🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
759. -- باب: الصلاة في الكعبة
-- باب: کعبہ میں نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3791
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، ثُمَّ خَرَجَ وَبِلَالٌ خَلْفَهُ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ: هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَخَلَ فَسَأَلْتُ بِلَالًا هَلْ صَلَّى؟ قَالَ: نَعَمْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ اسْتَقْبَلَ الْجَذَعَةَ وَجَعَلَ السَّارِيَةَ الثَّانِيَةَ عَنْ يَمِينِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے پھر باہر نکل آئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر جب اگلے دن داخل ہوئے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی ہیں، آپ کھجور کے تنے والے ستون کی طرف متوجہ ہوئے اور دوسرے ستون کو اپنی دائیں طرف رکھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3791]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني في سننه 2/ 52/1»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3792
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ ⦗٤٦٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَصَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، ثُمَّ دَخَلَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَامَ فِيهِ يَدْعُو، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ" وَهَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ إِنْ صَحَّتَا فَفِيهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَهُ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى مَرَّةً، وَتَرَكَ مَرَّةً إِلَّا أَنَّ فِي ثُبُوتِ الْحَدِيثَيْنِ نَظَرًا وَمَا ثَبَتَ عَنْ بِلَالٍ وَهُوَ مُثْبَتٌ أَوْلَى مِمَّا ثَبَتَ عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ نَافٍ وَمَعَ بِلَالٍ غَيْرُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز ادا کی، پھر نکل گئے۔ پھر دروازے اور حجرِ اسود کے درمیان دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہی قبلہ ہے۔“ پھر دوسری مرتبہ داخل ہوئے تو کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے، پھر نکل گئے اور نماز نہیں پڑھی۔
یہ دونوں روایتیں اگر صحیح ثابت ہو جائیں تو ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیت اللہ میں دو بار داخل ہونے کی دلیل ہے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ نہ پڑھی ہو۔ مگر ان دونوں حدیثوں کے ثبوت میں نظر ہے اور جو بات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو (نماز کا) اثبات کرنے والے ہیں، وہ اس سے اولیٰ ہے جو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، جو نفی کرنے والے ہیں، اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوسرے (راوی) بھی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3792]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا۔ اخرجه الدار قطني في سننه 2/ 52/3»

الحكم على الحديث: ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3793
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ بِشْرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً وَطَهُورًا وَمَسْجِدًا وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدِيَّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ" وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف خاص طور پر بھیجے جاتے تھے اور مجھے سرخ و سیاہ سب لوگوں کی طرف بھیجا گیا، میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی تھیں، میرے لیے زمین کو نماز کے لیے پاک جگہ اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا، میری امت کے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی کہ ایک ماہ کی مسافت سے دشمنوں پر میرا رعب پڑتا ہے اور مجھے شفاعت کاملہ دی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3793]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 335»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
760. -- باب: النهي عن الصلاة على ظهر الكعبة
-- باب: کعبہ کی چھت پر نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3794
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ: الْمَقْبَرَةِ وَالْمَجْزَرَةِ وَالْمَزْبَلَةِ وَالْحَمَّامِ وَمَحَجَّةِ الطَّرِيقِ وَظَهْرِ بَيْتِ اللهِ تَعَالَى وَمَوَاطِنِ الْإِبِلِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ (ڈالنے) کی جگہ، ذبح خانہ، قبرستان، شارع عام، حمام، اونٹ باندھنے کی جگہ اور بیت اللہ کی چھت پر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث: «باطل۔ اخرجه الطبراني في الاوس 260»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3795
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ تَفَرَّدَ بِهِ زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ الْمِهْرَانِيُّ ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الرَّوَاسَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ أَبُو جَبِيرَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ ⦗٤٦٧⦘ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَشْبَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت منقول ہے۔ اس روایت کو بیان کرنے میں زید بن جبیرہ منفرد ہیں۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زید بن جبیرہ ابوجبیرہ، جو داود بن حصین سے روایت کرتے ہیں، منکر الحدیث ہیں۔
(ج) یہ حدیث عبداللہ عمری سے بھی مروی ہے، وہ نافع سے، وہ ابن عمر سے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اور داود کی حدیث (درستگی کے) زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3795]
تخریج الحدیث: «باطل۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
761. -- باب: الدليل على أن المرتد يقضي ما ترك من الصلاة
-- باب: اس بات کی دلیل کہ مرتد اپنی چھوڑی ہوئی نمازوں کی قضا کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3796
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ حنبل، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ" قَالَ قَتَادَةُ: {" أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي"} [طه: ١٤] رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هُدْبَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ هَمَّامٍ.
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی اسے یاد آئے پڑھ لے، اس کا کفارہ یہی ہے۔“
(ب) حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3796]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 597۔ ومسلم 684»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
762. جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر -- باب: لا تبطل صلاة المرء بالسهو فيها
سجدہ سہو اور سجدہ شکر سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز میں سہو (بھول) جانے سے آدمی کی نماز باطل نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3797
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو ایک بشر ہوں، میں بھی تمہاری طرح بھول جاتا ہوں، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ غور و فکر کرے، جو درستگی کے زیادہ قریب ہو اس پر نماز مکمل کر لے اور (آخر میں) دو سجدے کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3797]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 401»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر اس کو (نماز کے متعلق) شک میں مبتلا کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ لہٰذا جب تم میں سے کسی کے ساتھ ایسی صورت واقع ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1232»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3799
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعُ النِّدَاءَ فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان کہی جائے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کے لیے گوز کی آواز ہوتی ہے، اتنی دور بھاگتا ہے کہ اس کو آواز سنائی نہ دے۔ پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو پھر پلٹ آتا ہے اور نمازی کے دل میں خیالات ڈالتا ہے حتیٰ کہ کہتا ہے: فلاں چیز یاد کرو، جو باتیں اس کو یاد نہیں ہوتیں وہ یاد دلاتا ہے۔ اس وقت آدمی کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار۔ (جب یہ صورت پیش آئے) تو نمازی بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1222»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
763. -- باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا
-- باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3800
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي أنبأ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْبَيْهَقِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَإِنْ كَانَ هِيَ خَمْسًا كَانَتَا شَفْعًا وَإِنْ صَلَّى تَمَامَ الْأَرْبَعِ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ دَاوُدَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک کو چھوڑ کر یقین پر عمل کرے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ اگر وہ پانچ رکعتیں ہو گئی ہوں تو دو سجدے اس کو جفت بنا دیں گے اور اگر اس نے پوری چار پڑھ لی تھیں تو یہ (دو سجدے) شیطان کے لیے باعثِ ذلت ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث: «صحيحح۔ اخرجه احمد 3/ 72/ 11212»

الحكم على الحديث: صحيحح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں