🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
749. -- باب: السجدة إذا كان في آخر السورة وكان في الصلاة
-- باب: نماز کے دوران سورت کے آخر میں سجدہ آنے کی صورت میں سجدہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3762
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَجَدَ فِي النَّجْمِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے سورہ نجم میں فجر کی نماز میں سجدہ کیا، پھر دوسری سورت شروع کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3762]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ فِي آخِرِ السُّورَةِ فَإِنْ شَاءَ رَكَعَ وَإِنْ شَاءَ سَجَدَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سجدہ سورت کے اخیر میں ہو تو اگر چاہے تو رکوع کرلے اور اگر چاہے تو سجدہ کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3763]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 5918»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ فِي الرَّجُلِ يَقْرَأُ السُّورَةَ آخِرُهَا السَّجْدَةُ قَالَ:" إِنْ شَاءَ رَكَعَ وَإِنْ شَاءَ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَسَجَدَ".
سیدنا اسود رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو نماز میں ایسی سورت پڑھے جس کے آخر میں سجدہ ہو، وہ اگر چاہے تو رکوع کر لے اور اگر چاہے تو سجدہ کر لے۔ پھر کھڑا ہو کر قراءت کرے، رکوع کرے اور سجدہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3765
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلَانِ كِلَاهُمَا خَيْرٌ مِنِّي إِنْ لَمْ يَكُنْ أَظُنُّهُ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ أَوْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ، أَنَّ أَحَدُهُمَا سَجَدَ ⦗٤٥٨⦘ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، وَفِي اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِذَا قَرَأَ النَّجْمَ مَعَ الْقَوْمِ سَجَدَ وَإِذَا قَرَأَهَا فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا وَصَلَ إِلَيْهَا قُرْآنًا سَجَدَ، وَإِذَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا قُرْآنًا رَكَعَ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا قَرَأَهَا سَجَدَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ أَوْ سُورَةٍ تُشْبِهُهَا قَالَ: وَسَجَدَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَفِي حَدِيثِ الْبِرْتِيِّ: إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
(أ) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے ایسے دو آدمیوں نے حدیث بیان کی جو مجھ سے بہتر ہیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے، (راوی نے) فرمایا: ”مجھے نہیں یاد کہ کس نے بتایا؟“ ان میں سے کسی ایک نے سورت الانشقاق اور سورت العلق میں سجدہ کیا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب لوگوں کے ساتھ سورہ نجم پڑھتے تو سجدہ کرتے، اور جب اسے نماز میں پڑھتے (تب بھی سجدہ کرتے)۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب اس کے ساتھ کوئی اور قرآن کا حصہ ملاتے تو سجدہ کرتے اور اگر اس کے ساتھ کوئی اور حصہ نہ ملاتے تو رکوع کرلیتے۔
(ج) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب اس کو پڑھتے تو سجدہ کرتے، پھر سجدے سے اٹھ کر سورت التین یا اس کے مشابہ کوئی سورت پڑھتے۔
(د) فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا ہے اور برتی کی حدیث میں ہے کہ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نہ ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3765]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
750. -- باب: سجود القوم بسجود القارئ
-- باب: قاری کے سجدہ کرنے کی وجہ سے لوگوں (سامعین) کا سجدہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3766
قَدْ مَضَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سُجُودِهِ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ پڑھنے پر سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3766]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی تو سجدہ کیا اور ایک شخص کے سوا پوری قوم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس شخص نے ہاتھ میں تھوڑی سی کنکریاں یا مٹی لے کر اپنے چہرے کے پاس لے گیا اور کہا: ”مجھے یہی کافی ہے۔“
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میں نے اس کو حالتِ کفر میں ہی قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے (وہ شخص امیہ بن خلف تھا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه۔ وقد تقدم برقم: 3709»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ حَامِدٍ الْقَاضِي، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مِنْجَابٌ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ بِنَا حَتَّى ازْدَحَمْنَا عِنْدَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا يَسْجُدُ فِيهِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ" لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ فَنَزْدَحِمُ حَتَّى مَا يَجِدُ بَعْضُنَا لِجَبْهَتِهِ مَوْضِعًا فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ آدَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
(ا) حضرت نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار دورانِ تلاوت آیتِ سجدہ سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ کرتے حتیٰ کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجوم کر لیتے، یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو سجدے کے لیے جگہ بھی نہ مل پاتی اور یہ نماز کے علاوہ (کی بات) ہوتی تھی۔
(ب) یہ حضرت محمد بن بشر رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور حضرت ابن مسہر رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیتِ سجدہ پڑھتے، اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے حتیٰ کہ نماز کے علاوہ ہم میں سے بعض لوگوں کو اپنی پیشانی زمین پر رکھنے کی جگہ بھی نہ ملتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3767]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 1075»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
751. -- باب: من قال إنما السجدة على من استمعها وروي ذلك عن عثمان بن عفان رضي الله عنه
-- باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ صرف اسی پر ہے جو اسے غور سے سنے، اور یہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3768
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ثنا ⦗٤٥٩⦘ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ:" مَرَّ سَلْمَانُ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ السَّجْدَةَ قَالُوا: نَسْجُدُ؟ قَالَ:" لَيْسَ لَهَا غَدَوْنَا".
