🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
357. -- باب: رواية من روى النهي عن الأذان قبل الوقت
-- باب: وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت نقل کرنے والے کی روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1800
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟" قَالَ: اسْتَيْقَظْتُ وَأَنَا وَسْنَانُ فَظَنَنْتُ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ طَلَعَ فَأَذَّنْتُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ فِي الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا:" إِنَّ الْعَبْدَ رَقَدَ" ثُمَّ أَقْعَدَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ قَالَ:" قُمِ الْآنَ" ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ" وَرَوَاهُ أَيْضًا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَوْصُولًا مُخْتَصَرًا وَهُوَ وَهْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ شُعَيْبِ بْنِ حَرْبٍ..
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان دی، انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کو اس (اذان) پر کس نے ابھارا تھا؟“ انہوں نے کہا: میں اونگھ کی حالت میں بیدار ہوا، میں نے گمان کیا کہ فجر طلوع ہو چکی ہے، میں نے اذان دے دی۔ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدینہ میں تین مرتبہ اعلان کرے کہ ”بندہ سو گیا تھا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پہلو میں بٹھا لیا، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، پھر فرمایا: ”اب کھڑا ہو،“ فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں۔
عامر بن مدرک نے بھی اسے عبدالعزیز سے موصولاً مختصر روایت کیا ہے، اور یہ وہم ہے، درست شعیب بن حرب کی روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1800]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ثنا نَافِعٌ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ ذَكَرَ نَحْوَهُ يَعْنِي نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ، وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: عَجِّلُوا الْأَذَانَ بِالصُّبْحِ يُدْلِجُ الْمُدْلِجُ وَيَخْرُجُ الْعَامِرَةُ.
(الف) نافع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن سے نقل فرماتے ہیں، جس کو مسروح کہا جاتا تھا، اس نے صبح سے پہلے اذان دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو حکم دیا، آگے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صبح کی اذان جلدی دو تاکہ رات کو سفر کرنے والا روانہ ہو جائے اور گھر میں رہنے والا نکل پڑے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مقرر کردہ مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا اس کے علاوہ اور کوئی تھا۔
(ج) دراوردی نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا، اس کا نام مسعود تھا۔ انہوں نے بھی پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1801]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 533»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1802
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْإِمَامُ ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ثنا سُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ:" لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى تَرَى الْفَجْرَ" ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ:" لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ:" لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى تَرَى الْفَجْرَ هَكَذَا" وَجَمَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَهَذَا مُرْسَلٌ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يَذْكُرْ بِلَالًا وَأَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ قَدْ بَيَّنَّا ضَعْفَهَا فِي كِتَابِ الْخِلَافِ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ وَغَيْرِهِ.
شداد، جو عیاض کا غلام تھا، کہتا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سحری کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر دیکھ لے۔“ پھر اگلے دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے۔“ پھر اگلے دن آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ تو فجر دیکھ لے۔“ اس طرح اور اپنے ہاتھوں کو جمع کیا پھر ان دونوں کو جدا کردیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد کی ملاقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ یہ حدیث ابو علی روزباری نے ابوبکر بن داسہ کے واسطے سے ابوداؤد سے نقل کی ہے۔
شیخ کہتے ہیں: اسے بعض دوسری اسناد سے بھی نقل کیا گیا ہے جو تمام ضعیف ہیں، ہم نے ان کا ضعف کتاب الخلاف میں بیان کیا ہے۔ حمید بن ہلال وغیرہ کی حدیث مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1802]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 534»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1803
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْمُقْرِئُ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَذَّنَ بِلَالٌ بِلَيْلٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ إِلَى مَقَامِكَ" فَنَادَى ثَلَاثًا: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ وَهُوَ يَقُولُ: لَيْتَ بِلَالًا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهِ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ فَنَادَى ثَلَاثًا: إِنَّ الْعَبْدَ قَدْ نَامَ هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ مُرْسَلًا وَالْأَحَادِيثُ الصِّحَاحُ الَّتِي تَقَدَّمَ ذِكْرُهَا مَعَ فِعْلِ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ أَوْلَى بِالْقَبُولِ مِنْهُ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ واپس جا اور تین مرتبہ اعلان کر کہ بندہ سو گیا تھا“، وہ کہہ رہے تھے کہ کاش بلال کی ماں اس کو جنم نہ دیتی اور انہوں نے اپنی پیشانی کو خون کے چھینٹوں سے تر کیا اور تین مرتبہ اعلان کیا کہ ”بندہ سو گیا تھا۔“
اسی طرح ایک جماعت نے اسے حمید بن ہلال سے مرسل روایت کیا ہے، اور جو صحیح احادیث پہلے ذکر ہو چکی ہیں وہ اہل حرمین کے عمل کے ساتھ اس سے زیادہ قبول کیے جانے کے لائق ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1803]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه الدار قطني 1/244»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ثنا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا"، قُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ؟ قَالَ: لَا، لَمْ يَزَلِ الْأَذَانُ عِنْدَنَا بِلَيْلٍ".
شعیب بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے کہا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو۔“ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیشہ ہمارے نزدیک اذان رات کو ہی رہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1804]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
358. -- باب: السنة في الأذان لسائر الصلوات بعد دخول الوقت
-- باب: دیگر تمام نمازوں کے لیے وقت داخل ہونے کے بعد اذان دینے کی سنت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1805
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا أَبُو النَّضْرِ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ثنا أَبُو إِسْحَاقَ ثنا سِمَاكٌ ثنا جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَآهُ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي خَيْثَمَةَ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، پھر وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ لیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے تو اقامت کہتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1805]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه مسلم 606»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْهَمْدَانِيُّ ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ثنا وَهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَكَانَ ⦗٥٦٧⦘ رَحِيمًا رَقِيقًا فَلَمَّا رَأَى شَوْقَنَا إِلَى أَهْلِنَا قَالَ:" ارْجِعُوا فَكُونُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَصَلُّوا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدَ.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنی قوم کی ایک جماعت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیس دن قیام کیا اور آپ بہت رحیم اور شفیق تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اہل کی طرف ہمارا شوق دیکھا تو فرمایا: ”تم لوٹ جاؤ اور ان میں رہو، ان کو سکھاؤ اور نماز پڑھو، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان دے اور تم میں سے بڑا تمہاری امامت کرائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1806]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 602»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1807
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ:" لَمْ يَزَلِ الصُّبْحُ يُنَادَى بِهَا قَبْلَ الْفَجْرِ فَأَمَّا غَيْرُهَا مِنَ الصَّلَوَاتِ فَإِنَّا لَمْ نَرَهَا يُنَادَى بِهَا إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَحِلَّ وَقْتُهَا".
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: صبح ہمیشہ فجر سے پہلے اذان دی جاتی رہی، اس کے علاوہ نمازوں کا ہم خیال نہیں کرتے تھے، ان کی اذان تب دی جاتی تھی جب ان کا مشروع وقت شروع ہو جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1807]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1808
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ:" لَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةٍ غَيْرِ الصُّبْحِ إِلَّا بَعْدَ وَقْتِهَا لِأَنِّي لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا حَكَى عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَذَّنَ لِصَلَاةٍ قَبْلَ وَقْتِهَا غَيْرَ الْفَجْرِ وَلَمْ نَرَ الْمُؤَذِّنِينَ عِنْدَنَا يُؤَذِّنُونَ إِلَّا بَعْدَ دُخُولِ وَقْتِهَا إِلَّا الْفَجْرَ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صبح کے علاوہ کسی نماز کی اذان اس کے وقت کے بعد ہی دی جائے۔ اس لیے کہ میں کسی کو نہیں جانتا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہو کہ آپ نے نمازِ فجر کے علاوہ کسی دوسری نماز کے لیے اس کے وقت سے پہلے اذان دی ہو اور ہم نے اپنے مؤذنوں کو نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ہی اذان دیتے ہوئے دیکھا ہے سوائے نماز فجر کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
359. -- باب: ما يستدل به على ترجيح قول أهل الحجاز وعملهم
-- باب: اہل حجاز کے قول اور ان کے عمل کو ترجیح دینے پر دلالت کرنے والے دلائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ إِسْحَاقَ الْأَزْرَقِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ يَمَانِيَّانِ مَعَ مَا دَلَّ بِهِ عَلَى فَضْلِهِمْ فِي عِلْمِهِمْ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں، وہ دلوں کے لحاظ سے بہت نرم ہیں۔ ایمان یمن والوں کا اور فقہ یمن والوں کی اور حکمت بھی یمن والوں کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 4127»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں