السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
334. -- باب: أول وقت الظهر
-- باب: ظہر کے اول وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1704
أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحَسَنُ عَلِيُّ بْنُ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" دُلُوكُ الشَّمْسِ مَيْلُهَا بَعْدَ نِصْفِ النَّهَارِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ﴿دُلُوكِ الشَّمْسِ﴾ [سورة الإسراء: 78] سے مراد آدھے دن کے بعد اس کا جھک جانا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1704]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 6273»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1705
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَخَالِدٌ، عَنِ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" دُلُوكُ الشَّمْسِ زَوَالُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ﴿دُلُوكِ الشَّمْسِ﴾ [سورة الإسراء: 78] سے مراد اس کا زائل ہونا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1705]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1706
أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِحْمَشٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" وَقْتُ صَلَاةِ الْفَجْرِ مَا لَمْ يَطْلُعْ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَيَسْقُطُ قَرْنُهَا الْأَوَّلُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مَا لَمْ يَسْقُطِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ" رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدِ بْنِ يُوسُفَ السُّلَمِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی نماز کا وقت تب تک ہے جب تک سورج کا پہلا کنارہ طلوع نہ ہو جائے، اور ظہر کی نماز کا وقت جب سورج آسمان کے درمیان سے ڈھل جائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو، اور عصر کی نماز کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو اور اس کا پہلا کنارہ غروب نہ ہو جائے، اور مغرب کی نماز کا وقت جب سورج غروب ہو جائے اور جب تک سرخی ختم نہ ہو، اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 612»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1707
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا تَمْتَامٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ثنا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ ⦗٥٣٧⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنِ الدَّوْرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ هَمَّامٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کی نماز کا وقت جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1707]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1708
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ ثنا عُثْمَانُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ قَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّيْفِ ثَلَاثَةَ أَقْدَامٍ إِلَى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ وَفِي الشِّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلَى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ وَهَذَا أَمْرٌ يَخْتَلِفُ فِي الْبُلْدَانِ وَالْأَقَالِيمِ فَيُقَدَّرُ فِي كُلِّ إِقْلِيمٍ بِالْمَعْرُوفِ بِهِ بِأَمْرِ الزَّوَالِ.
اسود سے روایت ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گرمیوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی مقدار تین قدموں سے لے کر پانچ قدموں تک تھی اور سردی میں پانچ سے لے کر سات قدموں تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1708]
تخریج الحدیث: «جيد۔ أخرجه ابو داؤد 400»
الحكم على الحديث: جيد
335. -- باب: آخر وقت الظهر وأول وقت العصر
-- باب: ظہر کے آخری وقت اور عصر کے اول وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1709
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَزْمٍ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ فَأَمَرَهُ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ بِقَدْرِهِ مَرَّةً، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَتَمَةَ وَهِيَ الْعِشَاءُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَأَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى قَدْرِ ظِلِّهِ، وَأَخَّرَ الْعَصْرَ إِلَى قَدْرِ ظِلِّهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَعْتَمَ بِالْعِشَاءِ، ثُمَّ أَصْبَحَ بِالصُّبْحِ ثُمَّ قَالَ: مَا بَيْنَ هَذَيْنِ صَلَاةٌ" قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ: وَكَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي وَقْتِ الصَّلَاةِ نَحْوَ مَا كَانَ أَبُو مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ قَالَ صَالِحٌ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الزُّبَيْرُ الْمَكِّيُّ يُحَدِّثَانِ مِثْلَ ذَلِكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ.
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نماز کے اوقات لے کر آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر عصر کی نماز پڑھی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مقدار کے برابر ہو گیا، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر صبح کی نماز پڑھی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کل تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سایہ کی مقدار ظہر کو مؤخر کیا اور عصر کو مؤخر کیا، دوسری مرتبہ اس کے سایے کی مقدار، پھر مغرب کی نماز پڑھی جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر عشاء کو اندھیرے (میں ادا) کیا، پھر صبح روشن کر کے پڑھی، پھر فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان نماز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1710
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْيَانَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَكَمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ ⦗٥٣٨⦘ السَّلَامُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ:" ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ" وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ يَنْفَصِلُ مِنْ آخِرِ وَقْتِ الظُّهْرِ وَأَنَّ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ يَعْنِي حِينَ تَمَّ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ جَاوَزَ ذَلِكَ بِأَقَلَّ مِمَّا يُجَاوِزُهُ قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَى مَا وَصَفْتُهُ وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَأَنَّهُ أَرَادَ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس میری دو مرتبہ امامت کرائی، مجھ کو ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا اور تسمے کے برابر ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا“۔
(ب) اور حدیث بیان کی اس میں فرمایا: ”پھر مجھ کو کل ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا“۔
(ج) ایک اور حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اے محمد! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور وقت ان دونوں کے درمیان ہے“۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا اول وقت ظہر کے وقت سے آخری وقت سے الگ ہوتا ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا“۔ یعنی جب ہر چیز کا سایہ مکمل ہو گیا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں سے اس کے ہم معنی روایت ہے جو میرا مؤقف ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1710]
(ب) اور حدیث بیان کی اس میں فرمایا: ”پھر مجھ کو کل ظہر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا، پھر مجھ کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا“۔
(ج) ایک اور حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے کہ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اے محمد! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے اور وقت ان دونوں کے درمیان ہے“۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ عصر کا اول وقت ظہر کے وقت سے آخری وقت سے الگ ہوتا ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا“۔ یعنی جب ہر چیز کا سایہ مکمل ہو گیا۔ اور مجھے یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں سے اس کے ہم معنی روایت ہے جو میرا مؤقف ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1711
مَا أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَقْتُ الظُّهْرِ إِلَى الْعَصْرِ وَالْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَالْمَغْرِبِ إِلَى الْعِشَاءِ وَالْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ" تَابَعَهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ صَاحِبُ الْأَنْمَاطِ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ فَقَالَ: وَوَقْتُ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ أَيْ وَقْتَ مَا صَلَّيْتَ فَقَدْ أَدْرَكْتَ وَمَوْجُودٌ فِي السُّنَّةِ الثَّابِتَةِ يَعْنِي مَا وَصَفَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَهِيَ.
(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ظہر کا وقت عصر تک ہے اور عصر کا مغرب تک اور مغرب کا عشاء تک اور عشاء کا فجر تک۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ظہر کے وقت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھل جانے سے عصر کی نماز تک ہے، جس وقت میں بھی تو نے نماز پڑھ لی تو نے اس کو پالیا۔
(ج) اور جو مطلب امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ بھی سنت سے ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1711]
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ظہر کے وقت کے متعلق فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کا وقت سورج ڈھل جانے سے عصر کی نماز تک ہے، جس وقت میں بھی تو نے نماز پڑھ لی تو نے اس کو پالیا۔
(ج) اور جو مطلب امام شافعی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ بھی سنت سے ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1711]
حدیث نمبر: 1712
مَا أنبأ أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا شُعْبَةُ، وَهَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَزْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ" وَقَالَ شُعْبَةُ:" مَا لَمْ يَقَعْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ نِصْفِ اللَّيْلِ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ شُعْبَةُ: أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ وَأَحْيَانًا لَا ⦗٥٣٩⦘ يَرْفَعُهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَهَمَّامٍ وَفِيهِ الْبَيَانُ أَنَّ وَقْتَ الظُّهْرِ يَمْتَدُّ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ فَإِذَا جَاءَ وَقْتُ الْعَصْرِ ذَهَبَ وَقْتُ الظُّهْرِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کا وقت سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہو جائے اور جب تک عصر کا وقت نہ ہو، اور عصر کا وقت جب تک سورج زرد نہ ہو، اور مغرب کا وقت جب تک سرخی غائب نہ ہو،“ اور شعبہ کہتے ہیں: جب تک شفق کی روشنی واقع نہ ہو اور ”عشاء کا وقت تیرے اور نصف رات کے درمیان ہے اور صبح کا وقت جب فجر طلوع ہو اور جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 612»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَائِلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ يَقُولُ، قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْأَوَّلَ ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ بِلَالِ بْنِ عُثْمَانَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ تَأْوِيلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
(الف) ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی جس وقت فجر پھوٹ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، انہوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کوئی شخص کہہ رہا تھا کہ سورج ڈھل گیا یا نہیں ڈھلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ جاننے والے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی سرخی کے غروب ہونے کے وقت۔ پھر کل کو صبح کی نماز پڑھی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہوا یا نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ جاننے والے تھے اور اگلے دن ظہر کی نماز پڑھائی عصر کے وقت کے قریب اور عصر کی نماز پڑھائی اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج سرخ ہو گیا اور سرخی غروب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھائی اور عشاء کی نماز پہلی تہائی رات کے وقت پڑھائی، پھر فرمایا: ”وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان وقت نماز کا وقت ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ اگلے دن عصر کے اول وقت کے قریب ادا فرمائی۔
(ج) اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1713]
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر مؤخر کی یہاں تک کہ اگلے دن عصر کے اول وقت کے قریب ادا فرمائی۔
(ج) اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تاویل کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1613»
الحكم على الحديث: صحيح