السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
262. -- باب: سؤر الهرة
-- باب: بلی کے جھوٹے کا بیان
حدیث نمبر: 1165
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بِبُخَارَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ ⦗٣٧٤⦘ أُمِّهِ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْهِرَّةِ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ هِيَ كَبَعْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے متعلق فرمایا: ”وہ نجس نہیں ہے، وہ بھی گھر والوں کی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن خزيمة 2/1»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1166
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ أنا أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ الْحَسَنُ بْنُ كَوْثَرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلَاةً لَهَا أَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ صَحْفَةَ هَرِيسَةٍ فَجَاءَتْ بِهَا وَعَائِشَةُ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَيْهَا عَائِشَةُ أَنْ ضَعِيهَا فَوَضَعَتْهَا وَعِنْدَ عَائِشَةَ نِسْوَةٌ فَجَاءَتِ الْهِرَّةُ فَأَكَلَتْ مِنْهَا أَكْلَةً - أَوْ قَالَ لُقْمَةً - فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ لِلنِّسْوَةِ: كُلْنَ فَجَعَلْنَ يَتَّقِينَ مَوْضِعَ فَمِ الْهِرَّةِ فَأَخَذَتْهَا عَائِشَةُ فَأَدَارَتْهَا، ثُمَّ أَكَلَتْهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَةَ فِي مَعْنَاهُ وَفِي مَا ذَكَرْنَاهُ كِفَايَةٌ.
داؤد بن صالح تمار اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف حلوے کا پیالہ بطور ہدیہ بھیجا، وہ لے آئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اسے رکھ دے، اس نے رکھ دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں تھیں، بلی آئی اور اس میں سے ایک بار کھایا یا ایک لقمہ کھایا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (نماز سے) فارغ ہوئیں تو انہوں نے عورتوں کو کہا: کھاؤ، تو وہ بلی کے منہ کی جگہ سے بچنے لگیں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پکڑ کر گھمایا پھر کھایا اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے، وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے“ نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 76»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1167
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عَمِيلَةَ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ سُئِلَ عَنْ سُؤْرِ الْهِرَّةِ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا".
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے بلی کے جھوٹے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج بیان نہیں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 357»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1168
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حَدَّثَنِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَهُورُ الْإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، الْأُولَى بِالتُّرَابِ، وَالْهِرَّةُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ" قُرَّةُ يَشُكُّ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَالْهِرَّةُ مِثْلُ ذَلِكَ وَأَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي إِدْرَاجِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْهِرَّةِ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ فِي الْكَلْبِ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ قُرَّةَ فَبَيَّنَهُ بَيَانًا شَافِيًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کی پاکی جب کتا اس میں منہ ڈال جائے یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھوئے، پہلی مرتبہ مٹی سے اور بلی سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دھوؤ۔“
ابوعاصم ضحاک بن مخلد ثقہ ہیں، مگر انہوں نے بلی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو کتے والی مرفوع حدیث میں درج کرنے میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1168]
ابوعاصم ضحاک بن مخلد ثقہ ہیں، مگر انہوں نے بلی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو کتے والی مرفوع حدیث میں درج کرنے میں غلطی کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارقطني 1/64»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1169
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّارِمِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ" ثُمَّ ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْهِرَّ لَا أَدْرِي قَالَهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ⦗٣٧٥⦘ قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ: وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ أَبِي فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْكَلْبِ مُسْنَدًا وَفِي الْهِرِّ مَوْقُوفًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قُرَّةَ مَوْقُوفًا فِي الْهِرَّةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کی پاکی اس طرح ہے کہ اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی مرتبہ مٹی سے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے متعلق ذکر کیا، میں نہیں جانتا کہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/365»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1170
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبَرْتِيُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالُوا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُرَّةُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الْهِرِّ يَلِغُ فِي الْإِنَاءِ يُغْسَلُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدٍ كَذَلِكَ مَوْقُوفًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایسی بلی کے متعلق بیان فرماتے ہیں، جو برتن میں منہ ڈال جائے کہ ایک یا دو مرتبہ دھویا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/365»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، جَمِيعًا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِذَا وَلَغَ الْهِرُّ غُسِلَ مَرَّةً وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَغَلِطَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْقَصَبِيُّ فَرَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بلی منہ ڈال جائے تو اس کو ایک مرتبہ دھویا جائے گا۔
محمد بن عمر قصبی نے اس میں غلطی کی اور اسے عبدالوارث کے واسطے سے ایوب سے مرفوع حدیث میں درج کر کے روایت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1171]
محمد بن عمر قصبی نے اس میں غلطی کی اور اسے عبدالوارث کے واسطے سے ایوب سے مرفوع حدیث میں درج کر کے روایت کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 72»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1172
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ قَالَا: ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْقَصَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ - أَوْ أُخْرَاهُنَّ - بِالتُّرَابِ" وَالسِّنَّوْرُ مَرَّةً وَرَوَاهُ أَيْضًا جَعْفَرُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي سُؤْرِ الْهِرِّ يُهَرَاقُ وَيُغْسَلُ الْإِنَاءُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ.
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ۔ پہلی یا آخری مرتبہ مٹی سے اور بلی سے ایک مرتبہ۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بلی کے جھوٹے کے متعلق کہتے ہیں کہ بہایا جائے گا اور برتن ایک یا دو مرتبہ دھویا جائے گا۔
جعفر بن واقد نے بھی اسے ابن عون سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث میں درج کر کے روایت کیا ہے، لیکن جماعت کی روایت اولیٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1172]
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بلی کے جھوٹے کے متعلق کہتے ہیں کہ بہایا جائے گا اور برتن ایک یا دو مرتبہ دھویا جائے گا۔
جعفر بن واقد نے بھی اسے ابن عون سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث میں درج کر کے روایت کیا ہے، لیکن جماعت کی روایت اولیٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1172]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1173
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا هِشَامٌ، فَذَكَرَهُ وَرَوَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" إِذَا وَلَغَ السِّنَّوْرُ فِي الْإِنَاءِ غُسِلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ" وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنِ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بلی برتن میں منہ ڈال جائے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے گا۔
جبکہ ابن جریج وغیرہ نے اسے عطاء سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1173]
جبکہ ابن جریج وغیرہ نے اسے عطاء سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطحاوي 1/20»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1174
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" يُغْسَلُ الْإِنَاءُ مِنْ وُلُوغِ الْهِرِّ كَمَا يُغْسَلُ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ" هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُفَيْرٍ مَوْقُوفًا وَرُوِيَ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْفَرَجِ، عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ مَرْفُوعًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَدْ قِيلَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلی کے منہ ڈالنے سے برتن دھویا جائے گا، جس طرح کتے کے منہ ڈالنے سے دھویا جاتا ہے۔
ابن عفیر نے اسے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے، اور روح بن فرج کے واسطے سے ابن عفیر سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے مگر وہ کچھ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1174]
ابن عفیر نے اسے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے، اور روح بن فرج کے واسطے سے ابن عفیر سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے مگر وہ کچھ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1174]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الطحاوي في شرح المعاني 1/20»
الحكم على الحديث: ضعيف