السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
262. -- باب: سؤر الهرة
-- باب: بلی کے جھوٹے کا بیان
حدیث نمبر: 1175
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلَّانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ حُجَّةٌ عَلَيْهِ فِي فُتْيَاهُ فِي الْهِرَّةِ إِنْ صَحَّ ذَلِكَ وَإِلَّا فَهُوَ مَحَجُوجٌ بِمَا تَقَدَّمَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یحییٰ بن ایوب نے اس کو بیان کیا ہے۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی روایت بھی منقول ہے جو بلی کے بارے میں ان کے اپنے فتویٰ کے خلاف حجت ہے، اگر وہ صحیح ہو، ورنہ ان کے خلاف وہ حدیث حجت ہے جو پہلے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1175]
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی روایت بھی منقول ہے جو بلی کے بارے میں ان کے اپنے فتویٰ کے خلاف حجت ہے، اگر وہ صحیح ہو، ورنہ ان کے خلاف وہ حدیث حجت ہے جو پہلے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطحاوي 1/20»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1176
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ يَعْنِي لَا يَأْتِيهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا" قَالَ: فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" السِّنَّوْرُ سَبْعٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے گھروں میں آئے اور ان کے علاوہ بھی گھر تھے ان میں نہیں آئے، ان پر یہ گراں گزرا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فلاں فلاں کے گھروں میں جاتے ہیں اور ہمارے گھروں میں نہیں آتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے گھروں میں کتے ہیں۔“ راوی کہتا ہے کہ ان کے گھروں میں بلی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلی بھی درندہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 2/327»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1177
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْهِرُّ مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلی گھر کے سامان کی طرح ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1177]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن ماجه 369»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
263. -- باب: سؤر سائر الحيوانات سوى الكلب والخنزير
-- باب: کتے اور خنزیر کے سوا دیگر تمام جانوروں کے جھوٹے کا بیان
حدیث نمبر: 1178
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ ⦗٣٧٨⦘ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ، قَالَ:" نَعَمْ وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ كُلُّهَا" وَفِي غَيْرِ رِوَايَتِنَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنَا عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ بِمِثْلِهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم گدھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمام درندوں کے بچے ہوئے سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1178]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي 10»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1179
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُخْتَارُ الْمَوْصِلِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ مُخْتَلَفٌ فِي ثِقَتِهِ وَضَعَّفَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ وَطَعَنُوا فِيهِ وَكَانَ الشَّافِعِيُّ يُبْعِدُهُ عَنِ الْكَذِبِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِيُّ أَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى قَدَرِيًّا قُلْتُ لِلرَّبِيعِ: فَمَا حَمَلَ الشَّافِعِيَّ عَلَى أَنْ رَوَى عَنْهُ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ لَأَنْ يَخِرَّ إِبْرَاهِيمُ مِنْ بُعْدٍ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكْذِبَ وَكَانَ ثِقَةً فِي الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: قَدْ نَظَرْتُ أَنَا فِي أَحَادِيثِهِ فَلَيْسَ فِيهَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا يَرْوِي الْمُنْكَرَ إِذَا كَانَ الْعُهْدَةُ مِنْ قِبَلِ الرَّاوِي عَنْهُ أَوْ مِنْ قِبْلِ مَنْ يَرْوِي إِبْرَاهِيمُ عَنْهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ تَابَعَهُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمَعْرِفَةِ.
