السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
572. -- باب: قدر الجلوس في الركعتين الأوليين
-- باب: پہلی دو رکعتوں میں بیٹھنے کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 2799
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّمَا يَكُونُ عَلَى الرَّضْفِ قَالَ: قُلْتُ حَتَّى يَقُومَ؟ قَالَ: حَتَّى يَقُومَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلی دو رکعتوں میں ہوتے تو ایسے لگتا کہ گویا آپ گرم پتھروں پر ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہاں تک کہ کھڑے ہو جاتے؟ انہوں نے فرمایا: یہاں تک کہ کھڑے ہو جاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ في الذي بعده»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2800
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
ایک دوسری سند سے ابراہیم بن سعد بن ابراہیم سے بھی اسی معنی کی روایت منقول ہے، اور شعبہ بن حجاج نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2800]
573. -- باب: الدليل على أن القعود للتشهد الأول ليس بواجب
-- باب: اس بات کی دلیل کہ پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 2801
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ مَوْلَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ بْنِ أَزِدْ شَنُوءَةَ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فَلَمْ يَجْلِسْ وَقَامَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
عبدالرحمن بن ہرمز جو بنو عبدالمطلب کے غلام ہیں، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ، جو ازد شنوئہ کے قبیلے سے تھے، بنو عبدالمطلب بن عبد مناف کے حلیف تھے اور صحابیِ رسول بھی تھے۔ انہوں نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں کے بعد سیدھے کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے تکبیر کہہ کر سلام سے پہلے دو سجدے کیے۔ پھر سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1224، مسلم 570»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2802
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ السِّمْسَارُ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَجْلِسْ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے، پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
574. -- باب: التكبير عند القيام من الثنتين بعد الجلوس
-- باب: بیٹھنے کے بعد دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2803
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ:" ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.
ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”نماز کے لیے کھڑے ہوتے۔۔۔ پھر جب دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 289»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2804
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ"، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَخَذَ عِمْرَانُ ⦗١٩٤⦘ بِيَدِي، فَقَالَ:" لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا مِثْلَ صَلَاةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ: لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا مِثْلَ صَلَاةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ" فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ رضی اللہ عنہ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بھی تکبیر کہتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی تو عمران رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے: واقعی انہوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد کروا دی یا فرمایا کہ انہوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھائی۔
یہ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہیں اور سلیمان کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2804]
یہ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہیں اور سلیمان کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہما نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 786»
الحكم على الحديث: صحيح
575. -- باب: الاعتماد بيديه على الأرض إذا نهض قياسا على ما روينا في النهوض في الركعة الأولى
-- باب: اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں سے زمین پر ٹیک لگانا، اس روایت پر قیاس کرتے ہوئے جو ہم نے پہلی رکعت سے اٹھنے کے بارے میں نقل کی ہے
حدیث نمبر: 2805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فَيَقُولُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا" رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ اسْتَوَى قَاعِدًا وَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ".
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو کہتے: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ پھر وہ کسی نماز کے وقت کے علاوہ نماز پڑھ کر دکھاتے۔ آپ پہلی رکعت میں جب اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے اور زمین پر ٹیک لے کر اٹھتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 824»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2806
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ بْنِ الْبَغْدَادِيِّ بِهَرَاةَ أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا" قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ اعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ بِيَدَيْهِ" فَقُلْتُ لِوَلَدِهِ وَلِجُلَسَائِهِ: لَعَلَّهُ يَفْعَلُ هَذَا مِنَ الْكِبَرِ؟ قَالُوا: لَا وَلَكِنْ هَذَا يَكُونُ" وَرُوِّينَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ" يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا نَهَضَ" وَكَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ الْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ.
(ا) ازرق بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کے ساتھ زمین پر سہارا لے کر اٹھتے۔ میں نے ان کے بیٹوں اور دوستوں سے کہا کہ شاید وہ بڑھاپے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں لیکن ایسا ہوسکتا ہے۔
(ب) ہم سیدنا نافع رحمہ اللہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جب سجدے سے اٹھتے تو زمین پر سہارا لے کر اٹھتے تھے، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ اور کئی تابعین رحمہ اللہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2806]
(ب) ہم سیدنا نافع رحمہ اللہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جب سجدے سے اٹھتے تو زمین پر سہارا لے کر اٹھتے تھے، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ اور کئی تابعین رحمہ اللہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2807
وَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ إِمْلَاءً ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدِهِ فِي الصَّلَاةِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”نماز میں ہاتھ پر ٹیک لگانے“ سے منع فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2808
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَّوَيْهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي لَفْظِ حَدِيثِ ابْنِ شَبَّوَيْهِ:" نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدِهِ فِي الصَّلَاةِ"، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ:" نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ"، وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ:" نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا نَهَضَ فِي الصَّلَاةِ" فَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِي مَتْنِهِ عَلَى عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ.
(ا) ابن شبویہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں اپنے ہاتھوں پر سہارا لینے سے منع کیا ہے۔“
(ب) ابن رافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز پڑھنے کے دوران اپنے ہاتھ پر سہارا لینے سے منع فرمایا ہے۔“
(ج) ابن عبدالملک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اپنے ہاتھوں پر سہارا لینے سے منع کیا ہے، جب نماز میں سجدے سے اٹھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2808]
(ب) ابن رافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز پڑھنے کے دوران اپنے ہاتھ پر سہارا لینے سے منع فرمایا ہے۔“
(ج) ابن عبدالملک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اپنے ہاتھوں پر سہارا لینے سے منع کیا ہے، جب نماز میں سجدے سے اٹھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح