السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
626. -- باب: الدليل على أنه يقنت بعد الركوع
-- باب: اس بات کی دلیل کہ قنوت رکوع کے بعد پڑھی جائے
حدیث نمبر: 3124
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ:" نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، رکوع کے بعد۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، رکوع کے بعد مختصر مدت کے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ، قُلْتُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: قَبْلَهُ، قُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا، إِنَّهُ كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، زُهَاءُ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلَهُمْ قَوْمٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ الْقُنُوتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ إِنَّمَا كَانَ شَهْرًا حِينَ كَانَ يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا الْقُرَّاءَ، وَأَوْهَمَ أَنَّ الْقُنُوتَ قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَهُ إِنَّمَا هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ، وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ، ثُمَّ رَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبْعَدَ الرُّكُوعِ أَوْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي غَيْرِ قِصَّةِ الْقُرَّاءِ أَنَّ قُنُوتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ كَانَ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
عاصم احول بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قنوت پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: ”رکوع سے پہلے۔“ میں نے کہا: فلاں صاحب آپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رکوع کے بعد ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ صاحب غلط کہتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی وہ بھی رکوع کے بعد۔ ہوا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کو مشرکین کی ایک قوم (بنی عامر) کی طرف (ان کو تعلیم دینے کے لیے) بھیجا تھا لیکن انہیں ان لوگوں کے علاوہ مشرکوں کی ایک قوم نے شہید کر دیا۔ ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا لیکن انہوں نے عہد شکنی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ماہ تک ان کے خلاف بددعا کرتے رہے۔
(ب) اسی طرح اس روایت میں عاصم احول سے مروی ہے کہ رکوع کے بعد قنوت صرف ایک مہینہ تک تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان قراء کے قاتلوں پر بددعا کرتے تھے۔ اور اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اور بعد کی قنوت رکوع سے پہلے ہی تھی۔
(ج) عبدالعزیز بن صہیب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں ان پر بددعا کی۔
اور یہ قنوت کی ابتدا تھی۔ ہم اس سے پہلے قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
(د) پھر عبدالعزیز نے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ رکوع کے بعد ہے یا قرأت سے فارغ ہونے کے وقت؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ قرأت سے فراغت کے وقت ہے۔“
(ہ) اور ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے علاوہ روایت پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قنوت رکوع کے بعد تھی۔ اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3125]
(ب) اسی طرح اس روایت میں عاصم احول سے مروی ہے کہ رکوع کے بعد قنوت صرف ایک مہینہ تک تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان قراء کے قاتلوں پر بددعا کرتے تھے۔ اور اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اور بعد کی قنوت رکوع سے پہلے ہی تھی۔
(ج) عبدالعزیز بن صہیب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں ان پر بددعا کی۔
اور یہ قنوت کی ابتدا تھی۔ ہم اس سے پہلے قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
(د) پھر عبدالعزیز نے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ رکوع کے بعد ہے یا قرأت سے فارغ ہونے کے وقت؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ قرأت سے فراغت کے وقت ہے۔“
(ہ) اور ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے علاوہ روایت پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قنوت رکوع کے بعد تھی۔ اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3125]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 957»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى أَبِي الْيَمَانِ أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، أَخْبَرَهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَرْفَعَ صُلْبَهُ فَيَقُولُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَدْعُو لِرِجَالٍ فَيُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَيَقُولُ" اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، وَأَهْلُ الْمَشْرِقِ مِنْ مُضَرَ يَوْمَئِذٍ يُخَالِفُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو کہتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پھر لوگوں کے لیے ان کا نام لے لے کر دعا کرتے اور فرماتے: «اللّٰهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ...» ”اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے اور سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے، اے اللہ! کفارِ مضر پر اپنی پکڑ مضبوط کر اور اس عذاب کو ان پر مدت طویل تک مسلط رکھ۔“ مضر قبیلے والے ان دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3084 ومابعده»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3127
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ قَالَ:" اللهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا" بَعْدَمَا يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: ١٢٨] الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت بھیج۔“ یہ کلمات «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنے کے بعد کہتے تھے تو باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ [سورة آل عمران: 128] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم رقم 3093»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3128
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِإِسْنَادِهِ وَزَادَ، فَقَالَ: وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَنَزَلَتْ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: ١٢٨] إِلَى قَوْلِهِ {ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨] ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پر بددعا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ سے ﴿ظَالِمُونَ﴾ تک [سورة آل عمران: 128] ”اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول فرما لے یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3128]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن المبارك في الجهاد 57»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3129
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَمْرِو بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ أَبَا سُفْيَانَ بَدَلَ سُهَيْلٍ.
ایک دوسری سند سے یہی روایت مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ (بحواله) تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3130
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ⦗٢٩٥⦘ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ: خُفَافُ بْنُ إِيمَاءٍ: رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللهِ وَرَسُولَهُ، اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لَحْيَانَ، وَالْعَنْ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا" قَالَ خَالِدٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ اللهِ الْكَفَرَةَ لِأَجْلِ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ خُفَافٌ: فَجُعِلَتْ، وَرُوِّينَا عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ أَفْتَى بِالْقُنُوتِ بَعْدَ الرُّكُوعِ.
(ا) سیدنا خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر مبارک اٹھانے کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! قبیلہ بنو غفار کو بخش دے، بنو اسلم کو سلامت رکھ۔ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اے اللہ! بنو لحیان پر لعنت کر اور رعل و ذکوان پر بھی پھٹکار بھیج۔“ پھر سجدہ میں چلے گئے۔ خالد کہتے ہیں: کفار پر لعنت اسی لیے کی گئی تھی۔
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ خفاف نے کہا: «فَجُعِلَتْ» اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے قنوت رکوع کے بعد پڑھنے کا فتویٰ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3130]
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ خفاف نے کہا: «فَجُعِلَتْ» اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے قنوت رکوع کے بعد پڑھنے کا فتویٰ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3130]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3099»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3131
أَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّمَا" قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا" فَقُلْتُ: كَيْفَ الْقُنُوتُ؟ قَالَ:" بَعْدَ الرُّكُوعِ فَهُوَ ذَا قَدْ أَخْبَرَ أَنَّ الْقُنُوتَ الْمُطْلَقَ الْمُعْتَادَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا، يُرِيدُ بِهِ اللَّعْنَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَرُوَاةُ الْقُنُوتِ بَعْدَ الرُّكُوعِ أَكْثَرُ وَأَحْفَظُ، فَهُوَ أَوْلَى وَعَلَى هَذَا دَرَجَ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي أَشْهَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُمْ وَأَكْثَرِهَا.
(ا) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔“ میں نے پوچھا: کس وقت؟ انھوں نے بتایا کہ ”رکوع کے بعد۔“
(ب) قنوت رکوع کے بعد ہی پڑھی جائے گی۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول «إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا» ”صرف ایک ماہ تک قنوت پڑھی“ سے مراد بددعا اور لعنت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(د) رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کے راوی اکثر بھی ہیں اور حفظ میں بھی پختہ ہیں، لہٰذا زیادہ بہتر یہی ہے اور اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی عمل کیا۔ ان سے منقول مشہور روایات موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3131]
(ب) قنوت رکوع کے بعد ہی پڑھی جائے گی۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول «إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا» ”صرف ایک ماہ تک قنوت پڑھی“ سے مراد بددعا اور لعنت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(د) رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کے راوی اکثر بھی ہیں اور حفظ میں بھی پختہ ہیں، لہٰذا زیادہ بہتر یہی ہے اور اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی عمل کیا۔ ان سے منقول مشہور روایات موجود ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3131]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3132
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الْعَوَّامُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مَازِنٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" قَنَتَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ" وَرُوِّينَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَمْزَةَ بِزِيَادَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔
یحییٰ بن سعید قطان نے عوام بن حمزہ کے واسطے سے ہمیں یہی حدیث بیان کی۔ اس میں انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3132]
یحییٰ بن سعید قطان نے عوام بن حمزہ کے واسطے سے ہمیں یہی حدیث بیان کی۔ اس میں انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3132]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني 2/ 33»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3133
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي كُلُّ هَؤُلَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ،" أَنَّهُ كَانَ يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3133]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 3/ 166»
الحكم على الحديث: صحيح