(الف) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم گدھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور درندوں کے بچے ہوئے سے بھی۔“
(ب) ابراہیم بن ابویحییٰ اسلمی کے ثقہ ہونے میں روایات مختلف ہیں، اکثر محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس پر جرح بھی کی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اسے جھوٹ سے دور سمجھتے تھے۔ (ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن ابویحییٰ قدری تھا، میں نے ربیع سے کہا: پھر کس بات نے امام شافعی رحمہ اللہ کو اس سے نقل کرنے پر ابھارا؟ انھوں نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ ابراہیم کو بلندی سے گر جانا جھوٹ بولنے سے زیادہ محبوب تھا اور وہ حدیث میں با اعتماد تھا۔ (د) ابواحمد کہتے ہیں کہ میں نے اس کی احادیث دیکھی ہیں، ان میں کوئی حدیث منکر نہیں، وہ منکر روایت تب ہی بیان کرتا ہے جب اس کی ذمہ داری اس سے روایت کرنے والے پر یا اس شخص پر ہو جس سے ابراہیم روایت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1179]
(ب) ابراہیم بن ابویحییٰ اسلمی کے ثقہ ہونے میں روایات مختلف ہیں، اکثر محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس پر جرح بھی کی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اسے جھوٹ سے دور سمجھتے تھے۔ (ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن ابویحییٰ قدری تھا، میں نے ربیع سے کہا: پھر کس بات نے امام شافعی رحمہ اللہ کو اس سے نقل کرنے پر ابھارا؟ انھوں نے فرمایا: امام شافعی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ ابراہیم کو بلندی سے گر جانا جھوٹ بولنے سے زیادہ محبوب تھا اور وہ حدیث میں با اعتماد تھا۔ (د) ابواحمد کہتے ہیں کہ میں نے اس کی احادیث دیکھی ہیں، ان میں کوئی حدیث منکر نہیں، وہ منکر روایت تب ہی بیان کرتا ہے جب اس کی ذمہ داری اس سے روایت کرنے والے پر یا اس شخص پر ہو جس سے ابراہیم روایت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1179]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَوَضَّأَ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ فَقَالَ:" وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم گدھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درندوں کے بچے ہوئے سے بھی کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1180]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرُدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا".
یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک قافلے میں نکلے، اس میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ حوض کے پاس آئے تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حوض والے سے کہا: اے حوض والے! کیا تیرے حوض پر درندے آتے ہیں؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حوض والے! ہمیں اس کی خبر نہ دے؛ کیونکہ درندے ہمارے پاس اور ہم ان کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك 43»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1182
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ طَالِبٍ، أنا مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِسُؤْرِ الْحِمَارِ وَالْبَغْلِ بَأْسًا".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ گدھے اور خچر کے جھوٹے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1182]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
264. -- باب: ذكر الأخبار التي يتفرق بها الكلب عن غيره على طريق الاختصار
-- باب: اختصار کے ساتھ ان احادیث کا ذکر جن کے ذریعے کتے کا حکم دیگر جانوروں سے مختلف ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتُقِصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" ⦗٣٨٠⦘ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذُكِرَ لِابْنِ عُمَرَ قَوْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: رَحِمَ اللهُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: قِيرَاطَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سوائے جانوروں کی رکھوالی، شکار یا کھیتی کے علاوہ کتا رکھا تو ہر دن اس کے اجر سے ایک قیراط (ثواب) کم ہوگا۔“ (ب) زہری کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ کھیتی باڑی کرتے تھے۔ (ج) سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے کہ دو قیراط (ثواب کم ہوگا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 2197»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1184
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ وَلَا أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَكَذَا قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قِيرَاطَانِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَحْفَظْ فِيهِ كَلْبَ الْأَرْضِ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، وَقَدْ حِفْظَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَسُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنُوئِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ لَمْ يَحْفَظِ الصَّيْدَ وَقَالَ: قِيرَاطٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شکار، رکھوالی اور کھیتی کے علاوہ کتا رکھا تو اس کے اجر سے ہر دن دو قیراط کم ہوں گے۔“ (ب) اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں: ”(دوقیراط)“، مگر انہوں نے اکثر روایات میں نگرانی والے کتے کا ذکر نہیں کیا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سفیان بن ابو زہیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں مگر سفیان نے شکار کے کتے کا ذکر نہیں کیا اور کہا: ”ایک قیراط۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1184]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سفیان بن ابو زہیر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں مگر سفیان نے شکار کے کتے کا ذکر نہیں کیا اور کہا: ”ایک قیراط۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح