السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
664. -- باب: من بكى في صلاته فلم يظهر من صوته ما يكون كلاما له هجاء
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں رویا لیکن اس کی آواز سے کوئی ایسی بات ظاہر نہ ہوئی جس کے حروف تہجی بنتے ہوں
حدیث نمبر: 3358
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ فِي الْعَتَمَةِ بِسُورَةِ يُوسُفَ وَأَنَا فِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ يُوسُفَ سَمِعْتُ نَشِيجَهُ فِي مُؤَخَّرِ الصَّفِّ".
علقمہ بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز میں سورہ یوسف پڑھ رہے تھے اور میں آخری صفوں میں کھڑا تھا۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کے ذکر پر پہنچے تو میں نے آخری صف میں آپ کے سینے سے رونے کے دوران نکلنے والی آواز سنی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 2703»
الحكم على الحديث: صحيح
665. -- باب: من تبسم في صلاته أو ضحك فيها
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں مسکرایا یا اس میں ہنسا
حدیث نمبر: 3359
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" التَّبَسُّمُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَلَكِنِ الْقَرْقَرَةُ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ، وَقَدْ رَفَعَهُ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تبسم سے نماز نہیں ٹوٹتی بلکہ کھلکھلا کر ہنسنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف (صحابی کا قول) ہے، ثابت بن محمد زاہد نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور یہ ان کا وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3359]
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف (صحابی کا قول) ہے، ثابت بن محمد زاہد نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور یہ ان کا وہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3359]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4774»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3360
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الزَّاهِدَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَشْرُ وَلَكِنْ يَقْطَعُهَا الْقَرْقَرَةُ" وَقَدْ رُوِيَ فِي التَّبَسُّمِ فِي الصَّلَاةِ حَدِيثٌ آخَرُ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکرانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن قہقہہ لگانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔“
نماز میں مسکرانے کے بارے میں ایک اور حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس جیسی روایات سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3360]
نماز میں مسکرانے کے بارے میں ایک اور حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس جیسی روایات سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3360]
تخریج الحدیث: «منكر۔ وقد مضي في الذي قبله»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3361
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، أنبأ عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ قَالَ:" مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ" ⦗٣٥٨⦘ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيُّ الْجَزَرِيُّ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَقَدْ حَكَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي الْمَغَازِي وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ فِي مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلَاةِ يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي قِصَّةٍ مَحْكِيَّةٍ عَنْهُ:" مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ" وَيُذْكَرُ مِثْلُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دورانِ نماز مسکرائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو مسکراتے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے میکائیل علیہ السلام گزرے، ان کے پروں پر گرد و غبار کے نشان تھے اور وہ لوگوں کی طلب سے واپس آ رہے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسے تو میں بھی مسکرا دیا۔“
ہم کتاب الطہارۃ میں ابوسفیان سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کر چکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا، یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ ”تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔“ اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔
وازع بن نافع عقیلی جزری پر محدثین نے کلام کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3361]
ہم کتاب الطہارۃ میں ابوسفیان سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کر چکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا، یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ ”تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔“ اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔
وازع بن نافع عقیلی جزری پر محدثین نے کلام کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3361]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه ابو يعلي 2060»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا
666. -- باب: ما جاء في النفخ في موضع السجود
-- باب: سجدے کی جگہ پر پھونک مارنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3362
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ:" أُفْ أُفْ" ثُمَّ قَالَ:" رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَلَّا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ" فَفَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدِ امَّحَصَتِ الشَّمْسُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا نَفْخًا يُشْبِهُ الْغَطِيطَ، وَذَلِكَ لَمَّا عُرِضَ عَلَيْهِ مِنْ تَعْذِيبِ بَعْضِ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْعَذَابُ، فَلَيْسَ غَيْرُهُ فِي التَّأْفِيفِ فِي الصَّلَاةِ كَهُوَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا لَمْ يَكُنْ كَهُوَ فِي رُؤْيَةِ مَا رَأَى مِنْ تَعْذِيبِهِمْ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءٍ فَقَالَ:" وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي آخِرِ سُجُودِهِ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَيَبْكِي وَلَمْ يَذْكُرِ التَّأْفِيفَ، وَرَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرَ النَّفْخَ دُونَ التَّأْفِيفِ وَزَعَمَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ قَوْلَهُ أُفْ لَا يَكُونُ كَلَامًا حَتَّى يُشَدِّدَ الْفَاءَ فَتَكُونَ ثَلَاثَةَ أَحْرُفٍ مِنَ التَّأْفِيفِ قَالَ: وَالنَّافِخُ لَا يُخْرِجُ الْفَاءَ فِي نَفْخِهِ مُشَدَّدَةً وَلَا يَكَادُ يُخْرِجَهَا فَاءً صَادِقَةً مِنْ مَخْرَجِهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری سجدوں کے بعد پھونک ماری اور فرمایا: «أُفٍّ أُفٍّ» ”اُف اُف“، پھر فرمایا: ”اے میرے پروردگار! کیا آپ نے مجھ سے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک میں ان میں ہوں، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟ کیا آپ نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ پھونک خراٹوں کی آواز کے مشابہ تھی؛ اس لیے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان لوگوں کے عذاب کا منظر پیش کیا گیا جن پر عذاب واجب ہو چکا تھا۔ لہٰذا نماز میں «أُفٍّ» ”اف“ کہنے کے معاملے میں کوئی دوسرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں ہے، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، جس طرح ان کے عذاب کو دیکھنے میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں تھا۔
عبدالعزیز بن عبدالصمد، عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری رکعت کے آخری سجدے میں سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی، یعنی سانس پھولی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے۔ انہوں نے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کا ذکر نہیں کیا۔
ابواسحاق، سائب بن مالک سے اور وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے «تَأْفِيف» ”تافیف“ کی جگہ «نَفْخ» ”نفح“ کا ذکر کیا۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ «أُفّ» ”اف“ اس وقت تک کلام نہیں ہے جب تک فاء مشدد نہ ہو، مشدد ہونے کی صورت میں وہ باب «تَأْفِيف» ”تافیف“ سے تین حرف ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پھونکنے والا اپنی سانس میں فاء مشدد ادا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ فاء کو مخرج کے مطابق نکال سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3362]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ پھونک خراٹوں کی آواز کے مشابہ تھی؛ اس لیے کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان لوگوں کے عذاب کا منظر پیش کیا گیا جن پر عذاب واجب ہو چکا تھا۔ لہٰذا نماز میں «أُفٍّ» ”اف“ کہنے کے معاملے میں کوئی دوسرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں ہے، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، جس طرح ان کے عذاب کو دیکھنے میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نہیں تھا۔
عبدالعزیز بن عبدالصمد، عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری رکعت کے آخری سجدے میں سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی، یعنی سانس پھولی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے۔ انہوں نے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کا ذکر نہیں کیا۔
ابواسحاق، سائب بن مالک سے اور وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے «تَأْفِيف» ”تافیف“ کی جگہ «نَفْخ» ”نفح“ کا ذکر کیا۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ «أُفّ» ”اف“ اس وقت تک کلام نہیں ہے جب تک فاء مشدد نہ ہو، مشدد ہونے کی صورت میں وہ باب «تَأْفِيف» ”تافیف“ سے تین حرف ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پھونکنے والا اپنی سانس میں فاء مشدد ادا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ فاء کو مخرج کے مطابق نکال سکتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وسياتي تخريجه مستو في في كتاب صلاة الكسوف ان شاء الله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ذُو قَرَابَةٍ لَهَا شَابٌّ ذُو جُمَّةٍ فَقَامَ يُصَلِّي وَيَنْفُخُ، فَقَالَتْ: يَا بُنِيَّ لَا تَنْفُخُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَبْدٍ لَنَا أَسْوَدَ:" أَيْ رَبَاحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ" كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ نَحْوُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ وَلَمْ أَكْتُبْهُ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ.
ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، ان کے پاس ان کا ایک قریبی رشتہ دار نوجوان آیا جس کے بال کندھوں تک تھے، وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا اور پھونکنے لگا تو انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! پھونکیں مت مار، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے ایک حبشی غلام کو کہتے ہوئے سنا: ”اے رباح! اپنے چہرے کو مٹی لگا (یعنی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ)۔“
اس کا راوی میمون ابوحمزہ ضعیف ہے۔ اس بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع حدیث بھی مروی ہے، لیکن وہ سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3363]
اس کا راوی میمون ابوحمزہ ضعیف ہے۔ اس بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ایک اور مرفوع حدیث بھی مروی ہے، لیکن وہ سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الترمذي 381»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 3364
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَلَامًا يَعْنِي النَّفْخَ فِي الصَّلَاةِ ⦗٣٥٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَالنَّفْخُ لَا يَكُونُ كَلَامًا إِلَّا إِذَا بَانَ مِنْهُ كَلَامٌ لَهُ هِجَاءٌ، وَأَمَّا إِذَا لَمْ يُفْهَمْ مِنْهُ كَلَامٌ لَهُ هِجَاءٌ فَلَا يَكُونُ كَلَامًا.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ڈرتے تھے کہ ایسا کلام نہ کریں یعنی نماز میں پھونک مارنا۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صرف پھونک کلام نہیں ہوتی البتہ اس سے کوئی ایسا کلام ظاہر ہو جس سے لفظ بنتا ہو۔ اگر اس سے کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو تو وہ کلام نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3364]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صرف پھونک کلام نہیں ہوتی البتہ اس سے کوئی ایسا کلام ظاہر ہو جس سے لفظ بنتا ہو۔ اگر اس سے کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو تو وہ کلام نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 3018»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3365
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا سَلَمَةُ الْأَبْرَشُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ قَالَ: قُلْتُ لِقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نَتَأَذَّى بِرِيشِ الْحَمَامِ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا سَجَدْنَا، فَقَالَ:" انْفُخُوا".
ایمن بن نابل بیان کرتے ہیں کہ میں نے قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم مسجد حرام میں جب سجدہ کرتے ہیں تو حمام کے بالوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: پھونک مار لیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن معين في تاريخ: 3/ 48»
الحكم على الحديث: ضعيف
667. -- باب: من تصفح في صلاته كتابا ففهمه أو قرأه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کسی کتاب کے اوراق پلٹے پس اسے سمجھا یا پڑھا
حدیث نمبر: 3366
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَ يَؤُمُّهَا غُلَامُهَا ذَكْوَانُ فِي الْمُصْحَفِ فِي رَمَضَانَ" إِلَّا أَنَّ الْحَارِثَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رمضان میں ان کا غلام ذکوان مصحف سے دیکھ کر امامت کروایا کرتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 3825»
الحكم على الحديث: صحيح
668. -- باب: من عد الآي في صلاته أو عقدها ولم يتلفظ بما يكون كلاما
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں آیتیں گنیں یا انگلیوں پر شمار کیں اور کوئی ایسا لفظ نہیں بولا جو کلام بنتا ہو
حدیث نمبر: 3367
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ پر تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3367]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 1502»
الحكم على الحديث: صحيح