الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5040. 6- باب قوله: وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (23)
للہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق ہے: ”اور اس عورت نے جس کے گھر میں وہ مقیم تھے، انہیں ان کے نفس کے خلاف مائل کرنا چاہا اور تمام دروازے بند کر دیے اور کہنے لگی: ’آ جاؤ‘؛ انہوں نے کہا: ’اللہ کی پناہ! یقیناً وہ میرا مربی (یا آقا) ہے جس نے میرا ٹھکانا بہت عمدہ بنایا ہے، بے شک ظالم لوگ فلاح نہیں پایا کرتے‘۔“ ’آ جاؤ‘؛ انہوں نے کہا
حدیث نمبر: Q12566
قوله: وَرَاوَدَتْهُ أي راوغتْه لحسنه وجماله، فحملها ذلك على أن تجملت له، وغلّقت الأبواب، ودعتْه إلى نفسها.
حدیث نمبر: 12566
12566- عن عبد الله بن مسعود قال: ﭽ هَيْتَ لَكَ قال: وإنما نقرأها كما عُلِّمناها.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في التفسير (4692) عن أحمد بن سعيد، عن بشر بن عمر، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن أبي وائل، عن عبد الله بن مسعود قال: فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
5041. 7- باب قوله: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ (24)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق کہ ”اور یقیناً اس عورت نے ان کا قصد کیا اور وہ بھی اس کا قصد کر لیتے اگر اپنے رب کی برہان (واضح نشانی) نہ دیکھ چکے ہوتے، اسی طرح ہوا تاکہ ہم ان سے برائی اور بے حیائی کو دور رکھیں، بے شک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔“
حدیث نمبر: A424
قوله: وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ جملة مستأنفة، وليست معطوفة على قوله: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ، وقُدِّمَ جواب الشرط لأهميته أي: لولا أن رأى برهان ربه لهمَّ بها، ومعناه: أنه لم يهمّ بها، لأنه رأى برهان ربه، وبذلك يظهر أن يوسف عليه السلام لم يخالطه همٌّ بامرأة العزيز؛ لأن الله تعالى عصمه من الهمّ بالمعصية.
قال أبوحاتم: كنت أقرا غريب القرآن على أبي عبيدة فلما أتيت على قوله: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا الآية، قال أبو عبيدة: هذا على التقديم والتأخير أي تقديم الجواب وتأخير الشرط كأنه قال: ولقد همّت به ولولا أن رأى برهان ربه لهمَّ بها.
وقوله: لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ أي أنه استشعر في قلبه عظمة الله سبحانه وتعالى، وأنه بكل شيء محيط.
قال أبوحاتم: كنت أقرا غريب القرآن على أبي عبيدة فلما أتيت على قوله: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا الآية، قال أبو عبيدة: هذا على التقديم والتأخير أي تقديم الجواب وتأخير الشرط كأنه قال: ولقد همّت به ولولا أن رأى برهان ربه لهمَّ بها.
وقوله: لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ أي أنه استشعر في قلبه عظمة الله سبحانه وتعالى، وأنه بكل شيء محيط.
5042. 8- باب قوله: قَالَ هِيَ رَاوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ كَانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (26)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ 'اسی عورت نے مجھے ورغلانے کی کوشش کی تھی' اور اس عورت کے اپنے ہی خاندان کے ایک گواہ نے گواہی دی کہ 'اگر یوسف کا کرتا سامنے کی جانب سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے'۔“
حدیث نمبر: A425
وقوله: وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا الظاهر منه أنه رجل كبير، وقد قال ابن عباس:"كان ذا لحية" كما عند ابن جرير في تفسيره.
5043. 9- باب قوله: فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِكِّينًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ(31)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں ہے کہ ”پھر جب اس (عزیز کی بیوی) نے ان عورتوں کی مکارانہ باتوں کا چرچا سنا تو انہیں بلا بھیجا اور ان کی ضیافت کے لیے تکیہ لگی ہوئی ایک محفل آراستہ کی اور ان میں سے ہر ایک کو (پھل کاٹنے کے لیے) ایک چھری دے دی اور (یوسف علیہ السلام سے) کہا کہ ان کے سامنے نکل آؤ، پھر جب ان عورتوں نے آپ کو دیکھا تو آپ کے حسن و جمال کی عظمت سے دنگ رہ گئیں اور (بے خودی کے عالم میں) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور پکار اٹھیں کہ اللہ کی پناہ! یہ کوئی (عام) بشر نہیں ہے، یہ تو بس ایک نہایت معزز فرشتہ ہے۔“
حدیث نمبر: A426
وقوله: وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكٌ كَرِيمٌ أي: قلن ذلك لحسنه وجماله، فقد كان يوسف عليه السلام أعطي شطر الحسن، كما جاء في الصحيح:
حدیث نمبر: 12567
12567- عن أنس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في حديث الإسراء الطويل، أنه قال: ....فإذا أنا بيوسف، إذا هو قد أعطي شطر الحسن... الحديث.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الإيمان (162) عن شيبان بن فروخ، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا ثابت البناني، عن أنس بن مالك، فذكره في حديث طويل.»
الحكم على الحديث: صحيح
5044. 10- باب قوله: قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُنْ مِنَ الْجَاهِلِينَ (33) فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (34)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”(یوسف علیہ السلام نے) عرض کیا اے میرے پروردگار! مجھے اس کام کے مقابلے میں قید خانہ زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے دعوت دے رہی ہیں، اور اگر تو نے ان کے مکر و فریب کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور نادانوں میں سے ہو جاؤں گا۔ پس ان کے رب نے ان کی پکار سن لی اور ان سے ان عورتوں کی چالبازی کو دور فرما دیا، بے شک وہی ہے جو سب کچھ سننے والا اور ہر بات کا خوب جاننے والا ہے“۔
حدیث نمبر: Q12568
قوله: قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ استعمل صيغة الجمع للإشارة إلى أن صواحب امرأة العزيز أيضا أرَدْنَ منه السوءَ.
ثم قال: وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ استعمل أيضا صيغة الجمع، وطلب من الله العون والمنعة في مراودتهن إياه على أنفسهن.
وقوله: أَصْبُ إِلَيْهِنَّ أي أميل إليهن مثل قول القائل: صبا فلان إلى كذا.
وقوله: فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ مع أنه لم يدع الله بصرف كيدهن، ولكن شكواه وإخباره بأن السجن أحبّ إليّ يتضمن الدعاء، فاستجاب اللهُ ليوسف دعاءه، فصرف عنه ما أرادت منه امرأة العزيز وصواحباتها من معصية الله.
وجاء في الصحيح:
ثم قال: وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ استعمل أيضا صيغة الجمع، وطلب من الله العون والمنعة في مراودتهن إياه على أنفسهن.
وقوله: أَصْبُ إِلَيْهِنَّ أي أميل إليهن مثل قول القائل: صبا فلان إلى كذا.
وقوله: فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ مع أنه لم يدع الله بصرف كيدهن، ولكن شكواه وإخباره بأن السجن أحبّ إليّ يتضمن الدعاء، فاستجاب اللهُ ليوسف دعاءه، فصرف عنه ما أرادت منه امرأة العزيز وصواحباتها من معصية الله.
وجاء في الصحيح:
حدیث نمبر: 12568
12568- عَنْ عبدالله بن عمر قَالَ: لمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ، قِيلَ لَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، إِذَا قَرَأَ غَلَبَهُ الْبُكَاءُ، قَالَ: مُرُوهُ، فَيُصَلِّي، فَعَاوَدَتْهُ، قَالَ: مُرُوهُ، فَيُصَلِّي، إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في الأذان (682)، ومسلم في الصلاة (418: 94) كلاهما من طريق الزهري، قال: أخبرني حمزة بن عبدالله بن عمر، عن أبيه فذكره.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
5045. 11- باب قوله: وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ (50) قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (51)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں کہ: ”اور بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ، پھر جب قاصد آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ بے شک میرا رب ان کی مکاریوں کو خوب جانتا ہے۔ (بادشاہ نے ان عورتوں سے) پوچھا کہ تمہارا کیا قصہ تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی؟ ان سب نے کہا: اللہ کی پناہ! ہم نے ان میں ذرہ برابر بھی برائی نہیں پائی، تب عزیز کی بیوی بول اٹھی: اب سچائی کھل کر سامنے آ گئی ہے، میں نے ہی انہیں ورغلانے کی کوشش کی تھی اور بلاشبہ وہ بالکل سچے ہیں“۔
حدیث نمبر: Q12569
قوله: وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أي أخرجوه من السجن.
حدیث نمبر: 12569
12569- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يرحم الله لوطا، لقد كان يأوي إلى ركن شديد، ولو لبثت فى السجن ما لبث يوسف لأجبت الداعي، ونحن أحق من إبراهيم، إذ قال له: أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي [سورة البقرة:260]
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4694)، وسلم في الإيمان (151) كلاهما من طريق يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة قال: فذكره.واللفظ للبخاري ولفظ مسلم نحوه.»
الحكم على الحديث: متفق عليه