(ا) حضرت ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو سجدے والی آیت پڑھ رہے تھے۔ لوگوں نے کہا: کیا ہم بھی سجدہ کریں؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم اس کے لیے نہیں چلے تھے۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنا اسی پر واجب ہے جو اس کو سننے کے لیے بیٹھا ہو۔
(ج) حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کو سن رہا ہے۔
(د) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ سجدہ تو صرف اس پر ہے جو اس کے لیے بیٹھا ہے اور خاموش ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3768]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 5909»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
752. -- باب: من قال لا يسجد المستمع إذا لم يسجد القارئ
-- باب: اس قول کا بیان کہ جب قاری سجدہ نہ کرے تو سننے والا بھی سجدہ نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ:" قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ كَمَا تَقَدَّمَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ﴿سورة النجم﴾ کی تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3753»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3770
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا قَرَأَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فِيهَا سَجْدَةٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ الرَّجُلُ وَسَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَ آخَرُ آيَةً فِيهَا سَجْدَةٌ، وَهُوَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَظَرَ الرَّجُلُ أَنْ يَسْجُدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَرَأْتُ السَّجْدَةَ فَلَمْ تَسْجُدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُنْتَ إِمَامًا فَلَوْ سَجَدْتَ سَجَدْتُ مَعَكَ" وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَ: إِنِّي لَأَحْسَبُهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ؛ لِأَنَّهُ يُحْكَى أَنَّهُ قَرَأَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَسْجُدْ، وَإِنَّمَا رَوَى الْحَدِيثَيْنِ مَعًا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمًهُ اللهُ: فهَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مُحْتَمَلٌ وَقَدْ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْصُولًا، وَإِسْحَاقُ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ أَيْضًا ⦗٤٦٠⦘ ضَعِيفٌ وَالْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلٌ، وَحَدِيثُهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَوْصُولٌ مُخْتَصَرٌ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
(ا) حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص نے آیتِ سجدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تلاوت کی اور سجدہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر کسی دوسرے شخص نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کا انتظار کرتا رہا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آیتِ سجدہ تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو امام تھا اگر تو سجدہ کرتا تو میں بھی تیرے ساتھ سجدہ کرلیتا۔“
(ب) حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت نقل کی اور فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے کیونکہ وہی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا اور اس لیے بھی کہ دونوں حدیثوں کو روایت کرنے والے حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ ہی ہیں۔
(ج) حضرت امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بات ذکر کی ہے یہ بھی درست ہو سکتی ہے۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے اسے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً روایت کیا ہے، اور اسحاق ضعیف ہے۔ نیز یہ اوزاعی سے، انہوں نے قرہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ عطاء بن یسار کی حدیث میں محفوظ یہ ہے کہ وہ مرسل ہے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث موصول اور مختصر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انه من بلاغات او مراسيل عطاء»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں