السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
847. -- باب: نهي الرجال عن ثياب الحرير
-- باب: مردوں کو ریشمی کپڑے پہننے سے منع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4201
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ" ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا؛ لِتَلْبَسَهَا" فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر ایک دھاری دار قمیص دیکھی تو کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں تاکہ جمعہ کے دن پہنیں اور وفدوں سے ملاقات کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ پہنتے ہیں جن کے لیے آخرت میں کچھ بھی حصہ نہیں ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قمیصیں آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان میں سے ایک عطا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ چیز پہنا رہے ہیں جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ یہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ آپ کو پہننے کے لیے نہیں دی“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں رہنے والے اپنے مشرک بھائی کو پہنا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4201]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم غيرها موضع»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4202
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا؛ لِتَلْبَسَهَا، إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا؛ لِتَبِيعَهَا أَوْ لِتَكْسُوَهَا" فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مِنْ أُمِّهِ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر دھاری دار قمیص فروخت ہوتے دیکھی، پھر انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے پہننے کے لیے نہیں دے رہا، بلکہ تو اسے فروخت کر دے یا کسی اور کو پہنا دے“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ماں کی طرف سے اپنے مشرک بھائی کو پہنا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 886، مسلم 2068»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4203
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَصَالِحٌ جَزْرَةُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي ذُبْيَانَ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو ذُبْيَانَ خَلِيفَةُ بْنُ ⦗٥٩٢⦘ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَا يَلْبَسُهُ فِي الْآخِرَةِ" قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ: وَمَنْ لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ: {وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ} [الحج: ٢٣] وَفِي رِوَايَةِ عَلِيٍّ وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: وَذَلِكَ لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى {وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ} [الحج: ٢٣] أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم ریشم نہ پہنو، کیونکہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ قیامت کو نہیں پہنے گا۔“ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنی طرف سے یہ بات فرماتے تھے کہ جس نے ریشم کا لباس قیامت کو نہ پہنا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا کیونکہ فرمانِ الٰہی ہے: ﴿وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ﴾ [سورة الحج: 23] اور اس دن جنتیوں کا لباس ریشم ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث: «صحيح- بخاري 5834، مسلم 2069»
الحكم على الحديث: صحيح- بخاري 5834، مسلم 2069
حدیث نمبر: 4204
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ شَدِيدًا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے؟ تو انہوں نے زور دے کر کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5832، مسلم 2073»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4205
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ هَارُونَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَأَخَذَهُ فَرَمَا بِهِ وَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ.
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی طلب کیا، دہقان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آئے تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے برتن پھینک دیا اور فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا ہے اور باریک اور موٹا ریشم پہننے اور اس پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4205]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5837»
الحكم على الحديث: صحيح
848. -- باب: من صلى فيها، أو فيما يكره من الأعلام لم يعد
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اس (ریشمی کپڑے) میں یا ان دھاریوں (نشانات) والے کپڑے میں نماز پڑھی جو مکروہ ہیں، تو وہ اسے نہیں دہرائے گا
حدیث نمبر: 4206
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ" ⦗٥٩٣⦘ لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ: سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَصَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ وَقَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِبَاسُ هَذَا لِلْمُتَّقِينَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ریشمی قمیص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا اور اس میں نماز ادا کی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا اور فوراً اتار دیا، پھر فرمایا: ”یہ لباس پرہیزگاروں کے لائق نہیں۔“
(ب) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن آئے اور ریشمی قمیص کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا اور فرمایا: ”یہ لباس متقین کے لائق نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4206]
(ب) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن آئے اور ریشمی قمیص کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا اور فرمایا: ”یہ لباس متقین کے لائق نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4206]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 375»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4207
أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَنَظَرَ إِلَى أَعْلَامِهَا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي فِي صَلَاتِي، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَأَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی دھاریوں کی طرف دیکھتے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ، اس نے مجھے میری نماز سے غافل کر دیا ہے اور میرے پاس «الْأَنْبِجَانِيَّةُ» (چادر کا نام) چادر لے کر آؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري و مسلم في غير موضع»
الحكم على الحديث: صحيح
849. -- باب: العلم في الحرير
-- باب: ریشم میں دھاری (نشان) ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4208
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ:" أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَنَحْنُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذْرَبِيجَانَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ يَلِيَانِ الْإِبْهَامَ قَالَ: فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذربائیجان میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ریشم سے منع کیا ہے، لیکن دو انگلیوں جتنے ریشم کی اجازت دی ہے۔“ ابو عثمان کہتے ہیں: ہمیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد (کپڑے کے) نقش و نگار ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4208]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5828»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4209
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعٍ، أَوْ إِصْبَعَيْنِ، أَوْ ثَلَاثٍ، أَوْ أَرْبَعٍ" وَأَشَارَ بِكَفِّهِ وَعَقَدَ خَمْسَيْنِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ نامی مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ریشم پہننے سے منع کیا ہے، لیکن ایک، دو، تین یا چار انگلیوں جتنے ریشم کی اجازت دی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4210
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ قَالَ: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءٍ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ، فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ" فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللهِ فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا، فَقَالَتْ: هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً لَهَا لَبِنَةُ دِيبَاجٍ وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ، فَقَالَتْ: هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى قُبِضَتْ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى نَسْتَشْفِي بِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور فرمایا: مجھے پتا چلا ہے کہ آپ تین چیزوں کو حرام کہتے ہیں: 1۔ دھاری دار کپڑا، 2۔ سرخ رنگ کی گدی، 3۔ ماہ رجب کے مکمل روزے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: رہی رجب کی بات تو اس شخص کا کیا جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ رہی کپڑے میں دھاری کی بات تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ میں نے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہ نقش و نگار انہی میں سے نہ ہو اور رہی سرخ رنگ کی گدی تو یہ عبداللہ کی گدی ہے اور وہ سرخ ہے۔ میں واپس سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے ان کو خبر دی تو انہوں نے فرمایا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ ہے۔ انہوں نے میرے سامنے طیالسی جبہ نکالا، اس کا گریبان ریشم کا تھا اور اس کے دونوں چاکوں پر ریشم کی گوٹ لگی ہوئی تھی۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنتے تھے اور ہم اس جبہ کو مریضوں کے لیے دھوتے تھے، ہم اس کے ذریعے شفا حاصل کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح