🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
559. -- باب: كيف القيام من الجلوس
-- باب: بیٹھنے کے بعد کس طرح کھڑا ہوا جائے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْهِسِنْجَانِيُّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ يُوسُفَ، وَعِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، وَدَخَلَ عَلَيْنَا ⦗١٧٩⦘ مَسْجِدَنَا فَقَالَ:" إِنِّي لَأُصَلِّي وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: فَذَكَرَ أَنَّهُ حَيْثُ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ، يَعْنِي فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى اسْتَوَى قَاعِدًا، ثُمَّ قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ".
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میں نماز پڑھانے کا ارادہ تو نہیں رکھتا لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ کو نماز سکھاؤں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو سیدھے بیٹھ گئے، پھر زمین پر ٹیک لیتے ہوئے کھڑے ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 677، 802، 823»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2761
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَكَانَ مَالِكٌ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْأَخِيرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى سْتَوَى قَاعِدًا قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ".
ایک دوسری سند سے ابوقلابہ رحمہ اللہ سے یہی منقول ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں کہ مالک رضی اللہ عنہ پہلی رکعت میں جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے اور زمین پر سہارا لیتے ہوئے کھڑے ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي واحمد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2762
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَرْجِعُ مِنْ سَجْدَتَيْنِ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِسُنَّةِ الصَّلَاةِ وَإِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ أَنِّي أَشْتَكِي".
مغیرہ بن حکیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ نماز میں دو سجدوں کے بعد اپنے پاؤں پر ہی کھڑے ہو جاتے تھے، جب انہوں نے نماز سے سلام پھیرا تو میں نے ان کے سامنے (جلسہ استراحت کا) ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ کوئی نماز کی سنت نہیں ہے، میں تو اس لیے ایسا کرتا ہوں کہ مجھے تکلیف (بیماری) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطاء 201»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
560. -- بَابُ بَيَانِ مَنْ لَا يَرَى جَلْسَةَ الِاسْتِرَاحَةِ
-- جلسہ استراحت نہ کرنے والوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2763
رَوَی خَالِدُ بْنُ إِلْیَاسَ - وَیُقَالُ إِیَاسٍ، وَہُوَ ضَعِیفٌ - عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَنْہَضُ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی صُدُورِ قَدَمَیْہِ۔ وَحَدِیث.
خالد بن الیاس، جنہیں ایاس بھی کہا جاتا ہے اور وہ ضعیف راوی ہیں، نے صالح مولیٰ التوأمہ سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے پاؤں کے پنجوں کے بل کھڑے ہوتے تھے۔“
اور ایک حدیث کا حصہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q2763]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ السُّيُوطِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُصَلِّي مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ كِنْدَةَ قَالَ: فَرَأَيْتُهُ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَلَمَّا قَامَ مِنَ السَّجْدَةِ الْأَخِيرَةِ قَامَ كَمَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ" رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُومُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ فِي الصَّلَاةِ" قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ، فَحَدَّثْتُ بِهِ خَيْثَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُومُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيَّ فَقَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُومُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، فَحَدَّثْتُ بِهِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ فَقَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ يَقُومُونَ عَلَى صُدُورِ أَقْدَامِهِمْ فِي الصَّلَاةِ".
سلیمان اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عمارہ بن عمیر رحمہ اللہ کو کندہ کے دروازوں کی جانب نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے رکوع کیا پھر سجدہ کیا، پھر جب دوسرے سجدے سے اٹھے تو اسی طرح کھڑے ہو گئے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے سامنے جلسہ استراحت کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ نے بتایا کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ نماز میں اپنے قدموں پر ہی کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔
اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے بھی عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ پھر میں نے خیثمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اپنے پاؤں کی انگلیوں پر کھڑے ہوتے تھے۔ پھر میں نے محمد بن عبداللہ ثقفی رحمہ اللہ سے یہ بات کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کو دیکھا، وہ بھی اپنے پاؤں کی انگلیوں پر کھڑے ہوتے تھے۔ پھر میں نے عطیہ عوفی رحمہ اللہ کے سامنے یہ بات کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن عباس رضی اللہ عنہما، ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ یہ تمام حضرات نماز میں (دوسرے سجدے سے) اپنے پاؤں کی انگلیوں پر ہی کھڑے ہو جاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث: «صحيح اس مين ايك راوي ضعيف هي۔»

الحكم على الحديث: صحيح اس مين ايك راوي ضعيف هي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ:" رَمَقْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَرَأَيْتُهُ يَنْهَضُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، وَلَا يَجْلِسُ إِذَا صَلَّى فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ حِينَ يَقْضِي السُّجُودَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ صَحِيحٌ، وَمُتَابَعَةُ السُّنَّةِ أَوْلَى، وَابْنُ عُمَرَ ⦗١٨١⦘ قَدْ بَيَّنَ فِي رِوَايَةِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ وَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ يَشْتَكِي، وَعَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے پاؤں کی انگلیوں پر (تیزی سے) سیدھے کھڑے ہوتے تھے اور پہلی رکعت میں سجدے سے فارغ ہونے کے بعد بیٹھتے نہ تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود کی روایت صحیح ہے، لیکن سنت کی متابعت زیادہ بہتر ہے اور مغیرہ بن حکیم کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ نماز کی سنت نہیں ہے۔ یہ تو انہوں نے تکلیف (بیماری) کی وجہ سے کیا ہے، اور عطیہ عوفی سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اسناده حسن وقد جاء بسند صحيح في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
561. -- باب: ما يفعل في كل ركعة وسجدة من الصلاة ما وصفنا
-- باب: نماز کی ہر رکعت اور سجدے میں وہی کچھ کیا جائے گا جو ہم نے بیان کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ، أَحَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ ⦗١٨٢⦘ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اقْعُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ افْعَلْ كَذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ" فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ كَذَا قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَرِوَايَتُهُ كَذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ اس آدمی نے نماز ادا کی، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”تم پر بھی سلام ہو، اور جا کر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ پلٹا اور دوبارہ نماز پڑھی، پھر آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا۔ جب تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہی بات کہی تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، پھر قرآن سے جو تجھے آسان لگے پڑھ، پھر انتہائی اطمینان سے رکوع کر، پھر رکوع سے سر اٹھا یہاں تک کہ تو سیدھا کھڑا ہوجائے، پھر سجدہ کر، پھر سجدے سے اٹھ کر سیدھا بیٹھ جا، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ دوسرا سجدہ کر، پھر نہایت اطمینان کے ساتھ سیدھا بیٹھ جا، پھر اسی طرح ہر رکعت میں کر۔“
ابواسامہ نے اس (روایت) کا اقرار کیا اور کہا: ”جی ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 757»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2766
وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ أَبِي قُدَامَةَ، وَيُوسُفَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ:" ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ وَتَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ،.
ابواسامہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ، پھر اطمینان سے دوسرا سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو جا۔ اسی طرح اپنی نماز مکمل کر۔“
صحیح روایت عبیداللہ بن سعید ابوقدامہ اور یوسف بن موسیٰ کی ابواسامہ سے یہی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَابْنِ نُمَيْرٍ إِلَّا أَنَّهُ أَحَالَهُ عَلَى رِوَايَةِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَلَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى السُّجُودَ الثَّانِي وَلَا مَا بَعْدَهُ مِنَ الْقُعُودِ أَوِ الْقِيَامِ، وَالْقِيَامُ أَشْبَهُ بِمَا سِيقَ الْخَبَرُ لِأَجْلِهِ مِنْ عَدِّ الْأَرْكَانِ دُونَ السُّنَنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) ایک دوسری سند سے اسی جیسی روایت منقول ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو جا۔“
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بھی یہ روایت ذکر کی ہے۔
یحییٰ کی روایت میں دوسرے سجدے کا ذکر نہیں اور نہ ہی دوسرے سجدے کے بعد جلسہ استراحت کا ذکر ہے اور نہ قیام کا ذکر کیا ہے۔
(ج) اور قیام زیادہ مشابہ ہے، کیونکہ ارکان کو شمار کیا جا رہا ہے نہ کہ سنن کو (واللہ اعلم)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2768
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ⦗١٨٣⦘ بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتے، پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، پھر جب سیدھے کھڑے ہو جاتے تو کہتے: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“، پھر سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہتے، پھر سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت بھی تکبیر کہتے، پھر دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی تکبیر کہتے۔ مکمل نماز اس طرح ادا کرتے۔ اسی طرح دو رکعتوں کے بعد تشہد سے اٹھتے وقت بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 789»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں