🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
752. -- باب: من قال لا يسجد المستمع إذا لم يسجد القارئ
-- باب: اس قول کا بیان کہ جب قاری سجدہ نہ کرے تو سننے والا بھی سجدہ نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3771
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ: قَرَأْتُ السَّجْدَةَ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ:" أَنْتَ إِمَامُنَا فَاسْجُدْ نَسْجُدْ مَعَكَ".
حضرت سلیمان بن حنظلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیتِ سجدہ تلاوت کی تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: تم ہمارے امام ہو تم سجدہ کرو تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ سجدہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3771]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
753. -- باب: من قال يكبر إذا سجد ويكبر إذا رفع ومن قال يسلم ومن قال لا يسلم
-- باب: ان اقوال کا بیان کہ جب سجدہ کرے تو تکبیر کہے اور جب سر اٹھائے تو تکبیر کہے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام پھیرے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام نہ پھیرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا" قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.
(ا) ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن سناتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے والی آیت سے گزرتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔
(ب) عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ ثوری رحمہ اللہ کو یہ حدیث اچھی لگتی تھی۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث اس لیے پسند تھی کہ اس میں تکبیر کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1413»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3773
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" إِذَا قَرَأَ الرَّجُلُ السَّجْدَةَ فَلَا يَسْجُدْ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى الْآيَةِ كُلِّهَا، فَإِذَا أَتَى عَلَيْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ" قَالَ: وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ مِثْلَ هَذَا وَيُذْكَرُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا قَرَأْتَ سَجْدَةً فَكَبِّرْ وَاسْجُدْ وَإِذَا رَفَعْتَ فَكَبِّرْ" وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَأَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّهُمَا سَلَّمَا فِي السَّجْدَةِ تَسْلِيمَةً عَنِ الْيَمِينِ، وَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَيُذْكَرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ سَجَدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ فِي السَّجْدَةِ تَسْلِيمٌ".
(ا) حضرت عبداللہ بن مسلم بن یسار رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص آیتِ سجدہ پڑھے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک مکمل آیت نہ پڑھ لے۔ جب وہ آیت مکمل کرلے تو رفع یدین کرے اور تکبیر کہہ کر سجدہ کرے۔ (ب) فرماتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے سنا، وہ بھی اسی طرح فرما رہے تھے اور ربیع بن صبیح سے بواسطہ حسن بصری رحمہ اللہ نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب تم آیتِ سجدہ پڑھو تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو بھی تکبیر کہو۔ (ج) اور حضرت ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ اور ابواحوص رحمہ اللہ سے بھی نقل کیا جاتا ہے کہ ان دونوں نے سجدہ تلاوت میں صرف دائیں طرف ہی سلام پھیرا۔ (د) بعض نے اس کو ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ کے واسطے سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک مرفوع نقل کیا ہے۔ (ہ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے سجدہ تلاوت کیا اور سلام نہیں پھیرا۔ (و) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سجدہ تلاوت میں سلام نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3773]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
754. -- باب: ما يقول في سجود التلاوة
-- باب: سجدہ تلاوت میں کیا پڑھا جائے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذَبَارِيِّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو ⦗٤٦١⦘ دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا:" سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ" زَادَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَتِهِ" فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ" وَقَدْ مَضَى مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا.
(ا) ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں سجدہ تلاوت کرتے تو بار بار یہ دعا پڑھتے: «سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ» ”میرے چہرے نے اپنے خالق کو سجدہ کیا، جس نے اس کے کان اور آنکھ میں اپنی قدرت و قوت سے مناسب شگاف بنائے۔“
(ب) حضرت ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: «فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ﴿فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ﴾ [سورة المؤمنون: 14] ”بڑا بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔“
(ج) اس بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی مرفوع روایات گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 6/ 30»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
755. -- باب: لا يسجد إلا طاهرا
-- باب: پاک (باوضو) ہوئے بغیر سجدہ نہ کیا جائے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3775
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَسْجُدُ الرَّجُلُ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: آدمی پاک (باوضو) ہو کر ہی سجدہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3775]
تخریج الحدیث: «حسن۔ سنده متصل بين الثقات»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
756. -- باب: الراكب يسجد موميا والماشي يسجد على الأرض
-- باب: سوار اشارے سے سجدہ کرے اور پیدل چلنے والا زمین پر سجدہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ يَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ" وَيُذْكَرُ، عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا سَجَدَا وَهُمَا رَاكِبَانِ بِالْإِيمَاءِ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ السُّجُودِ عَلَى الدَّابَّةِ، فَقَالَ: اسْجُدْ وَأَوْمِ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: لَا تَسْجُدْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ طَاهِرًا فَإِذَا سَجَدْتَ وَأَنْتَ فِي حَضَرٍ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَإِنْ كُنْتَ رَاكِبًا فَلَا عَلَيْكَ حَيْثُ كَانَ وَجْهُكَ.
(ا) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے سال آیتِ سجدہ تلاوت کی تو سب لوگ سجدہ ریز ہو گئے، ان میں سوار بھی تھے اور زمین پر سجدہ کرنے والے بھی تھے۔ جو سوار تھے انہوں نے اپنے ہاتھ پر سجدہ کیا۔
(ب) سیدنا علی اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ان دونوں نے سواری کی حالت میں اشارے سے سجدہ کیا۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے جانور یعنی سواری پر سجدہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: سجدہ اشارے سے کرو۔
(د) امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ باوضو ہو کر ہی سجدہ کرو، جب حالتِ حضر میں سجدہ کرے تو قبلہ رخ ہو جا اور اگر تو کسی سواری وغیرہ پر سوار ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں، جدھر بھی تیرا چہرہ ہو (ادھر ہی سجدہ کر لے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3776]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد 1411»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ الْأَزْدِيَّةِ قَالَتْ:" رَأَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ، فَإِذَا مَرَّتْ بِسَجْدَةٍ قَامَتْ فَسَجَدَتْ".
حضرت ام سلمہ ازدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مصحف میں سے قراءت کرتے دیکھا، جب وہ آیتِ سجدہ سے گزرتی تھیں تو ٹھہر کر سجدہ کرتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 8562»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
757. -- باب: من قال لا يسجد بعد الصبح حتى تطلع الشمس
-- باب: اس قول کا بیان کہ فجر کے بعد سورج نکلنے تک سجدہ نہ کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3778
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ، ثنا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ قَالَ: كُنْتُ أَقُصُّ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَسْجُدُ فَنَهَانِي ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ أَنْتَهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ ⦗٤٦٢⦘ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَسْجُدُوا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ مَرْفُوعًا فَيُخْتَارُ لَهُ تَأْخِيرُ السَّجْدَةِ حَتَّى يَذْهَبَ وَقْتُ الْكَرَاهَةِ، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ رَفَعَهُ فَكَأَنَّهُ قَاسَهَا عَلَى صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَسَنَدُلُّ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَى تَخْصِيصِ مَا لَهُ سَبَبٌ عَنِ النَّهْيِ الْمُطْلَقِ، وَيُذْكَرُ عَنْ عَطَاءٍ وَسَالِمٍ وَالْقَاسِمِ وَعِكْرِمَةَ أَنَّهُمْ رَخَّصُوا فِي السُّجُودِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ، وَثَابِتٌ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سَجَدَ لِلشُّكْرِ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ سَمِعَ الْبُشْرَى بِالتَّوْبَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوتمیمہ ہجیمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں فجر کی نماز کے بعد وعظ و نصیحت کیا کرتا تھا اور آیتِ سجدہ کے وقت سجدہ کرتا تھا۔ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے تین بار منع کیا، لیکن میں نہ رکا تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، انہوں نے سورج کے بلند ہونے تک کوئی سجدہ نہیں کیا۔“
اگر یہ روایت مرفوع ثابت ہو تو سجدے کو مؤخر کرنا مستحب ہے، حتیٰ کہ مکروہ وقت ختم ہو جائے اور اگر یہ حدیث مرفوع ثابت نہ ہو تو گویا اس کو نفلی نماز پر قیاس کیا جائے گا اور عنقریب ہم ان شاء اللہ اس بات پر دلیلیں پیش کریں گے کہ جس (نماز) کا کوئی سبب ہو وہ ”نہی مطلق“ سے مستثنیٰ ہے۔
عطاء، سالم، قاسم اور عکرمہ رحمہم اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت میں رخصت دی ہے۔
اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سجدہ شکر فجر کی نماز کے بعد کیا تھا جب انہوں نے توبہ کی بشارت سنی تھی اور یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3778]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1415»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
758. -- باب:
-- باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3779
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ كَانَ يَسْجُدُ بِآخِرِ الْآيَتَيْنِ مِنْ حَمِ السَّجْدَةِ" وَكَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ يَسْجُدُ بِالْأُولَى مِنْهُمَا.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حم سجدہ کی دو آیتوں میں سے آخری آیت پر سجدہ کرتے تھے اور ابوعبدالرحمن، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان دونوں میں سے پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3779]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم في المستدرك 3650»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
759. -- باب: الصلاة في الكعبة
-- باب: کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَأُسَامَةُ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا مَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ، وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى قَالَ: وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الشَّافِعِيُّ فِي أَحَدِ الْمَوْضِعَيْنِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ لَنَا إِسْمَاعِيلُ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ وَقَالَ: عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ ⦗٤٦٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ الصَّحِيحُ.
(ا) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال، اسامہ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، میں نے بلال سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون کو اپنی بائیں طرف کیا اور ایک کو اپنی دائیں طرف اور بقیہ تین ستونوں کو اپنے پیچھے کی طرف کیا پھر نماز پڑھی۔ ان دنوں خانہ کعبہ کے اندر چھ ستون تھے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ دو ستون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔
(ج) اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے، دو جگہوں میں سے ایک میں۔
(د) امام بخاری رحمہ اللہ، اسماعیل کے واسطے سے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ دو ستون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھے۔
ابن بکیر نے بھی امام مالک سے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3780]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي في الام 1/ 99۔ بخاري 505»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں