🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
325. -- باب: المستحاضة تغسل عنها أثر الدم وتغتسل وتستثفر بثوب وتصلي ثم تتوضأ لكل صلاة
-- باب: مستحاضہ خون کا اثر دھو لے گی، غسل کرے گی، کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھے گی اور نماز پڑھے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1623
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ:" فَاغْتَسِلِي عِنْدَ طُهْرِكِ وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ" ⦗٥٠٨⦘ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَرَوَى الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ:" وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ" قَالَ الشَّيْخُ: وَالصَّحِيحُ أَنَّ هَذِهِ الْكَلِمَةَ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
(الف) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بے شک فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی ہوں، میں پاک نہیں ہوتی۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے طہر کے وقت غسل کر اور نماز کے لیے وضو کر۔“
ایک روایت میں ہے کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کر۔“ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/280»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1624
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ:" لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي" قَالَ: قَالَ أَبِي: ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى دُونَ قَوْلِ عُرْوَةَ وَقَوْلُ عُرْوَةَ فِيهِ صَحِيحٌ وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، جب تیرا حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے جسم سے خون دھو، پھر نماز پڑھ۔“ راوی کہتے ہیں: میرے باپ نے کہا: پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ وہ (حیض کا) وقت آجائے۔
اس میں عروہ کا قول صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 226»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ وَهَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ وَقُرَّةُ بْنُ عِيسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَجَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيِّ ⦗٥٠٩⦘ وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ فَوَقَفُوهُ عَلَى عَائِشَةَ وَاخْتَصَرُوهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيِّ إِلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنْ عِنْدِ ابْنِ دَاوُدَ فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ؟ قُلْنَا: حَدَّثَنَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ الْحَدِيثَ فَقَالَ يَحْيَى: أَمَا إِنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا، زَعَمَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ يَقُولُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: حَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ لَا شَيْءَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: حَبِيبٌ ثَبْتٌ؟ قَالَ: نَعَمْ إِنَّمَا رَوَى حَدِيثَيْنِ قَالَ: أَظُنُّ يَحْيَى يُرِيدُ مُنْكَرَيْنِ حَدِيثُ: تُصَلِّي الْحَائِضُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ وَحَدِيثُ الْقُبْلَةِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ ضَعِيفٌ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ وَقَفَهُ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا وَوَقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ ⦗٥١٠⦘ عَنِ الْأَعْمَشِ وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھ، پھر غسل کر اور ہر نماز کے لیے وضو کر، اگرچہ خون چٹائی پر گرتا ہے۔“
(ب) حفص بن غیاث، ابو اسامہ اور اسباط بن محمد نے اعمش سے نقل کیا ہے اور انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف قرار دیا ہے۔
(ج) عبدالرحمن بن بشر بن حکم کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن داؤد خریبی کے پاس سے یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: ابن داؤد کے پاس سے۔ انہوں نے پوچھا: تم سے کیا بیان کیا؟ ہم نے کہا: اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن عروہ عن عائشہ۔ یحییٰ نے کہا: سفیان ثوری رحمہ اللہ اس (سند) کو لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) شیخ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔ امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: حبیب کے عروہ سے روایت کرنے میں کوئی حیثیت نہیں۔
(ر) عباس بن محمد دوری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حبیب کی روایات ثابت ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے دو روایات بیان کی ہیں۔ عباس کا گمان ہے کہ ان کی مراد دو منکر روایات ہیں: (1) حائضہ نماز پڑھے گی اگرچہ خون چٹائی پر گرے اور دوسری حدیثِ قبلہ۔
(س) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعمش کی جو حدیث حبیب سے ہو وہ ضعیف ہے۔
(ش) اعمش کی حبیب سے حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل حفص بن غیاث کا موقوف ٹھہرانا ہے۔ انہوں نے حبیب کی حدیث کے مرفوع ہونے سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح اسباط نے بھی اعمش سے اسے موقوف نقل کیا ہے۔ ابن داؤد نے اعمش سے اس کا ابتدائی حصہ مرفوع نقل کیا ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو ہو۔ حبیب کی حدیث کے ضعیف ہونے پر دلیل زہری کی روایت ہے جو عروہ عن عائشہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ یہ مستحاضہ والی حدیث میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو الْعَلَاءِ يَعْنِي أَيُّوبَ بْنَ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ:" تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ مَرَّةً ثُمَّ تَتَوَضَّأُ إِلَى مِثْلِ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا فَإِنْ رَأَتْ صُفْرَةً انْتَضَحَتْ وَتَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے متعلق فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر ایک مرتبہ غسل کرے، پھر اپنے حیض کے دنوں جیسے (اگلے) دنوں تک وضو کرے، اگر زردی دیکھے تو چھینٹے مارے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1627
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ عَنِ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی پچھلی روایت کی طرح نقل فرماتی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ثنا يَزِيدُ، فَذَكَرَهُمَا بِالْإِسْنَادَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ الْأَوَّلَ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدِيثُ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ مَرْفُوعًا.
(الف) یزید نے دونوں سندوں سے بیان کیا ہے مگر اس نے پہلے کو عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب رحمہ اللہ کی حدیث ضعیف ہے، صحیح نہیں۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ ابویوسف رحمہ اللہ سے مرفوعاً نقل کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه أبو داؤد 299»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُقْبَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ ثنا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَانْظُرِي أَيَّامَ أَقْرَائِكِ فَإِذَا جَاوَزْتِ فَاغْتَسِلِي وَاسْتَدْفِرِي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، اپنے حیض کے دنوں کا انتظار کر، جب وہ گزر جائیں تو غسل کر اور لنگوٹ باندھ کر نماز کے لیے وضو کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/210»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1630
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ عَلِيٌّ: تَفَرَّدَ بِهِ عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ، وَالَّذِي عِنْدَ النَّاسِ عَنْ ⦗٥١١⦘ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفًا:" الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَتَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ".
اسماعیل اس سند سے موقوف روایت نقل کرتے ہیں کہ استحاضہ والی اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
ابو یوسف سے اسے بیان کرنے میں عمار بن مطر منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/210»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1631
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ بَيَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ:" تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلُ وَتَسْتَذْفِرُ وَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے اور غسل کر کے لنگوٹ باندھے اور ہر نماز کے وقت وضو کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارمي 790»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ثنا زَائِدَةُ ثنا بَيَانٌ، عَنْ عَامِرٍ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: ثُمَّ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. هَكَذَا رِوَايَةُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَبَيَانٍ، عَنْ مُغِيرَةَ وَفِرَاسٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَرِوَايَةُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ: تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً، وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
(الف) عامر نے نقل کیا ہے کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ (ب) قمیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ ”وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔“ (ج) قمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ”وہ روزانہ ایک مرتبہ غسل کرے گی“، اسی طرح عثمان بن سعد کاتب کی روایت ابن ابی ملیکہ سے ہے جو سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا قصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ (د) عثمان بن سعد قوی نہیں (ر) حجاج بن ارطاۃ ابن ابی ملیکہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں