السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
626. -- باب: الدليل على أنه يقنت بعد الركوع
-- باب: اس بات کی دلیل کہ قنوت رکوع کے بعد پڑھی جائے
حدیث نمبر: 3134
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ" قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ".
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3134]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَنَتَ عُمَرُ، قُلْتُ:" بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
زید بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قنوت پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے زید رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا رکوع کے بعد؟ تو انہوں نے بتایا: جی ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3135]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 3136
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يُحَدِّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ" يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَبْلَ الرُّكُوعِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عُمَرَ بَعْدَهُ.
یزید بن ابی زیاد بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے اساتذہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھا کرتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رکوع سے پہلے قنوت پڑھنے والی روایات سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت رکوع کے بعد کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3136]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رکوع سے پہلے قنوت پڑھنے والی روایات سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت رکوع کے بعد کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3136]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3137
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ السُّلَمِيُّ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ:" قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ" ثُمَّ تَبَاعَدَتِ الدِّيَارُ فَطَلَبَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنْ يَجْعَلَ الْقُنُوتَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ؛ لِكَيْ يُدْرِكُوا الصَّلَاةَ، فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی۔ پھر لوگوں کے گھر دور دور ہو گئے۔ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس درخواست لے کر آئے کہ قنوت کو نماز میں رکوع سے پہلے پڑھیں تاکہ لوگ نماز کے ساتھ شامل ہو سکیں، تو انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔
خلید بن دعلج سے دلیل نہیں لی جاتی، اور جو روایات گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3137]
خلید بن دعلج سے دلیل نہیں لی جاتی، اور جو روایات گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3137]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
627. -- باب: دعاء القنوت
-- باب: دعائے قنوت کا بیان
حدیث نمبر: 3138
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُوحٍ مِنْ أَوْلَادِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي ⦗٢٩٧⦘ غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنْ حَسَنٍ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْقُنُوتِ" اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ" كَذَا كَانَ فِي أَصْلِ كِتَابِهِ، عَنِ الْحَسَنِ أَوِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَكَأَنَّ الشَّكَّ لَمْ يَقَعْ فِي الْحَسَنِ وَإِنَّمَا وَقَعَ فِي الْإِطْلَاقِ أَوِ النِّسْبَةِ، وَكَانَ فِي أَصْلِ كِتَابِهِ هَذِهِ الزِّيَادَةُ: وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ.
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے، میں انہیں قنوت میں پڑھتا ہوں، وہ کلمات یہ ہیں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا، ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے۔ جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر و برائی کا تو نے فیصلہ کر دیا ہے، اس سے مجھے محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً فیصلہ تو ہی صادر کرتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا اور جس کا تو دشمن بن جائے وہ کبھی عزت نہیں پا سکتا۔ ہمارے آقا تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3138]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1425»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3139
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو الْحَوْرَاءِ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَا عَلِقْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: عَلَّمَنِي دَعَوَاتٍ أَقُولُهُنَّ" اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، أُرَاهُ قَالَ: إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ" قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ الدُّعَاءُ الَّذِي كَانَ أَبِي يَدْعُو بِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي قُنُوتِهِ قَالَ الشَّيْخُ: بُرَيْدٌ يَقُولُ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ.
ابوحوراء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سیکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے مجھے دعائیں سکھائی ہیں، میں وہ پڑھتا ہوں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ» ”اے اللہ! مجھے ہدایت سے بہرہ ور فرما کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا ان میں مجھے بھی شامل فرما اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے اس سے مجھے محفوظ فرما اور بچا لے۔ بیشک تو ہی فیصلہ کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔“
میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا: ”جس کو تو والی بنا دے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے رب! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“ راوی فرماتے ہیں: میں نے اس کا ذکر محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ تو وہی دعا ہے جو میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں قنوت میں پڑھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3139]
میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا: ”جس کو تو والی بنا دے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے رب! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“ راوی فرماتے ہیں: میں نے اس کا ذکر محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ تو وہی دعا ہے جو میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں قنوت میں پڑھا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3139]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ قد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3140
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ بِخَطِّ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مَيْسَرَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ أَنَّ بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ بِالْخَيْفِ يَقُولَانِ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَفِي وِتْرِ اللَّيْلِ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:" اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
برید بن ابی مریم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور محمد بن علی بن حنفیہ رحمہ اللہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں اور رات کے وتروں میں یہ کلمات پڑھتے تھے: «اللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت بخش کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست بنایا ہے، ان میں مجھے بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا لے اور تو نے مجھے جو کچھ بھی عطا کیا ہے، اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کر دیا ہے اس سے مجھے محفوظ و مامون فرما۔ یقیناً فیصلہ تو ہی کرتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل ہو نہیں سکتا، اے ہمارے رب! تو ہی برکتوں والا اور بلند و بالا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3140]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الفاكهي 1/ 18/1۔2»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3141
وَرُوِّينَا عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ ⦗٢٩٨⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا دُعَاءً نَدْعُو بِهِ فِي الْقُنُوتِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ" اللهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ" رَوَاهُ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فَذَكَرَ رِوَايَةَ بُرَيْدٍ مُرْسَلَةً فِي تَعْلِيمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ هَذَا الدُّعَاءَ فِي وِتْرِهِ، ثُمَّ قَالَ بُرَيْدٌ: سَمِعْتُ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولَانِ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِي قُنُوتِ اللَّيْلِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هُرْمُزَ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ الْحَنَفِيَّةِ:" فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ" فَصَحَّ بِهَذَا كُلِّهِ أَنَّ تَعْلِيمَهُ هَذَا الدُّعَاءَ وَقَعَ لِقُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَقُنُوتِ الْوِتْرِ وَأَنَّ بُرَيْدًا أَخَذَ الْحَدِيثَ مِنَ الْوَجْهَيْنِ اللَّذَيْنِ ذَكَرْنَاهُمَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دعا سکھایا کرتے تھے۔ ہم اسے فجر کی نماز میں پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! ہمیں ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے رشد و ہدایت سے نوازا ہے اور ہمیں عافیت دے کر ان میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت دی ہے اور جن کو تو نے اپنا دوست قرار دیا ہے ان میں ہمیں بھی شامل فرما کر اپنا دوست بنا اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس میں ہمارے لیے برکت ڈال اور جس برائی اور شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے اس سے ہمیں محفوظ رکھ اور بچا لے۔ یقیناً تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے، تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا اور جس کا تو والی بنے وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے رب! تو ہی برکتوں والا اور بلند و بالا ہے۔“
(ب) مخلد بن یزید کی مرسل روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسوں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو قنوتِ وتر کی دعا سکھائی ہے۔
برید نے کہا کہ میں نے ابن حنفیہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو رات کی قنوت میں پڑھتے تھے:
(ج) اسی طرح اس روایت کو ابوصفوان اموی نے ابن جریج سے روایت کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن حنفیہ کی حدیث میں ہے کہ «فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ» ”صبح کی نماز کی قنوت میں“ پڑھتے تھے۔
(د) یہ درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا سکھائی ہے، یہ صبح کی نماز کی قنوت اور قنوتِ وتر دونوں کے بارے میں ہے اور برید نے یہ حدیث دو سندوں سے ذکر کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3141]
(ب) مخلد بن یزید کی مرسل روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسوں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما میں سے کسی کو قنوتِ وتر کی دعا سکھائی ہے۔
برید نے کہا کہ میں نے ابن حنفیہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو رات کی قنوت میں پڑھتے تھے:
(ج) اسی طرح اس روایت کو ابوصفوان اموی نے ابن جریج سے روایت کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن حنفیہ کی حدیث میں ہے کہ «فِي قُنُوتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ» ”صبح کی نماز کی قنوت میں“ پڑھتے تھے۔
(د) یہ درست ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا سکھائی ہے، یہ صبح کی نماز کی قنوت اور قنوتِ وتر دونوں کے بارے میں ہے اور برید نے یہ حدیث دو سندوں سے ذکر کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3142
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْقَاهِرِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى مُضَرَ إِذْ جَاءَهُ جَبْرَئِيلُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ فَسَكَتَ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْكَ سَبَّابًا وَلَا لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بَعَثَكَ رَحْمَةً، وَلَمْ يَبْعَثْكَ عَذَابًا {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨] ثُمَّ عَلَّمَهُ هَذَا الْقُنُوتَ: اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ، اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتِكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ" هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحًا مَوْصُولًا.
خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفارِ مُضر پر بددعا کر رہے تھے۔ اچانک جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کر کے فرمایا: ”خاموش ہو جائیے!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو گئے۔ پھر انھوں نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو گالیاں دینے والا اور بددعا کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ اس نے تو آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے نہ کہ عذاب بنا کر۔ ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔“ پھر جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ قنوت سکھلائی: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْضَعُ لَكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں۔ تیرے لیے ہی خشوع و خضوع کرتے ہیں اور جو تیرا منکر ہے اس سے ہر قسم کا ناطہ توڑتے ہیں اور اس کو چھوڑتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور تیرے لیے ہی سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی بھاگتے ہیں اور تیرے ہر حکم کے لیے تیار ہیں۔ تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بلاشبہ تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ صحیح متصل سند کے ساتھ مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3142]
یہ روایت مرسل ہے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ صحیح متصل سند کے ساتھ مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود في المراسيل»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ:" اللهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِلْمُؤْمِنِينَ، وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، اللهُمَّ الْعَنْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكِ، اللهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ، وَأَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِي لَا تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ، وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، اللهُمَّ ⦗٢٩٩⦘ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَلَكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ وَنَخْشَى عَذَابَكَ الْجِدَّ وَنَرْجُو رَحْمَتِكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ" رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ فَخَالَفَ هَذَا فِي بَعْضِهِ.
(ا) عبید بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ» ”اے اللہ! ہم سب مومن و مسلمان مردوں اور عورتوں کو بخش دے، ان کے دلوں میں الفت ڈال دے اور ان کی اصلاح کر دے اور ان کی دشمنوں کے خلاف مدد فرما۔ اے اللہ! اہل کتاب کے ان کافروں پر لعنت کر جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑائی کرتے ہیں۔ اے اللہ! ان میں آپس میں اختلاف ڈال دے اور ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر ایسا عذاب نازل فرما جو تو مجرم قوم سے نہیں پھیرتا۔“ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ جو بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی ثنا کرتے ہیں اور تیرے ساتھ کفر نہیں کرتے اور جو تیری نافرمانی کرتا ہے اس سے علیحدہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑتے ہیں۔“ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ جو بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، تیری طرف ہی دوڑتے اور کوشش کرتے ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں، بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3143]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4968»
الحكم على الحديث: صحيح