السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
330. -- باب: أول فرض الصلاة
-- باب: نماز کی اولین فرضیت کا بیان
حدیث نمبر: 1685
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ، مِثْلَهُ،.
قتادہ رحمہ اللہ اسی پچھلی روایت کی طرح بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1686
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنا عَمْرٌو، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ} [هود: ١١٤] قَالَ:" صَلَاةُ الْفَجْرِ وَالطَّرَفُ الْآخَرُ الظُّهْرُ وَالْعَصْرُ" {وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] " الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ".
حسن بصری رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ﴾ [سورة هود: 114] کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد فجر کی نماز ہے اور طرفِ آخر سے مراد ظہر اور عصر ہے اور ﴿وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] سے مغرب اور عشاء (مراد ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1687
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: وَأنبأ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ} [هود: ١١٤] قَالَ:" صَلَاةُ الصُّبْحِ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ" {وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] قَالَ: الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ".
قتادہ رحمہ اللہ اللہ کے ارشاد ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ﴾ [سورة هود: 114] کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد صبح اور عصر کی نماز ہے اور ﴿وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] سے مغرب اور عشاء کی نماز (مراد ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1688
قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ:" كَانَ بَدْءُ الصَّلَاةِ رَكْعَتَيْنِ بِالْغَدَاةِ وَرَكْعَتَيْنِ بِالْعَشِيِّ".
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: نماز ابتدا میں دو رکعتیں صبح کی تھیں اور دو رکعتیں عشاء کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
331. -- باب: فرائض الخمس
-- باب: پانچ فرض نمازوں کا بیان
حدیث نمبر: 1689
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ الْخَفَّافَ، أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمِعْرَاجِ وَفِيهَا قَالَ:" وَفُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ - أَوْ قَالَ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةٍ كُلَّ يَوْمٍ الشَّكُّ مِنْ سَعِيدٍ - فَجِئْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَقَالَ لِي: بِمَا أُمِرْتَ؟ فَقُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: إِنِّي قَدْ بَلَوْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ فَرَجَعْتُ فَحَطَّ عَنِّي خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَمَا زِلْتُ أَخْتَلِفُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى كُلَّمَا أَتَيْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ حَتَّى رَجَعْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَلَمَّا أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى قَالَ لِي: بِمَا أُمِرْتُ؟ قُلْتُ: بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: إِنِّي بَلَوْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قُلْتُ: لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى ⦗٥٣٠⦘ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ قَالَ: فَنُودِيتُ أَوْ نَادَانِي مُنَادٍ - الشَّكُّ مِنْ سَعِيدٍ - أَنْ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَجَعَلْتُ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ" أَمْثَالِهَا مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدنا مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کا قصہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ہر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں“ یا فرمایا: ”مجھے ہر دن پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا“ (سعید کو شک ہے)۔ ”میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے دن میں پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، ان کو خوب پرکھا، انھوں نے کہا: میں نے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بہت معالجہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں۔ میں واپس لوٹا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانچ نمازیں کم کر دیں، میں مسلسل اپنے رب کے پاس اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا جاتا رہا جب میں ان کے پاس آتا تو مجھے پہلی بات کی طرح کہتے، یہاں تک کہ میں ہر دن میں پانچ نمازوں کے ساتھ واپس لوٹا، جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے مجھے کہا: آپ کو کس کا حکم دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے ہر دن میں پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے، انھوں نے کہا: آپ سے پہلے میں نے لوگوں کو آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بہت سخت تجربہ کیا ہے آپ کی امت بیشک اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اپنے رب کی طرف واپس جائیں اور اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کریں۔ میں اپنے رب کی طرف واپس لوٹا تو مجھے حیاء محسوس ہوئی، اور میں نے کہا: میں راضی اور فرمان بردار ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے آواز دی گئی یا آواز دینے والے نے آواز دی“ (سعید راوی کو شک ہے) ”کہ میں نے اپنے فریضے کو جاری کر دیا ہے، میں نے اپنے بندوں پر آسانی کر دی ہے اور میں ہر نیکی (کے اجر) کو دس گنا بڑھا دیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3674»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1690
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُونُسَ الْأُمَوِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ:" فَأَوْحَى إِلَيْهِ مَا شَاءَ فِيمَا أَوْحَى خَمْسِينَ صَلَاةً عَلَى أُمَّتِهِ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثُمَّ هَبَطَ حَتَّى بَلَغَ مُوسَى فَاحْتَبَسَهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا عَهِدَ إِلَيْكَ رَبُّكَ؟ قَالَ: عَهِدَ إِلِيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً عَلَى أُمَّتِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ فَارْجِعْ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ وَعَنْهُمْ فَالْتَفَتَ إِلِيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَأَنَّهُ يَسْتَشِيرُهُ فِي ذَلِكَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَعَلَا بِهِ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَنَّا فَإِنَّ أُمَّتِي لَا تَسْتَطِيعُ هَذَا فَوَضَعَ عَنْهُ عَشْرَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُوسَى فَاحْتَبَسَهُ وَلَمْ يَزَلْ يَرُدُّهُ مُوسَى إِلَى رَبِّهِ حَتَّى صَارَ إِلَى خَمْسِ صَلَوَاتٍ ثُمَّ احْتَبَسَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قَدْ وَاللهِ رَاوَدْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الْخَمْسِ فَضَيَّعُوهُ وَتَرَكُوهُ وَأُمَّتُكَ أَضْعَفُ أَجْسَادًا وَقُلُوبًا وَأَبْصَارًا وَأَسْمَاعًا فَارْجِعْ فَلْيُخَفِّفْ عَنْكَ رَبُّكَ فَالْتَفَتَ إِلَى جِبْرِيلَ لِيُشِيرَ عَلَيْهِ فَلَا يَكْرَهُ ذَلِكَ جِبْرِيلُ فَرَفَعَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ أُمَّتِي ضِعَافٌ أَجْسَادُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ وَأَسْمَاعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ فَخَفِّفْ عَنَّا فَقَالَ: إِنِّي لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدِيَّ هِيَ كَمَا كُتِبَتْ عَلَيْكُمْ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَلَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرُ أَمْثَالِهَا هِيَ خَمْسُونَ فِي أُمِّ الْكِتَابِ وَهِيَ خَمْسٌ عَلَيْكَ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ الْأَيْلِيِّ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رات والا واقعہ سنا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الکعبہ کی سیر کرائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہوئی جو اللہ نے چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا حکم ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے، جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور کہا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ کے ساتھ کیا وعدہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کا وعدہ کیا ہے“ انہوں نے کہا: آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے اس میں آسانی کروائیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف جھانکا، گویا ان سے اس کے متعلق مشورہ طلب کر رہا ہوں، اس نے اشارہ کیا، ہاں! اگر آپ چاہتے ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو ساتھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میرے رب! ہم پر آسانی کر، بیشک میری امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی“ اللہ نے دس نمازیں کم کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور موسیٰ علیہ السلام مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف واپس لوٹاتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ ہو گئیں، پھر پانچویں مرتبہ بھی روک لیا، انہوں نے کہا: اے محمد! اللہ کی قسم! میں نے بنی اسرائیل کو اس سے آسان کام کی ترغیب دی تو انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور اس کو چھوڑ دیا، اور آپ کی امت جسم و قلب، سننے اور دیکھنے کے لحاظ سے بہت کمزور ہے، آپ واپس جائیں اور اپنے رب سے آسانی کے متعلق کہیں۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف جھانکا تاکہ ان سے مشورہ لوں، جبرائیل علیہ السلام نے اس کو ناپسند نہیں سمجھا اور پانچویں مرتبہ پھر معاملہ اٹھایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میرے رب! بیشک میری امت، ان کے جسم اور دل اور کان اور آنکھیں کمزور ہیں، ہم پر آسانی فرما“ اللہ نے فرمایا: میرے ہاں باتیں تبدیل نہیں ہوتیں، جس طرح لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر ایک نیکی کے بدلے اس کا دس گنا ہے، لوح محفوظ میں پچاس ہی ہیں اور آپ پر پانچ ہیں، پھر لمبی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1690]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 7079»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1691
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، قَالَا: ثنا مَالِكٌ عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ" فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ" قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَاِ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
ابوسہیل بن مالک کے والد نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اہل نجد کا ایک شخص پراگندہ سر والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا اور اسلام کے متعلق سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں۔“ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے روزے۔“ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی روزے رکھے۔“ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکاۃ کا بھی ذکر کیا۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ دے۔“ وہ آدمی واپس پلٹا اور کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! نہ میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 46»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1692
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَمْرٍو الضَّرِيرُ ثنا حَمَّادٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَيْرِيزٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ فَمَنْ وَافَى بِهِنَّ وَلَمْ يُضَيِّعْهُنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يُوَافِ بِهِنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ" وَقَالَ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ.
عبد اللہ بن محیریز، جو بنی کنانہ کا ایک شخص تھا، فرماتے ہیں کہ میں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر لکھ دی ہیں، جنہوں نے ان کو پورا کیا اور ان کو ضائع نہ کیا، تو ان کے لیے اللہ کے ہاں وعدہ ہے کہ اللہ ان کو معاف کر دے گا اور جنت میں داخل کر دے گا۔
اور جس نے ان کو پورا نہ کیا، ان کے حق کو ہلکا جانتے ہوئے، تو اللہ کے ہاں کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر وہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1692]
اور جس نے ان کو پورا نہ کیا، ان کے حق کو ہلکا جانتے ہوئے، تو اللہ کے ہاں کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر وہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه مالك 268»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1693
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا ابْنُ مِلْحَانَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا تَقُولُونَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟" قَالُوا: لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالَ:" فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا" ⦗٥٣٢⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةُ عَنِ اللَّيْثِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيِّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”مجھے بتلاؤ، اگر تمہارے دروازے پر ایک نہر ہو، ہر دن میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا کچھ میل کچیل باقی رہے گی؟“ انہوں نے کہا: میل کچیل میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 505»
الحكم على الحديث: صحيح
332. -- باب: عدد ركعات الصلوات الخمس
-- باب: پانچ فرض نمازوں کی رکعات کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 1694
أنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" قُمْ فَصَلِّ وَذَلِكَ دُلُوكَ الشَّمْسِ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ فِي الظُّهْرِ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ صَارَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ الْوَقْتَ بِالْأَمْسِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُ بَعْدَ أَنْ غَابَ الشَّفَقُ وَأَظْلَمَ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ أَسْفَرَ الْفَجْرُ فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَيْنِ صَلَاةٌ" أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَإِنَّمَا هُوَ بَلَاغٌ بَلَغَهُ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ مُرْسَلٍ.
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”کھڑے ہوجائیں اور نماز پڑھیں“ اور یہ «دُلُوكِ الشَّمْسِ» ”سورج مائل ہونے“ کا وقت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی لمبائی کی مثل ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت سورج غروب ہوگیا، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت سرخی غروب ہوگئی، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عشاء کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت فجر پھوٹ پڑی، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی دو رکعتیں ادا کیں، پھر کل کو دوپہر کے وقت آئے جس وقت ایک چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس وقت اس کا سایہ اس کی دو مثل ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی چار رکعتیں ادا کیں۔ پھر کل اسی وقت آئے جس وقت سورج غروب ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں۔ پھر سرخی غروب ہونے کے بعد آئے اور اندھیرا ہوگیا، انہوں نے کہا: ”آپ کھڑے ہوں نماز پڑھیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی چار رکعتیں ادا کیں، پھر آئے جس وقت فجر روشن ہوگئی، انہوں نے کہا: ”کھڑے ہوں نماز پڑھیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی دو رکعتیں ادا کیں، پھر کہا: ”ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر