🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
260. -- باب: السنة في الغسل من سائر النجاسات
-- باب: دیگر تمام نجاستوں کو دھونے کے مسنون طریقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1155
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ - أَوْ قَالَ: فِي وَضُوئِهِ - حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی بیدار ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے یا فرمایا: پانی میں نہ ڈالے، جب تک اس کو تین مرتبہ نہ دھو لے، اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 278»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1156
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مَنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی رات کو اٹھے تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک اس پر دو یا تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي 24»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
261. -- باب: غسلها واحدة يكتفى عليها
-- باب: نجاست کو ایک مرتبہ دھونے کے کافی ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1157
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ وَهِيَ امْرَأَتُهُ، عَنْ أَسْمَاءَ، جَدَّتِهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ امْرَأَةٌ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، قَالَ:" حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ رُشِّيهِ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ".
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت نے حیض کے خون کے متعلق سوال کیا جو کپڑے کو لگ جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھرچ، پھر پانی سے مل، پھر چھینٹے مار اور اس میں نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث: «138»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1158
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِصْمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ وَالْغُسْلُ مَنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلَاةُ خَمْسًا وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً وَغَسْلُ الثَّوْبِ مَنَ الْبَوْلِ مَرَّةً".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور جنابت کا غسل سات مرتبہ تھا اور پیشاب کو کپڑوں سے دھونا سات مرتبہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر کمی کا سوال کرتے رہے حتیٰ کہ نمازیں پانچ مقرر کی گئیں اور جنابت کا غسل ایک مرتبہ اور پیشاب کا کپڑے سے دھونا بھی ایک مرتبہ رہ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1158]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
262. -- باب: سؤر الهرة
-- باب: بلی کے جھوٹے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: وَثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ:" أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ" هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْمُوَطَّأِ وَقَدْ قَصَّرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ بِرِوَايَتِهِ فَلَمْ يُقِمْ إِسْنَادَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: جَوَّدَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَرِوَايَتُهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ غَيْرِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ بِقَرِيبٍ مِنْ رِوَايَةِ مَالِكٍ.
سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا، جو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی بیوی تھیں، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈالا، اتنے میں بلی آئی اور اس سے پینے لگی۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے خوب پیا۔ سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (بلّی) نجس نہیں ہے، وہ تمہارے پاس چکر لگاتی رہتی ہے۔“
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے موطا میں اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ بعض راویوں نے اس کی روایت میں کوتاہی کی اور اس کی سند درست بیان نہیں کی۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک بن انس نے اس حدیث کو عمدہ سند سے بیان کیا ہے اور ان کی روایت دوسروں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1159]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 75»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1160
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ خَالَتِهَا بِنْتِ كَعْبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءَهُ فَدَنَا الْهِرُّ فَأَصْغَى إِلَيْهِ الْإِنَاءَ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ بِفَضْلِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ:" كَأَنَّكِ تَعْجَبِينَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ بِنَجَسٍ - أَوْ كَلِمَةٍ أُخْرَى - إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ" أُمُّ يَحْيَى هِيَ حُمَيْدَةُ وَابْنَةُ كَعْبٍ هِيَ كَبْشَةُ بِنْتُ كَعْبٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ.
ام یحییٰ اپنی خالہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے ان کے قریب پانی رکھا، اتنے میں ایک بلی آئی تو انہوں نے برتن جھکا دیا، بلی نے اس سے پیا، پھر وہ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے، میں نے آپ کی طرف تعجب سے دیکھا، انہوں نے میری طرف جھانکا تو کہنے لگے: کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ (بلّی) نجس نہیں ہے“ یا کوئی دوسرا لفظ کہا، ”وہ تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1160]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1161
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَوْضِيُّ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ح. قَالَ: وَأنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ يَحْيَى - قَالَ حَجَّاجٌ فِي رِوَايَتِهِ: يَعْنِي امْرَأَتَهُ - عَنْ خَالَتِهَا وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو قَتَادَةَ فَسَأَلَ الْوَضُوءَ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ كَأَنِّي أُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ فَقَالَتْ: يَا ابْنَةَ أَخِي إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ" وَفِي حَدِيثِ الْحَوْضِيِّ أَنَّ خَالَتَهَا حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ فَدَخَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كَأَنَّهَا تُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ، ثُمَّ الْبَاقِي مِثْلَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
(الف) ایک عورت اپنی خالہ سے نقل فرماتی ہے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں کہ میرے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے پانی مانگا، اتنے میں ان کے پاس سے بلی گزری تو آپ نے برتن جھکا دیا، میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا گویا میں اس کا انکار کر رہی تھی تو انہوں نے فرمایا: ”اے بھتیجی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: وہ نجس نہیں ہے وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“
(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، عبداللہ بن ابی قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی، باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1161]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1162
وَأَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ هَمَّامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ فَمَرَّتْ بِهِ هِرَّةٌ فَأَصْغَى إِلَيْهَا وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ" وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ.
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ وضو کر رہے تھے، ایک بلی گزری تو انہوں نے اس کی طرف برتن جھکا دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1162]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1163
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ أَبُو قَتَادَةَ يُصْغِي الْإِنَاءَ لِلْهِرِّ فَيَشْرَبُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِهِ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: مَا صَنَعْتُ إِلَّا مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بلی کے لیے برتن جھکا دیتے تھے، وہ پی لیتی، پھر اس سے وضو کرتے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ جو میں نے کیا ہے یہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1163]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1164
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ يُقَرِّبُ طَهُورَهُ إِلَى الْهِرَّةِ فَتَشْرَبَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِسُؤْرِهَا. وَكُلُّ ذَلِكَ شَاهِدٌ لِصِحَّةِ رِوَايَةِ مَالِكٍ وَمِنْ شَوَاهِدِهِ مَا.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ وضو کا پانی بلی کے قریب کرتے، وہ اس سے پیتی اور پھر اس کے جھوٹے سے وضو کرتے۔
یہ سب امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کے صحیح ہونے کی شاہد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1164]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابن الجعد 2756»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں