السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
590. -- باب: من زعم أن موالي النبي صلى الله عليه وسلم يدخلون في هذه الجملة
-- باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام بھی اس جماعت (آل) میں داخل ہیں
حدیث نمبر: 2868
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ: لِأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ" فَلَمَّا جَعَلَهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ كَآلِهِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فِي تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ، فَكَذَلِكَ هُمْ فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ".
(ا) ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم میں سے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو اس نے ابورافع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، آپ کو بھی اس میں سے کچھ مل جائے گا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں گے۔ چنانچہ ابورافع رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا جائز (حلال) نہیں۔“
(ب) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان (غلاموں) کو آل کی طرح شمار کیا، جب وہ صدقے کی حرمت میں بنو ہاشم اور بنو مطلب میں شامل ہیں، اسی طرح صلوٰۃ میں بھی شامل ہوں گے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2868]
(ب) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان (غلاموں) کو آل کی طرح شمار کیا، جب وہ صدقے کی حرمت میں بنو ہاشم اور بنو مطلب میں شامل ہیں، اسی طرح صلوٰۃ میں بھی شامل ہوں گے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 10707»
الحكم على الحديث: ضعيف
591. -- باب: من زعم أن آل النبي صلى الله عليه وسلم هم أهل دينه عامة
-- باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آل سے مراد عام طور پر آپ کے دین کے پیروکار ہیں
حدیث نمبر: 2869
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ ⦗٢١٧⦘ لِلثَّوْرِيِّ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ:" قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ:" أَهْلُ الْبَيْتِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: مَنْ أَطَاعَهُ وَعَمِلَ بِسُنَنِهِ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَحْسِبُهُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ قَالَ: مَنْ أَطَاعَهُ قَالَ الشَّيْخُ: مَنْ ذَهَبَ هَذَا الْمَذْهَبَ الثَّانِي أَشْبَهُ أَنْ يَقُولَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ {احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ} [هود: ٤٠] وَقَالَ {إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعَدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ} [هود: ٤٦] فَأَخْرَجَهُ بِالشِّرْكِ عَنْ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ نُوحٍ وَقَدْ أَجَابَ عَنْهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، فَقَالَ: الَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ فِي مَعْنَى هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ} [هود: ٤٦] يَعْنِي الَّذِينَ أَمَرْنَا بِحَمْلِهِمْ مَعَكَ؛ لِأَنَّهُ قَالَ {وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ} [المؤمنون: ٢٧] فَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِأَنْ يَحْمِلَ مِنْ أَهْلِهِ مَنْ لَمْ يَسْبِقْ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْ أَهْلِ مَعْصِيَةٍ، ثُمَّ بَيَّنَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ.
عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا: آلِ محمد کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل بیت مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اور آپ کی سنت پر عمل کیا۔
ابوبکر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے کہا ہے: «مَنْ أَطَاعَهُ» ”جس نے آپ کی اطاعت کی“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو دوسرا مذہب اختیار کرتا ہے، وہ غالباً یہ دلیل دے گا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام سے کہا: ﴿احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ﴾ [سورة هود: 40] ”اس کشتی میں ہر چیز کے جوڑے جوڑے سوار کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی“ اور فرمایا: ﴿رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ * قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ [سورة هود: 45-46] ”اے اللہ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اللہ نے فرمایا: اے نوح! یہ آپ کے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں۔“ اللہ نے سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کو شرک کی وجہ سے نوح علیہ السلام کے اہل سے نکال دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ [سورة هود: 46] کا وہ معنیٰ نہیں جو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا اہل نہیں کہ کشتی میں سوار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ﴾ [سورة هود: 40]
”اور اپنے اہل کو کشتی میں سوار کر لو مگر جن کے بارے میں ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا۔“ اس آیت سے بھی سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کا آپ کے اہل میں ہونا واضح ہے اور کشتی میں سوار نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اعمال درست نہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2869]
ابوبکر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے کہا ہے: «مَنْ أَطَاعَهُ» ”جس نے آپ کی اطاعت کی“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو دوسرا مذہب اختیار کرتا ہے، وہ غالباً یہ دلیل دے گا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام سے کہا: ﴿احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ﴾ [سورة هود: 40] ”اس کشتی میں ہر چیز کے جوڑے جوڑے سوار کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی“ اور فرمایا: ﴿رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ * قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ [سورة هود: 45-46] ”اے اللہ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اللہ نے فرمایا: اے نوح! یہ آپ کے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں۔“ اللہ نے سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کو شرک کی وجہ سے نوح علیہ السلام کے اہل سے نکال دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ [سورة هود: 46] کا وہ معنیٰ نہیں جو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا اہل نہیں کہ کشتی میں سوار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ﴾ [سورة هود: 40]
”اور اپنے اہل کو کشتی میں سوار کر لو مگر جن کے بارے میں ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا۔“ اس آیت سے بھی سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کا آپ کے اہل میں ہونا واضح ہے اور کشتی میں سوار نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اعمال درست نہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث: «صحيح، مصنف عبدالرزاق مين نهين ملي۔»
الحكم على الحديث: صحيح، مصنف عبدالرزاق مين نهين ملي
حدیث نمبر: 2870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنُ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ رَجُلٌ مِنَّا قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ قَالَ: جِئْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ، فَاجْلِسْ، قَالَ: فَجَاءَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَا، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا، وَحُسَيْنًا فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ وَزَوْجَهَا، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ وَأَنَا مُنْتَبِذٌ فَقَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] " اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي، اللهُمَّ أَهْلِي أَحَقُّ" قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ قَالَ:" وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي" قَالَ وَاثِلَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنَّهَا لِمَنْ أَرْجَى مَا أَرْجُو".
سیدنا واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتا تھا، لیکن وہ نہ ملے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے گئے ہیں۔ آپ یہاں تشریف رکھیے، اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے اور اندر چلے گئے، میں بھی ان کے ہمراہ اندر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند کو اپنے قریب بٹھایا۔ پھر ان پر اپنی چادر ڈالی۔ میں ایک طرف تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست کو لے جائے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔ اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں، اے اللہ! اہل والے زیادہ حق دار ہیں۔“ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی آپ کے اہل میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تم بھی میرے اہل میں شامل ہو۔“ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ میری سب سے بڑی امیدوں میں سے ایک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن حبان 6976»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2871
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَهُوَ إِلَى تَخْصِيصِ وَاثِلَةَ بِذَلِكَ أَقْرَبُ مِنْ تَعْمِيمِ الْأُمَّةِ بِهِ، وَكَأَنَّهُ جَعَلَ وَاثِلَةَ فِي حُكْمِ الْأَهْلِ تَشْبِيهًا بِمَنْ يَسْتَحِقُّ هَذَا الِاسْمَ لَا تَحْقِيقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث ایک دوسری سند سے منقول ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔
(ب) مذکورہ حدیث میں واثلہ رضی اللہ عنہ کا آل میں سے ہونا ان کی خصوصیت ہے۔ تمام امت کے لیے اس کا ثبوت امرِ بعید ہے اور واثلہ رضی اللہ عنہ کو آل کہنا بھی مشابہت کی بنا پر ہے نہ کہ حقیقتاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2871]
(ب) مذکورہ حدیث میں واثلہ رضی اللہ عنہ کا آل میں سے ہونا ان کی خصوصیت ہے۔ تمام امت کے لیے اس کا ثبوت امرِ بعید ہے اور واثلہ رضی اللہ عنہ کو آل کہنا بھی مشابہت کی بنا پر ہے نہ کہ حقیقتاً۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2872
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتُهُ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل (سے مراد) آپ کی امت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2873
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ قَالَ:" كُلُّ تَقِيٍّ" وَهَذَا لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِمِثْلِهِ، نَافِعٌ السُّلَمِيُّ أَبُو هُرْمُزَ مِنْ بُصْرَى، كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْحُفَّاظِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
ابوہرمز نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا: ”آلِ محمد کون ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر متقی آلِ محمد میں سے ہے۔“
اس حدیث سے استدلال درست نہیں۔ نافع سلمی ابوہرمز (بصریٰ کے رہنے والے) کو یحییٰ بن معین نے جھوٹا قرار دیا ہے، اور احمد بن حنبل اور دیگر حفاظ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2873]
اس حدیث سے استدلال درست نہیں۔ نافع سلمی ابوہرمز (بصریٰ کے رہنے والے) کو یحییٰ بن معین نے جھوٹا قرار دیا ہے، اور احمد بن حنبل اور دیگر حفاظ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث: «موضوع۔ نافع السلمي كذاب»
الحكم على الحديث: موضوع
592. -- باب: هل يصلى على غير النبي صلى الله عليه وسلم وقول الله عز وجل وصل عليهم إن صلاتك سكن لهم
-- باب: کیا نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی اور پر درود (رحمت کی دعا) بھیجا جا سکتا ہے اور اللہ عزوجل کے اس فرمان کا بیان کہ ”اور ان کے حق میں دعا فرمائیں، یقیناً آپ کی دعا ان کے لیے تسکین ہے“
حدیث نمبر: 2874
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْوَلِيدِ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَاتِهِمْ قَالَ:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ" فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَةٍ، فَقَالَ:" اللهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
عمرو بن مرہ فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ بیعتِ رضوان والوں میں سے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب لوگ صدقات کا مال لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! ان پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ میرے والد محترم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی زکوۃ کا مال لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» ”اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت بھیج۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1498»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2875
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الله عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے لیے اور میرے خاوند کے لیے برکت کی دعا کریں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلٰى زَوْجِكِ» “ ”اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2876
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ مِنْ أَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ الشَّيْخُ: يُرِيدُ بِهِ الصَّلَاةَ الَّتِي هِيَ تَحِيَّةٌ لَذِكْرِهِ عَلَى وَجْهِ التَّعْظِيمِ، فَأَمَّا صَلَاتُهُ عَلَى غَيْرِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ بِمَعْنَى الدُّعَاءِ وَالتَّبْرِيكِ وَتِلْكَ جَائِزَةٌ عَلَى غَيْرِهِ.
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا کسی دوسرے پر درود بھیجنا جائز نہیں ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلاۃ، دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہو گی اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2876]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درود سے خصوصی درود جو آپ کے نام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے مراد لیتے تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے تھا۔ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کی صلاۃ، دعا اور برکت کے معنیٰ میں ہو گی اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے لیے جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2876]
تخریج الحدیث: «جيد۔ اخرجه الطبراني 11813»
الحكم على الحديث: جيد
593. -- باب: الدعاء في الصلاة
-- باب: نماز میں دعا مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 2877
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى جَبْرَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ قَالَ: فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَاةُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ مَا شَاءَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں تشہد میں بیٹھتے تو ہم کہتے تھے: «السَّلَامُ عَلَى اللّٰهِ قَبْلَ عِبَادِهِ» ”بندوں سے پہلے اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، جبرائیل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ سلام ہے، جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر۔“ جب آدمی یہ کلمات کہتا ہے تو آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو سلام پہنچ جاتا ہے۔ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ پھر اس کے بعد جو دعا چاہے مانگے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 6230»
الحكم على الحديث: صحيح