السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
326. -- باب: غسل المستحاضة
-- باب: مستحاضہ کے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1653
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَالْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ تُؤَخِّرُ هَذِهِ وَتُعَجِّلُ هَذِهِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا وَتَغْتَسِلُ لِلصُّبْحِ غُسْلًا وَهَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ وَذَكَرَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمُ امْتِنَاعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مِنْ رَفْعِ الْحَدِيثِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مستحاضہ ہو گئی، اس کو حکم دیا گیا کہ ”ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء جلدی پڑھے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور صبح کے لیے ایک غسل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1654
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَتْ، قُلْتُ: مَنْ أَمَرَهَا، النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَسْتُ أُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَالَتْ: فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ غُسْلًا" وَرَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ، عَنْ شُعْبَةَ وَفِيهِ قَالَ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَخَالَفَ شُعْبَةُ فِي رَفْعِهِ وَسَمَّى الْمُسْتَحَاضَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت مستحاضہ ہو گئی، اس کو حکم دیا گیا۔ میں نے (عبدالرحمن بن قاسم سے) پوچھا: کیا اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا؟ انہوں نے کہا: میں تجھ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی بیان نہیں کر رہا۔ پھر (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: ”اسے حکم دیا گیا کہ ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی ادا کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشاء کو جلدی ادا کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور صبح کے لیے ایک غسل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1655
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ثنا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ" ⦗٥٢٠⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا شَقَّ عَلَيْهَا أَمَرَهَا، الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: قَالَ بَعْضُ مَشَائِخِنَا: لَمْ يُسْنِدْ هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَشُعْبَةُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ الْخَبَرُ مَرْفُوعًا وَأَخْطَأَ أَيْضًا فِي تَسْمِيَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَدِ اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ كَمَا مَضَى وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَأَرْسَلَهُ إِلَّا أَنَّهُ وَافَقَ مُحَمَّدًا فِي رَفْعِهِ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل مستحاضہ ہوگئیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ ”وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے“، جب یہ ان کے لیے مشقت کا باعث بنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ ”ایک غسل سے ظہر اور عصر ادا کرلے اور مغرب اور عشاء ایک غسل سے اور صبح کے لیے الگ غسل کرے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا جب ان پر یہ مشکل ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا (پھر باقی حدیث ذکر کی)۔
(ج) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ کا کہنا ہے: محمد بن اسحاق کے علاوہ اس حدیث کو کوئی نہیں بیان کرتا، امام شعبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو نقل نہیں کیا اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے اور مستحاضہ کے نام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
(د) امام ابوبکر کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند کے راویوں میں اختلاف ہے۔
(ر) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو شعبہ اور محمد بن اسحاق نے نقل کیا ہے جیسے پیچھے گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1655]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا جب ان پر یہ مشکل ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا (پھر باقی حدیث ذکر کی)۔
(ج) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ کا کہنا ہے: محمد بن اسحاق کے علاوہ اس حدیث کو کوئی نہیں بیان کرتا، امام شعبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو نقل نہیں کیا اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے اور مستحاضہ کے نام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
(د) امام ابوبکر کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند کے راویوں میں اختلاف ہے۔
(ر) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو شعبہ اور محمد بن اسحاق نے نقل کیا ہے جیسے پیچھے گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1655]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه أبو داؤد 290»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1656
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْحَدِيثَ وَرُوِيَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ.
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان عورت مستحاضہ ہو گئی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔۔۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1657
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَمْنَةَ فَقُلْتُ: إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَقَالَ:" لِتَجْلِسْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلْ وَتُؤَخِّرِ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرِ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّيهِمَا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ وَرُوِيَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حمنہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سوال کیا کہ وہ مستحاضہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے، پھر غسل کرے اور ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی ادا کر لے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشاء کو جلدی ادا کر لے اور غسل کرے اور نماز پڑھے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الطبراني 145»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا وَهْبُ بْنُ ⦗٥٢١⦘ بَقِيَّةَ ثنا خَالِدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ثنا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي عَلِيٍّ أَصَحُّ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ" فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَيْنَا الصَّفَارَةَ فَوْقَ الْمَاءِ فَقَالَ:" تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ: لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صَفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ وَذَكَرَهُ، هَكَذَا رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَيْهِ وَالْمَشْهُورُ رِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ كَمَا مَضَى وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (اور ایک روایت میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں، اور ابو علی کی روایت زیادہ صحیح ہے)، فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا اتنے عرصے سے مستحاضہ ہے اور اس نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! یہ شیطان کی طرف سے ہے، اسے کہو ٹب میں بیٹھے۔“ وہ بیٹھی یہاں تک کہ ہم نے زردی پانی کے اوپر دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، پھر مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، پھر فجر کے لیے ایک غسل کرے اور اس کے درمیان وضو کرے۔“
اور ابو علی کی حدیث میں ہے کہ ٹب میں بیٹھے جب پانی کے اوپر زردی دیکھے تو غسل کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1658]
اور ابو علی کی حدیث میں ہے کہ ٹب میں بیٹھے جب پانی کے اوپر زردی دیکھے تو غسل کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 296»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلَاةَ السَّنَّةَ وَالسَّنَتَيْنِ لَا أُصَلِّي فَقَالَتِ: انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَذِهِ فَاطِمَةُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِ فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضَ أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ" وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ كَذَلِكَ وَقَالَ: ثُمَّ الطُّهُورُ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَخَالَفَهُ غَيْرُهُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ.
(الف) ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا: میں ڈرتی ہوں کہ کہیں جہنم میں نہ چلی جاؤں، میں نے سال، دو سال سے نماز چھوڑ رکھی ہے، میں نہیں پڑھ سکی۔ انہوں نے کہا: تو انتظار کر یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ فاطمہ ہے، اس طرح کہہ رہی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اسے کہہ دو کہ ہر مہینے اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر ہر روز ایک غسل کرے، پھر ہر نماز کے وقت وضو کرے، اور صفائی کرے اور روئی رکھے، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو اسے لاحق ہو گئی ہے یا شیطان کی طرف سے چوکا ہے یا رگ کٹ گئی ہے۔“ (ب) ابو عاصم سے اسی طرح منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم 1/283»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1660
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ خَالَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ أَنَّهَا اسْتَحَاضَتْ فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ فَاطِمَةُ ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي ⦗٥٢٢⦘ لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي كُلِّ شَهْرٍ عِدَادَ أَقْرَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَعْرِضَ لَهَا هَذَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ غِسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ الطُّهْرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ابن ابی ملیکہ اپنی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مستحاضہ ہوئیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور اپنی بیماری کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ نے (اس اس طرح) ذکر کیا ہے وہ استحاضہ والی ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ سے کہو: وہ ہر مہینے اپنے حیض کی گزشتہ عادت کے مطابق (اتنے دن) نماز سے رکی رہے، پھر ایک دفعہ غسل کرے، پھر ہر نماز کے لیے وضو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1661
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ عَلِيٌّ وَحَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْأَشْعَثِ أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَلَبِثَتْ زَمَانًا لَا تُصَلِّي فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ فَاطِمَةُ ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَدَدَ أَقْرَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَعْرِضَ لَهَا هَذَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ غَسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ الطُّهْرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
ابی الاشعث کی حدیث میں ہے کہ ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں اور ایک عرصہ ٹھہری رہیں، وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں، وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان سے ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ مستحاضہ ہو گئی ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ کو کہو: ہر ماہ میں اپنے حیض کی اس گنتی کے مطابق جو استحاضہ آنے سے پہلے تھی نماز سے رکی رہے، پھر ایک دفعہ غسل کرے پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1662
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ عَلِيٌّ: وَثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ قَالَا: ثنا، عَنْبَسَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْأَشْعَثِ أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَلَبِثَتْ زَمَانًا لَا تُصَلِّي فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا وَذَكَرَتْ قِصَّةً قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَنِ الصَّلَاةِ عَدَدَ قُرُوئِهَا فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الْأَيَّامُ فَلْتَغْتَسِلْ غَسْلَةً وَاحِدَةً تَسْتَدْخِلُ وَتُنَظِّفُ وَتَسْتَثْفِرُ ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهَا رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا" قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ: فَسَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ فَأَخْبَرَنِي بِنَحْوِهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مَعْنَى الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَعُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُضَعَّفَانِ أَمْرَهُ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا اور ابی الاشعث کی حدیث میں ہے کہ ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، وہ ایک لمبا عرصہ ٹھہری رہیں اور نماز نہیں پڑھتی تھیں، وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان سے سارا قصہ بیان کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ سے کہو: اپنے حیض کی گنتی میں ہر ماہ نماز پڑھنے سے رکی رہے، جب یہ دن گزر جائیں تو وہ ایک دفعہ غسل کرے اور صفائی کرے اور لنگوٹ باندھے، پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے اور نماز پڑھے۔ اس کو شیطان کی طرف سے چوکا پہنچا ہے یا رگ کٹ گئی ہے یا بیماری پیش آگئی ہے۔“
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور عثمان بن سعد کاتب قوی نہیں ہے، یحییٰ بن سعید اور یحییٰ بن معین اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1662]
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور عثمان بن سعد کاتب قوی نہیں ہے، یحییٰ بن سعید اور یحییٰ بن معین اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