🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
806. -- باب: وجوب القراءة على ما نزل من الأحرف السبعة دون غيرهن من اللغات
-- باب: دیگر لغات کے بجائے ان سات حروف (قراءات) پر قراءت کے واجب ہونے کا بیان جن پر قرآن نازل ہوا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3994
أنبأ أَبُو سَهْلٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَاخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ فقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوه، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ وَابْنُ الزُّبَيْرِ: التَّابُوتُ، فَرَفَعُوا اخْتِلَافَهُمْ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ فَإِنَّهُ بِلِسَانِهِمْ".
ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس دوران «التَّابُوتُ» میں اختلاف کیا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: «التَّابُوهُ» اور سیدنا سعید بن عاص اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: «التَّابُوتُ»، وہ اپنا فیصلہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئے تو انہوں نے فرمایا: ”اس کو «التَّابُوتُ» لکھو کیونکہ یہ (قرآن) انہیں (قریشیوں) کی لغت میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3994]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ سند المولف۔ رواه ابو يعنلي 1/64»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3995
أنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ:" الْقِرَاءَةُ سُنَّةٌ" وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ اتِّبَاعَ مَنْ قَبْلَنَا فِي الْحُرُوفِ وَفِي الْقِرَاءَاتِ سُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ لَا يَجُوزُ مُخَالَفَةُ الْمُصْحَفِ الَّذِي هُوَ إِمَامٌ وَلَا مُخَالَفَةُ الْقِرَاءَاتِ الَّتِي هِيَ مَشْهُورَةٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ سَائِغًا فِي اللُّغَةِ أَوْ أَظْهَرَ مِنْهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَأَمَّا الْأَخْبَارُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي إِجَازَةِ قِرَاءَةِ: {غَفُورٌ رَحِيمٌ} [البقرة: ١٧٣] ، بَدَلَ {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} [النساء: ٢٦] ؛ فَلَأَنَّ جَمِيعَ ذَلِكَ مِمَّا نَزَلَ بِهِ الْوَحْيُ، فَإِذَا قَرَأَ ذَلِكَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ مَا لَمْ يَخْتِمْ بِهِ آيَةَ عَذَابٍ بِآيَةِ رَحْمَةٍ أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ فَكَأَنَّهُ قَرَأَ آيَةً مِنْ سُورَةٍ وَآيَةً مِنْ سُورَةٍ أُخْرَى فَلَا يَأْثَمُ بِقِرَاءَتِهَا كَذَلِكَ، وَالْأَصْلُ مَا اسْتَقَرَّتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فِي السَّنَةِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا عَارَضَهُ بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي تِلْكَ السَّنَةِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ اجْتَمَعَتِ الصَّحَابَةُ عَلَى إِثْبَاتِهِ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ.
(ا) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قراءت سنت ہے۔
(ب) ان کی مراد اپنے سے پہلے والوں کی ہجوں میں اتباع کرنا ہے۔ قراءتوں میں جو لائقِ اتباع ہیں، ان میں اس مصحف کی مخالفت جائز نہیں جو امام ہے اور نہ ہی مشہور قراءتوں کی مخالفت جائز ہے، اگرچہ وہ اس کے علاوہ لغت میں جائز ہو یا زیادہ واضح ہی کیوں نہ ہو۔
(ج) رہی وہ احادیث جو «عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ”علیم حکیم“ کی جگہ «غَفُوْرٌ رَحِيْمٌ» ”غفور رحیم“ کی قراءت کی اجازت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں، وہ اس لیے کہ یہ بھی ان میں سے ہیں جن کے بارے میں وحی نازل ہوئی۔ لہٰذا اس کو اس کی جگہ کے علاوہ پڑھنا جائز ہے، آیتِ عذاب کو آیتِ رحمت سے یا آیتِ رحمت کو آیتِ عذاب سے نہ بدلے۔ یہ ایسا ہے گویا اس نے ایک آیت ایک سورت سے پڑھی اور دوسری آیت دوسری سورت سے، تو اس طرح پڑھنے سے وہ گناہ گار نہ ہوگا؛ اور اصل جس پر قراءت قائم ہے وہ وہی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ دور کرنے کے بعد فوت ہوئے۔ اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا تھا۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے (قرآن کے) دو گتوں کے درمیان ثابت ہونے پر اجماع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3995]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه سعيد بن منصور 2/260»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
807. -- باب: ما روي فيمن يسرق من صلاته فلا يتمها
-- باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے اور اسے پورا نہیں کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3996
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ:" لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا".
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے بدترین چوری کرنے والا وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! نماز میں چوری کیسے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3996]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ رواه الحاكم 1 /353»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3997
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ:: لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا" وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوری کرنے کے لحاظ سے لوگوں میں سے بدترین آدمی وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز میں آدمی کیسے چوری کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3997]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم 1/353»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3998
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ: مُذْ كَمْ صَلَّيْتَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ:" مَا صَلَّيْتَ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ" ⦗٥٤٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ.
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود کو پورا پورا ادا نہیں کر رہا تھا تو اس کو کہا: کتنے عرصے سے تو (اس طرح کی) نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے کوئی نماز نہیں پڑھی، اگر تو اسی حالت میں مر گیا تو تیری موت فطرت (اسلام) پر نہ ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3998]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 758»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3999
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَعِيدٍ وَصَفْوَانُ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ أَيْمَنُ أَخًا لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ كَانَ أَكْبَرَ مِنْ أُسَامَةَ قَالَ حَرْمَلَةُ: فَصَلَّى الْحَجَّاجُ صَلَاةً لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَدَعَاهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ سَلَّمَ، فَقَالَ: أَيِ ابْنَ أَخِي أَتَحْسِبُ أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ إِنَّكَ لَمْ تُصِلِّ فَعُدْ لِصَلَاتِكَ، فَلَمَّا وَلَّى الْحَجَّاجُ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ، فَذَكَرَ حُبَّهُ مَا وَلَدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ وَكَانَتْ حَاضِنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن داخل ہوا، جو انصار کا ایک شخص تھا اور ایمن، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا۔ حرملہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے ایسی نماز پڑھی جس میں اس نے رکوع و سجود کو مکمل نہیں کیا، جب اس نے سلام پھیرا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلا کر کہا: ”اے بھتیجے! تو کیا سمجھتا ہے کہ تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ تیری نماز نہیں ہوئی، اپنی نماز لوٹا۔“ جب حجاج چلا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: ”یہ کون تھا؟“ میں نے کہا: حجاج بن ایمن بن ام ایمن۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بولے: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیتے تو اس سے محبت کرتے“، پھر انہوں نے محبت کی وجہ ذکر کی کہ وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے تھا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش و نگہداشت کرنے والی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3999]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3529»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
808. -- باب: ما روي في إتمام الفريضة من التطوع في الآخرة
-- باب: آخرت میں نفل نمازوں کے ذریعے فرض نمازوں کو پورا کیے جانے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ”جو شخص فرائض پورے نہیں کرتا، اس کمی کو نوافل (نمازوں) سے پورا کیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q4000]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4000
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّهُ خَافَ مِنْ زِيَادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ: مِنْ زِيَادٍ أَوِ ابْنِ زِيَادٍ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتَى أَلَّا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى يَرْحَمُكَ اللهُ قَالَ يُونُسُ وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً، وَإِنْ كَانَتِ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُأْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكُمْ".
انس بن حکیم ضبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد سے خوفزدہ ہو کر مدینہ آیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا: مجھے اپنا نسب بیان کرو۔ میں نے نسب بیان کر دیا تو انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! کیا میں تجھ سے ایک حدیث نہ بیان کروں؟ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ (یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز لوگوں سے ان کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کے متعلق پوچھا جائے گا۔ ہمارا پروردگار عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے: میرے اس بندے کی نماز کا جائزہ لو، کیا اس نے اسے درست اور مکمل پڑھا تھا یا اس میں کوئی کمی کی تھی؟ اگر وہ مکمل ہو گی تو مکمل ہی لکھی جائے گی۔ اگر اس میں کچھ کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو کیا میرے بندے کے پاس نفل بھی ہیں؟ اگر اس کے پاس نفل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے اس بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے پورا کر دو۔ پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق لیا جائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4000]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن الجاشيبة 34242»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4001
وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي سَلِيطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتَلَفَ فِيهِ الْحَسَنُ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ وَمَا ذَكَرْنَا أَصَحَّهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَرُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
(ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
(ب) اس حدیث میں حسن پر کئی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے اور جو سند ہم نے ذکر کی ہے وہ ان شاء اللہ ان سب سے صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4001]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه احمد 4/103»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4002
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ ⦗٥٤١⦘ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوَفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ لَمْ يُكْمِلْهَا قَالَ اللهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي تَطَوُّعًا تُكْمِلُوا بِهِ مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ، ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ" رَفَعَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَوَقَفَهُ غَيْرُهُ.
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں بندے سے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر اس کی نماز پوری نکلی تو پوری ہی لکھی جائے گی اور اگر اس کی نماز مکمل نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نمازیں ہیں؟ اگر ہیں تو فرضوں کی کمی ان نفلوں کے ساتھ پوری کر دو۔ پھر زکوٰۃ کا حساب اسی طرح ہو گا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی اصول کے مطابق ہو گا۔“
حماد بن سلمہ نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور دوسروں نے اسے موقوف (صحابی کا قول) بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4002]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 2/479»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں