السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
332. -- باب: عدد ركعات الصلوات الخمس
-- باب: پانچ فرض نمازوں کی رکعات کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 1695
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُمْ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِعْرَاجِ بِطُولِهِ وَفِيهِ فَرْضُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ قَالَ قَتَادَةُ: وَثنا الْحَسَنُ يَعْنِي الْبَصْرِيَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ بِهِنَّ إِلَى قَوْمِهِ خَلَا عَنْهُمْ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ نُودِيَ فِيهِمُ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ: فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْرَأُ فِيهِنَّ عَلَانِيَةً يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى إِذَا تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ وَهِيَ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ نُودِيَ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةٌ فَفَزِعَ الْقَوْمُ لِذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْرَأُ فِيهِنَّ عَلَانِيَةً يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ نُودِيَ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥٣٣⦘ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَلَا يَقْرَأُ فِي الْوَاحِدَةِ يَعْنِي عَلَانِيَةً يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى إِذَا غَابَ الشَّفَقُ نُودِيَ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَانِيَةً وَلَا يَقْرَأُ فِي الثِّنْتَيْنِ يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: فَبَاتَ الْقَوْمُ وَهُمْ لَا يَدْرُونَ أَيُزَادُونَ عَلَى ذَلِكَ أَمْ لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نُودِيَ فِيهِمُ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا فَصَلَّى بِهِمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ يَقْتَدِي النَّاسُ بِنَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" فَفِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَا رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْمِعْرَاجِ وَأَنَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فَرْضٌ حِينَئِذٍ بِأَعْدَادِهِنَّ وَقَدْ ثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خِلَافُ ذَلِكَ.
قتادہ کہتے ہیں کہ ہمیں حسن بصری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب انہیں اپنی قوم کی طرف لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے الگ ہوئے یہاں تک کہ سورج آسمان کے درمیان سے زائل ہوا، ان (نمازوں) کے متعلق لوگوں کو بتایا گیا کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، لوگ گھبرا گئے اور جمع ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار رکعتیں پڑھائیں، ان میں اونچی قراءت نہیں کی، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج آسمان سے نیچے کی جانب چلا گیا، یعنی مغرب کی طرف جھک گیا، وہ سفید چمکدار تھا، لوگوں کو آواز دی گئی: ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، اس وجہ سے قوم گھبرائی، پس وہ جمع ہوئے، ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کی چار رکعتیں پڑھائیں، ان میں اونچی قراءت نہیں کرتے تھے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کرتے رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، وہ جمع ہوئے، ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعتیں پڑھائیں، پہلی دو رکعتوں میں قراءت کی اور ایک میں نہیں کی یعنی اونچی آواز سے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کر رہے تھے، یہاں تک کہ سرخی غروب ہو گئی، پھر لوگوں کو آواز دی گئی کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، وہ جمع ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار رکعتیں پڑھائیں، دو رکعتوں میں اونچی قراءت کی اور دو رکعتوں میں نہیں کی، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کر رہے تھے۔ قوم سو گئی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ ابھی مزید کچھ ہو گا یا نہیں؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، ان کو آواز دی گئی کہ ”نماز کھڑی ہونے والی ہے“، لوگ جمع ہوئے، ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں لمبی قراءت کی، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتدا کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ فُرِضَتْ أَرْبَعًا وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: وَتَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا التَّقْيِيدُ تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَسَائِرُ الثِّقَاتِ أَطْلَقُوهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں دو دو رکعتیں فرض کی گئیں، جب مدینہ کی طرف نکلے تو چار فرض کی گئیں اور سفر کی نماز دو رکعتیں باقی رکھی گئیں۔
یہ قید (مکہ اور مدینہ کی تفصیل) زہری سے بیان کرنے میں معمر بن راشد منفرد ہیں، جبکہ باقی تمام ثقہ راویوں نے اسے مطلق بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1696]
یہ قید (مکہ اور مدینہ کی تفصیل) زہری سے بیان کرنے میں معمر بن راشد منفرد ہیں، جبکہ باقی تمام ثقہ راویوں نے اسے مطلق بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1697
وَقَدْ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأُولَى" وَرُوِيَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
امام اوزاعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز مدینہ میں ہجرت کرنے سے پہلے کس طرح تھی؟ انہوں نے کہا: مجھ کو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا: ”اللہ نے نماز کو فرض کیا، پہلے دو رکعتیں فرض کیں، پھر حضر میں اس کو مکمل کر دیا اور سفر کی نماز پہلے فریضہ پر قائم رکھی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 1040»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1698
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ثنا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَاطْمَأَنَّ زَادَ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ الْمَغْرِبِ لِأَنَّهَا وِتْرٌ وَصَلَاةُ الْغَدَاةِ لِطُولِ قِرَاءَتِهَا قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى صَلَاتَهُ الْأُولَى".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پہلے جو نماز فرض کی گئی وہ دو رکعتیں تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور مطمئن ہو گئے تو مغرب اور صبح کی نماز کے علاوہ دو رکعتیں زیادہ کی گئیں، مغرب اس لیے کہ وہ وتر ہے اور صبح کی نماز اس لیے کہ اس میں قراءت لمبی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی والی نماز پڑھتے یعنی قصر کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن حبان 12738»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
333. -- جماع أبواب المواقيت
-- نماز کے اوقات کے متعلق ابواب کا جامع بیان
حدیث نمبر: 1699
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثنا السِّرِّيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ، ح. وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بِهَذَا أُمِرْتُ؟ فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ أَوْ أَنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک نماز کو مؤخر کر دیا، ان کے پاس عروہ بن زبیر رحمہ اللہ تشریف لائے، انہوں نے خبر دی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن کوفہ میں نماز مؤخر کر دی، اس پر سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور کہا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے، انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر انہوں نے کہا: ”اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔“ سیدنا عمر رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: اے عروہ! دیکھ تو کیا بیان کر رہا ہے، کیا جبرائیل علیہ السلام ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کا وقت مقرر کیا تھا؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: اسی طرح بشیر بن ابی مسعود رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج ظاہر ہونے سے پہلے ان کے کمرے میں ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 499»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1700
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَمَّنَا فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّيْتُ مَعَهُ حَتَّى عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ" فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: اتَّقِ اللهَ وَانْظُرْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ فَقَالَ عُرْوَةُ: أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنَا فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنَا فَصَلَّيْتُ مَعَهُ" حَتَّى عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْجُمْهُورَ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ نَحْوَ مَعْمَرٍ وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَغَيْرُهُمْ لَمْ يَذْكُرُوا الْوَقْتَ الَّذِي صَلَّى فِيهِ وَلَمْ يُفَسِّرُوهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ مَا أَخْبَرَهُ أَبُو مَسْعُودٍ عَمَّا رَآهُ يَصْنَعُ بَعْدَ ذَلِكَ.
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام آئے، انہوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، یہاں تک کہ پانچ نمازیں شمار کیں۔“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: اللہ سے ڈر، اے عروہ! دیکھ تو کیا کہہ رہا ہے؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: مجھ کو بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے نقل فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر آئے اور انہوں نے ہماری امامت کروائی، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی، یہاں تک کہ پانچ نمازیں شمار کیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3049»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1701
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ⦗٥٣٥⦘ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَعْلَمُ مَا تَقُولُ فَقَالَ عُرْوَةُ: سَمِعْتَ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ" وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ وَصَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِغَلَسٍ حَتَّى مَاتَ لَمْ يَعْدُ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ" وَتَفْسِيرُ كَيْفِيَّةِ صَلَاةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے عصر کو کچھ مؤخر کر دیا، ان سے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا: جبرائیل علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے وقت کی خبر دی ہے، ان سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: غور کر تو کیا کہہ رہا ہے؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود انصاری رحمہ اللہ سے سنا، وہ اپنے والد (سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار کرتے تھے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز تب پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا اور بعض اوقات اس کو مؤخر کر دیتے جس وقت گرمی سخت ہو جاتی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج زردی کے داخل ہونے سے پہلے بلند و سفید تھا، آدمی نماز سے پلٹتا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھتے جب افق سیاہ ہو جاتا اور بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک مرتبہ نماز روشنی میں پڑھی، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اندھیرے میں ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ نہیں لوٹے کہ اس کو روشن کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 1394»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1702
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ثنا الْفِرْيَابِيُّ ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَرَّتَيْنِ عِنْدَ الْبَيْتِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الظُّهْرَ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَ ظِلِّهِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ لَثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کرائی، مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور تسمہ کے برابر ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی یہاں تک کہ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزے داروں نے روزہ افطار کر لیا، پھر مجھ کو عشاء کی نماز پڑھائی جب سرخی غروب ہو گئی، پھر مجھ کو صبح کی نماز پڑھائی جس وقت روزے دار پر کھانا پینا حرام ہو گیا، پھر مجھ کو اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کے (سائے کے) برابر ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی دو مثل ہو گیا، پھر مجھ کو مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزے داروں نے افطار کر لیا، پھر مجھ کو عشاء کی نماز پہلی رات کے تہائی حصے میں پڑھائی، پھر مجھ کو فجر کی نماز روشنی میں پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اے محمد! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور ان دو وقتوں کے درمیان (آپ کا) وقت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1702]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 393»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1703
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ حَكِيمٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي قِصَّةِ إِمَامَةِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَثَبَتَ عَنْ ⦗٥٣٦⦘ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَبُرَيْدَةَ بْنِ الْحَصِيبِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَنَحْنُ نَأْتِي عَلَى رِوَايَتِهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
(الف) حکیم نے اسی معنی میں روایت نقل کی ہے۔
(ب) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے جبرائیل علیہ السلام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کروانے کا واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، بریدہ بن حصیب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے نماز کے اوقات سے متعلق اس واقعہ کے علاوہ دیگر روایات بھی ثابت ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1703]
(ب) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، ابوہریرہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے جبرائیل علیہ السلام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کروانے کا واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، بریدہ بن حصیب اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے نماز کے اوقات سے متعلق اس واقعہ کے علاوہ دیگر روایات بھی ثابت ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1703]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
334. -- باب: أول وقت الظهر
-- باب: ظہر کے اول وقت کا بیان
حدیث نمبر: Q1704
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ} [الإسراء: 78] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: دُلُوكُ الشَّمْسِ زَوَالُهَا.
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ﴾ ”سورج ڈھلنے سے لے کر نماز قائم کریں۔“ [سورة الإسراء: 78]
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سورج کے دلوک سے مراد اس کا زوال (ڈھلنا) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q1704]
امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سورج کے دلوک سے مراد اس کا زوال (ڈھلنا) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q1704]