بات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ مسروق کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15033]
اس روایت میں یہ بات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ مسروق کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15033]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15034
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَفْلِحِي بِأَمْرِكِ وَاخْتَارِي أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ".
یحییٰ بن وثاب رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”تیرا معاملہ تیرے سپرد“ اور ”تو اختیار کر“ یا اس نے اس کے گھر والوں کے لیے ہبہ کر دیا، تو یہ ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15034]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15035
قَالَ: وَثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: وَسَأَلْتُ سُفْيَانَ فَقَالَ: هُوَ عَنْ مَسْرُوقٍ يَعْنِي أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللهِ مَا سَبَقَ ذِكْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ مَرْفُوعًا إِلَى عَبْدِ اللهِ فِي الْهِبَةِ فَقَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا.
شریک، ابوحصین سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہبہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”انہوں نے اس کو قبول کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور مرد، عورت کا زیادہ حق دار ہے۔“
سفیان نے کہا: یہ مسروق کا قول ہے (یعنی انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نہیں کہا)، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح وہی ہے جو پہلے ذکر ہو چکا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15035]
سفیان نے کہا: یہ مسروق کا قول ہے (یعنی انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نہیں کہا)، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح وہی ہے جو پہلے ذکر ہو چکا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15035]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15036
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قُرَيْبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ فَزَوَّجُوهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالُوا: مَا زَوَّجَنَا إِلَّا عَائِشَةُ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَجَعَلَ أَمْرَ قُرَيْبَةَ بِيَدِ قُرَيْبَةَ فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا".
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قریبہ بنت ابی امیہ کو عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لیے نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے ان کا نکاح کر دیا۔ پھر انہوں نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ڈانٹا، انہوں نے کہا کہ ہم نے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر نکاح کیا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور یہ بات ذکر کی تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے قریبہ کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا تو قریبہ نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا، یہ طلاق نہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15036]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح