السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3175. -- باب: ما جاء في أكثر الحمل
-- باب: مدتِ حمل کی زیادہ سے زیادہ مقدار کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15552
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" مَا تَزِيدُ الْمَرْأَةُ فِي الْحَمْلِ عَلَى سَنَتَيْنِ وَلَا قَدْرَ مَا يَتَحَوَّلُ ظِلُّ عُودِ الْمِغْزَلِ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ”عورت حمل میں دو سال سے زیادہ وقت نہیں گزارتی، اور وہ تکلے کی لکڑی کے سائے کے گھومنے کی مقدار کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15552]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15553
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ، نا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: إِنِّي حُدِّثْتُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" لَا تَزِيدُ الْمَرْأَةُ عَلَى حَمْلِهَا عَلَى سَنَتَيْنِ قَدْرَ ظِلِّ الْمِغْزَلِ" فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَنْ يَقُولُ هَذَا هَذِهِ جَارَتُنَا امْرَأَةُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ امْرَأَةُ صِدْقٍ وَزَوْجُهَا رَجُلُ صِدْقٍ حَمَلَتْ ثَلَاثَةَ أَبْطُنٍ فِي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً تَحْمِلُ كُلَّ بَطْنٍ أَرْبَعَ سِنِينَ.
ولید بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ سے کہا: مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا: عورت اپنے حمل پر دو سال سے زیادہ تکلے کے سائے کے برابر مقدار بھی زیادہ نہ کرے۔ تو امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ یہ بات کون کہتا ہے؟ یہ ہماری ہمسائی لڑکی محمد بن عجلان کی بیوی سچی عورت ہے اور اس کا خاوند بھی سچا آدمی ہے۔ یہ بارہ سالوں میں تین بار حاملہ ہوئی اور ہر حمل اس کے پیٹ میں چار سال رہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15553]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15554
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، ح قَالَ: وَنا عَلِيٌّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ شَدَّادِ بْنِ دَاوُدَ الْمُخَرِّمِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، نا أَبِي، نا الْمُبَارَكُ بْنُ مُجَاهِدٍ قَالَ:" مَشْهُورٌ عِنْدَنَا امْرَأَةُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ تَحْمِلُ وَتَضَعُ فِي أَرْبَعِ سِنِينَ وَكَانَتْ تُسَمَّى حَامِلَةَ الْفِيلِ".
مبارک بن مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے ہاں مشہور ہو گیا کہ محمد بن عجلان رحمہ اللہ کی بیوی نے اپنے حمل کو چار سال تک اٹھائے رکھا اور اس کا نام ہاتھی کے حمل والی رکھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15554]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15555
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، نا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ هُوَ الْوَاقِدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ⦗٧٢٨⦘ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ:" قَدْ يَكُونُ الْحَمْلُ سِنِينَ وَأَعْرِفُ مَنْ حَمَلَتْ بِهِ أُمُّهُ أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ يَعْنِي نَفْسَهُ".
محمد بن عمر واقدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ سے سنا کہ حمل کئی سال تک بھی ہو سکتا ہے اور میں اس کو پہچانتا ہوں جس کے ساتھ اس کی والدہ دو سال سے زیادہ حاملہ ہوئی یعنی مالک بن انس خود۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15555]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15556
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ وَاقِدٍ فِي ذِكْرِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ" أَنَّ أُمَّهُ حَمَلَتْ بِهِ فِي الْبَطْنِ ثَلَاثَ سِنِينَ هَذَا مَعْنَى كَلَامِهِ".
محمد بن عمر بن واقد رحمہ اللہ، مالک بن انس رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ نے ان کو پیٹ میں تین سال تک اٹھائے رکھا، یعنی مالک بن انس رحمہ اللہ اپنی والدہ کے پیٹ میں تین سال تک رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15556]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15557
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ عِمْرَانَ الدَّعَّاءُ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ غَسَّانَ، ثنا، هَاشِمُ بْنُ يَحْيَى الْفَرَّاءُ الْمُجَاشِعِيُّ قَالَ: بَيْنَمَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ يَوْمًا جَالِسٌ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا يَحْيَى ادْعُ لِامْرَأَةٍ حُبْلَى مُنْذُ أَرْبَعِ سِنِينَ قَدْ أَصْبَحَتْ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ فَغَضِبَ مَالِكٌ وَأَطْبَقَ الْمُصْحَفَ ثُمَّ قَالَ:" مَا يَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ إِلَّا أَنَّا أَنْبِيَاءُ" ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ هَذِهِ الْمَرْأَةُ إِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا رِيحٌ فَأَخْرِجْهَا عَنْهَا السَّاعَةَ وَإِنْ كَانَ فِي بَطْنِهَا جَارِيَةٌ فَأَبْدِلْهَا بِهَا غُلَامًا فَإِنَّكَ تَمْحُو مَا تَشَاءُ وَتُثْبِتُ وَعِنْدَكَ أُمُّ الْكِتَابِ" ثُمَّ رَفَعَ مَالِكٌ يَدَهُ وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ وَجَاءَ الرَّسُولُ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: أَدْرِكِ امْرَأَتَكَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَمَا حَطَّ مَالِكٌ يَدَهُ حَتَّى طَلَعَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عَلَى رَقَبَتِهِ غُلَامٌ جَعْدٌ قَطَطٌ ابْنُ أَرْبَعِ سِنِينَ قَدِ اسْتَوَتْ أَسْنَانُهُ مَا قُطِعَتْ أَسْرَارُهُ.
ہاشم بن یحییٰ فرّاء مجاشعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مالک بن دینار رحمہ اللہ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ان کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے ابو یحییٰ! میری بیوی کے لیے دعا کرو وہ چار سال سے حاملہ ہے اور آج وہ شدید تکلیف میں ہے۔ مالک بن دینار رحمہ اللہ غضب ناک ہوئے اور مصحف (یعنی قرآن) کو بند کر دیا، پھر فرمایا: یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم انبیاء ہیں۔ پھر دعا کی: «اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ فِيْ بَطْنِ هٰذِهِ الْمَرْأَةِ رِيْحٌ فَأَخْرِجْهَا السَّاعَةَ، وَإِنْ كَانَ فِيْ بَطْنِهَا جَارِيَةٌ فَأَبْدِلْهَا غُلَامًا، فَإِنَّكَ ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ [سورة الرعد: 39] » ”اے اللہ! اگر اس عورت کے پیٹ میں ہوا ہے تو اس کو اسی گھڑی نکال دے اور اگر اس کے پیٹ میں لڑکی ہے تو اس کو لڑکے کے ساتھ بدل دے، بیشک تو ہی ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ﴾ [سورة الرعد: 39] جس کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے باقی ثابت رکھتا ہے، اور تیرے ہی پاس ام الکتاب ہے۔“ پھر مالک رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھ کو اٹھایا اور لوگوں نے بھی اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور قاصد اس شخص کی طرف آیا اور کہا: تو اپنی بیوی کو پا، یعنی اپنی بیوی کے پاس جا۔ آدمی گیا۔ مالک رحمہ اللہ نے ابھی اپنے ہاتھ کو نیچے نہیں کیا تھا کہ آدمی مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور اس کے کندھے پر چھوٹے گھنگھریالے بالوں والا چار سال کا لڑکا تھا، اس کے دانت بھی برابر ہو چکے تھے اور اس کی ناف ابھی کاٹی نہیں گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15557]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15558
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَشْيَاخٌ مِنَّا قَالُوا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي غِبْتُ عَنِ امْرَأَتِي سَنَتَيْنِ فَجِئْتُ وَهِيَ حُبْلَى فَشَاوَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَاسًا فِي رَجْمِهَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ كَانَ لَكَ عَلَيْهَا سَبِيلٌ فَلَيْسَ لَكَ عَلَى مَا فِي بَطْنِهَا سَبِيلٌ فَاتْرُكْهَا حَتَّى تَضَعَ"، فَتَرَكَهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَدْ خَرَجَتْ ثَنَايَاهُ فَعَرَفَ الرَّجُلُ الشَّبَهَ فِيهِ فَقَالَ: ابْنِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" عَجَزَتِ النِّسَاءُ أَنْ يَلِدْنَ مِثْلَ مُعَاذٍ لَوْلَا مُعَاذٌ لَهَلَكَ عُمَرُ" وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ فَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْحَمْلَ يَبْقَى أَكْثَرَ مِنْ سَنَتَيْنِ، وَقَوْلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ أَرْبَعَ سِنِينَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا قَالَهُ لِبَقَاءِ الْحَمْلِ أَرْبَعَ سِنِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے ہمارے بزرگوں میں سے کسی نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں اپنی عورت سے دو سال تک غائب رہا ہوں، میں آیا ہوں تو وہ حاملہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس کے رجم کرنے کے بارے میں مشورہ کیا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیر المومنین! اگر آپ کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہے تو جو اس کے پیٹ میں ہے اس کے خلاف آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، آپ اس کو چھوڑ دیجیے حتیٰ کہ وہ وضع حمل کر لے۔ آپ نے اسے چھوڑ دیا، اس نے بچے کو جنم دیا جس کے سامنے والے دو دانت نکل چکے تھے، اس آدمی نے اس بچے میں اپنی مشابہت پہچان لی اور کہا: اللہ کی قسم! یہ میرا بیٹا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتیں عاجز آ گئی ہیں کہ وہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسوں کو جنم دیں، اگر معاذ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے تو اس میں دلیل ہے کہ حمل دو سالوں سے زیادہ دیر تک پیٹ میں باقی رہ سکتا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند گم ہو جائے یہ ہے کہ وہ چار سال تک انتظار کرے، یہ اس کے مشابہ ہے کہ شاید وہ حمل کے چار سال تک باقی رہنے کی وجہ سے کہتے ہوں اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِدَدِ/حدیث: 15558]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف