السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
326. -- باب: غسل المستحاضة
-- باب: مستحاضہ کے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1663
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ⦗٥٢٣⦘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ:" تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ عِنْدَ كُلِّ طَهُورٍ وَتُصَلِّي" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ وَقَالَ وَهْبَانِ بْنُ بَقِيَّةَ: تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ عورت کے متعلق سوال کیا کہ وہ کیسے کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے، پھر ہر دن ہر وضو کے وقت غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/219»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1664
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ فَقَالَ:" تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ ثُمَّ تَحْتَشِي ثُمَّ تُصَلِّي" قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِيهِ نَظَرٌ وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ لِابْنِ جُرَيْجٍ وَلَا لِأَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ وَجْهٍ غَيْرِ هَذَا وَبِمِثْلِهِ لَا تَقُومُ حُجَّةٌ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهَا تَغْتَسِلُ لِكُلِّ يَوْمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَفِي رِوَايَةٍ لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ وَفِي إِحْدَى الرِّوَايَاتِ عَنْ عَائِشَةَ كَذَلِكَ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ كُلَّ يَوْمٍ غُسْلًا، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَمْنَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" إِنْ قَوِيتِ فَاجْمَعِي بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَصَلِّي الصُّبْحَ بِغُسْلٍ" وَأَعْلَمَهَا أَنَّهُ أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيْهِ لَهَا وَأَنَّهُ يُجْزِئُهَا الْأَمْرُ الْأَوَّلُ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ الطُّهْرِ مِنَ الْحَيْضِ ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهَا بِغُسْلٍ بَعْدَهُ قَالَ: وَإِنْ رُوِيَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ حَدِيثٌ مُعَلَّقٌ فَحَدِيثُ حَمْنَةَ بَيَّنَ أَنَّهُ اخْتِيَارٌ وَأَنَّ غَيْرَهُ يُجْزِئُ مِنْهُ.
(الف) سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مستحاضہ کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے گی، پھر ہر طہر کے لیے غسل کر، روئی رکھے اور نماز پڑھے۔“
(ب) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ جعفر بن سلیمان محلِ نظر ہے، یہ حدیث ابن جریج اور ابو زبیر سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے معروف نہیں اور اس جیسی روایات قابلِ حجت نہیں، اس میں اختلاف ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر دن غسل کرے گی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہر نماز کے وقت (غسل کرے گی)۔
(ر) ایک روایت میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا مشکل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔
(س) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طہر سے دوسرے طہر تک غسل کرے گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی ایک روایت اسی طرح ہے، دوسری روایت میں ہے کہ ہر روز غسل کرے گی۔
(ش) ایک دوسری روایت میں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ص) امام شافعی رحمہ اللہ سے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے تو ایک غسل کے ساتھ ظہر اور عصر کو جمع کرے، پھر ایک غسل کے ساتھ مغرب اور عشاء کو جمع کرلے اور صبح کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لے۔“ انھوں نے بتلایا کہ انھیں دونوں کاموں میں یہ زیادہ پسندیدہ تھا، اگرچہ انھیں پہلا حکم بھی کافی تھا کہ وہ حیض سے طہر کے لیے غسل کرے، پھر اس کے بعد غسل کا حکم نہیں تھا، مستحاضہ والی روایت مطلق ہے، حدیثِ حمنہ میں اختیار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1664]
(ب) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ جعفر بن سلیمان محلِ نظر ہے، یہ حدیث ابن جریج اور ابو زبیر سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے معروف نہیں اور اس جیسی روایات قابلِ حجت نہیں، اس میں اختلاف ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر دن غسل کرے گی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہر نماز کے وقت (غسل کرے گی)۔
(ر) ایک روایت میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا مشکل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔
(س) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طہر سے دوسرے طہر تک غسل کرے گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی ایک روایت اسی طرح ہے، دوسری روایت میں ہے کہ ہر روز غسل کرے گی۔
(ش) ایک دوسری روایت میں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ص) امام شافعی رحمہ اللہ سے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے تو ایک غسل کے ساتھ ظہر اور عصر کو جمع کرے، پھر ایک غسل کے ساتھ مغرب اور عشاء کو جمع کرلے اور صبح کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لے۔“ انھوں نے بتلایا کہ انھیں دونوں کاموں میں یہ زیادہ پسندیدہ تھا، اگرچہ انھیں پہلا حکم بھی کافی تھا کہ وہ حیض سے طہر کے لیے غسل کرے، پھر اس کے بعد غسل کا حکم نہیں تھا، مستحاضہ والی روایت مطلق ہے، حدیثِ حمنہ میں اختیار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
327. -- باب: الرجل يبتلى بالمذي أو البول
-- باب: اس آدمی کا بیان جو کثرتِ مذی یا پیشاب (کے قطروں کی بیماری) میں مبتلا ہو
حدیث نمبر: 1665
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْمُفَضَّلِ الْأَسْفَاطِيُّ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ ثنا زَائِدَةُ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ ⦗٥٢٤⦘ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَ عِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ ذَلِكَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بہت زیادہ مذی والا تھا اور میری زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھی، (اس لیے) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے متعلق) پوچھنے سے شرم محسوس کی، میں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مذی کے متعلق) سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو یہ پائے تو اپنی شرم گاہ کو دھو اور وضو کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1665]
حدیث نمبر: 1666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَجُلًا مَذَّاءً فَكَانَ يَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَيُدْخِلُهَا فِي إِحْلِيلِهِ"".
عطاء سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بہت زیادہ مذی والے آدمی تھے، وہ اپنی پیشاب والی جگہ میں بٹی ہوئی بتی رکھ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1667
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ:" إِنِّي لَأَجِدُهُ يَنْحَدِرُ مِنِّي مِثْلَ الْخَزِيرَةِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" يَعْنِي الْمَذْيَ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے خزیرہ (پتلے حلیم) کی طرح کوئی چیز (مذی) نیچے اترتی ہے، جب تم میں سے کوئی یہ پائے تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز جیسا وضو کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 85»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1668
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جُنْدُبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْمَذْيِ فَقَالَ:" إِذَا وَجَدْتَهُ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ".
جندب جو عبداللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی کے غلام تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مذی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”جب تو یہ پائے تو اپنی شرم گاہ کو دھو اور نماز جیسا وضو کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك 86»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ:" كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدْ سُلِسَ مِنْهُ الْبَوْلُ فَكَانَ يُدَارِي مِنْهُ مَا غَلَبَ فَلَمَّا غَلَبَهُ أَرْسَلَهُ قَالَ: وَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ".
خارجہ بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو لگاتار پیشاب آتا رہتا تھا، وہ اس کا علاج کرتے رہے لیکن افاقہ نہ ہوا، جب وہ (مرض) ان پر غالب آگیا تو انہوں نے (علاج) چھوڑ دیا؛ راوی کہتا ہے کہ وہ نماز پڑھتے تھے تو (بعض دفعہ) (پیشاب) نکل رہا ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 582»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1670
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْحَنْظَلِيَّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كَبِرَ زَيْدٌ حَتَّى سَلَسَ مِنْهُ الْبَوْلُ فَكَانَ يُدَارِيهِ مَا اسْتَطَاعَ فَإِذَا غَلَبَهُ تَوَضَّأَ وَصَلَّى" وَقَدْ رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ حَدِيثٌ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
خارجہ بن زید بن ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ ہوگئی تو ان کو لگاتار پیشاب آتا تھا، وہ اس کی دوا کرتے تھے جتنی طاقت رکھتے تھے، جب ان پر غالب آگیا تو انہوں نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔
اس معنی میں ایک حدیث ایسی سند سے مروی ہے جس میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1670]
اس معنی میں ایک حدیث ایسی سند سے مروی ہے جس میں ضعف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق 582»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1671
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ⦗٥٢٥⦘ إِنَّ بِي بَاسُورًا وَكُلَّمَا تَوَضَّأْتُ سَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَسَالَ مِنْ قَرْنِكَ إِلَى قَدَمِكَ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْكَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بواسیر ہے، جب میں وضو کرتا ہوں وہ بہہ پڑتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرلے تو وہ تیرے سر سے بہہ کر تیرے پاؤں تک چلی جائے، تب بھی تجھ پر وضو نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الطبراني في الكبير 582»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1672
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ثنا أَبُو يَعْلَى ثنا سُوَيْدٌ ثنا بَقِيَّةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ بِي الْبَاصُورَ وَإِنِّي أَتَوَضَّأُ فَيَسِيلُ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِي بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا مُنْكَرٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ غَيْرُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهُوَ مَجْهُولٌ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ.
(الف) عبدالملک نے اسی سند سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے بواسیر ہے اور جب بھی میں وضو کرتا ہوں تو (خون) بہہ پڑتا ہے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔ (ب) ابو احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے، مجھے معلوم نہیں کہ عبدالملک بن مہران کے علاوہ کسی اور نے عمرو بن دینار سے یہ روایت نقل کی ہو۔ (ج) ابو احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ مجہول راوی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن عدي في الكامل 5/307»
الحكم على الحديث: منكر