🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5045. 11- باب قوله: وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ (50) قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (51)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں کہ: ”اور بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ، پھر جب قاصد آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ بے شک میرا رب ان کی مکاریوں کو خوب جانتا ہے۔ (بادشاہ نے ان عورتوں سے) پوچھا کہ تمہارا کیا قصہ تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی؟ ان سب نے کہا: اللہ کی پناہ! ہم نے ان میں ذرہ برابر بھی برائی نہیں پائی، تب عزیز کی بیوی بول اٹھی: اب سچائی کھل کر سامنے آ گئی ہے، میں نے ہی انہیں ورغلانے کی کوشش کی تھی اور بلاشبہ وہ بالکل سچے ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12570
12570- عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت أنا لأسرعت الإجابة، وما ابتغيت العذر.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه أحمد (8554)، وابن جرير في تفسيره (13/201)، وابن أبي حاتم في تفسيره (7/2155-2156) كلهم من طريق حماد بن سلمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، فذكره.»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5046. 12- باب قوله: قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِنْ كُنْتُمْ كَاذِبِينَ (74) قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ (75) فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ (76)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق ”انہوں نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو پھر اس کی سزا کیا ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں وہ (گمشدہ پیالہ) پایا جائے تو وہی اس کا بدلہ (یعنی بطورِ غلام) قرار پائے گا، ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے تلاشی کا آغاز کیا، پھر اس (پیالے) کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کر لیا؛ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لیے اسی طرح تدبیر فرمائی تھی، وہ بادشاہ کے قانون کے تحت اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے سوائے اس کے کہ اللہ ہی ایسا چاہتا، ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں، اور ہر صاحبِ علم کے اوپر ایک بہت بڑا علم والا موجود ہے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A427
يعني جزاء السارق في شريعة يعقوب أن يسلم السارق إلى المسروق منه فيسترقّه سنةً بخلاف قانون ملك مصر فإنه يمنع حبس السارق، فأراد يوسف أن يحبس أخاه عنده فردَّ الحكم إليهم ليتمكن من حبسه عنده على حكمهم، ولم يجر فيه قانون الملك الذي لم يذكر في القرآن والأحاديث.وقد قيل:: إن من قانون الملك أن يُضرب السارق، وقيل: يغرم السارق ضعفَيْ قيمة المسروق وقيل: غير ذلك.
وهذه الأقاويل رويت عن بعض التابعين وليس فيها شيء مرفوع.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5047. 13- باب قوله: قَالُوا إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ قَالَ أَنْتُمْ شَرٌّ مَكَانًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ (77)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں ”انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو (اس سے پہلے) اس کے ایک بھائی نے بھی چوری کی تھی، پس یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر اسے ظاہر نہ کیا، (اور دل میں) کہا کہ تم مرتبے کے اعتبار سے بدتر ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A428
قوله: فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ أي أن بنيامين الذي وجد السقاية في رحله هو أخوه لأمه من زوجة أبينا"راحيل" فهما شقيقان، وأما نحن من أولاد زوجاته الأخرى، فإن ليعقوب عليه السلام أربع زوجات وهن: راحيل أم يوسف وبنيامين، وليئة وبُلهة وزلفة، وهن أمهات بقية أولاد يعقوب.
وأما كون أخيه سرق من قبل فهذا بهتان وكذب منهم، فإن يوسف عليه السلام بريء من هذه التهمة، ولكنهم أرادوا نفي العار عن أنفسهم، وكان ذلك في مجلس يوسف ولكنه لم يظهر الغضب على كذبهم لئلا ينكشف أمره بأنه هو يوسف.
قوله: فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ قَالَ أَنْتُمْ شَرٌّ مَكَانًا
وضمير التأنيث راجع إلى الكلمة التي قالها يوسف وهي قوله: أَنْتُمْ شَرٌّ مَكَانًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ذكرها سرّا في نفسه، ولم يصرح بأنكم كذابون في دعواكم.
وأما ما ذكره كثير من المفسرين من الروايات في بيان سرقة يوسف عليه السلام فكلها ضعيفة ومعلولة، ليس فيها شيء ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5048. 14- باب قوله: وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَنْ نَزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (100)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ ”اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر بلند بٹھایا اور وہ سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے اور اس نے کہا اے میرے ابا جان! یہ میرے اس سابقہ خواب کی تعبیر ہے، جسے میرے رب نے یقیناً سچ کر دکھایا ہے، اور اس نے مجھ پر بڑا احسان فرمایا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ سب کو صحرا سے یہاں لے آیا، اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، بے شک میرا رب جس کے لیے چاہے نہایت باریک بین اور لطیف تدبیر والا ہے، یقیناً وہی سب کچھ جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12571
قوله: وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا أي: أبوه وأمه وإخوته، سجودا على وجه التعظيم والتبجيل والإكرام، وكان سائغا في شرائعهم، وحرم في هذه الملة، وجعل السجود مختصا بجانب الرب سبحانه وتعالى، كما جاء في الحديث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12571
12571- عن سراقة بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت آمِرًا أحدا أن يسجد لأحدٍ لأمرتُ المرأة أن تسجد لزوجها.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه الطبراني في الكبير (7/152)، وابن أبي الدنيا في العيال (537)، كلاهما من حديث وهب بن جرير بن حازم، حدثنا موسى بن عُلّي، عن أبيه، عن سراقة بن مالك فذكره.وإسناده صحيح.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12572
12572- عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو كنت آمِرًا أحدا أن يسجد لأحدٍ لأمرتُ المرأة أن تسجد لزوجها.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه الترمذي (1159)، والبيهقي (7/291)، وابن أبي الدنيا في العيال (534) كلهم من حديث النضر بن شميل، أنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة فذكره.»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5049. 15- باب قوله: حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّيَ مَنْ نَشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ (110)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی بابت کہ ”یہاں تک کہ جب رسول (اپنی قوم کے ایمان لانے سے) بالکل مایوس ہو گئے اور وہ یہ گمان کرنے لگے کہ ان سے (اپنی قوم کی طرف سے) جھوٹ بولا گیا ہے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی، پھر جسے ہم نے چاہا اسے نجات دے دی گئی، اور ہمارا عذاب مجرم قوم سے ٹالا نہیں جاتا۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12573
قوله: أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا بالتخفيف في قرأة الجمهور، وفي قرأة نافع، وابن كثير، وأبي عمرو، وابن عامر، ويعقوب كُذِّبوا بالتشديد، وهي مروية عن عائشة كما جاء في الصحيح:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12573
12573- عن عروة بن الزبير، عن عائشة قالت له، وهو يسألها عن قول الله تعالى: حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ قال: قلت: أكذِبوا أم كذِّبو؟ قالت عائشة: كذِّبوا.قلت: فقد استيقنوا أن قومهم كذَّبوهم، فما هو بالظن، قالت: أجل! لعمري لقد استيقنوا بذلك.فقلت لها: وظنوا أنهم قد كذِبوا.قالت: معاذ الله! لم تكن الرسل تظن ذلك بربها.قلت: فما هذه الآية؟.قالت: هم أتباع الرسل الذين آمنوا بربهم وصدقوهم، فطال عليهم البلاء، واستأخر عنهم النصر حتى استيأس الرسل ممن كذَّبهم من قومهم، وظنت الرسل أن أتباعهم قد كذّبوهم، جاءهم نصر الله عند ذلك.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في التفسير (4695) عن عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال أخبرنى عروة ابن الزبير فذكره.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12574
12574- عن ابْن أَبِي مُلَيْكَةَ قال: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا [يوسف: ١١٠] - خَفِيفَةً- ذَهَبَ بِهَا هُنَاكَ وَتَلا: حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ [البقرة: ٢١٤]
تخریج الحدیث: «فَلَقِيتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَعَاذَ الله، والله مَا وَعَدَ الله رَسُولَهُ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عَلِمَ أَنَّهُ كَائِنٌ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ الْبَلَاءُ بِالرُّسُلِ حَتَّى خَافُوا أَنْ يَكُونَ مَنْ مَعَهُمْ يُكَذِّبُونَهُمْ، فَكَانَتْ تَقْرَؤُهَا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِّبُوا -مُثَقَّلَةً-»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں