السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
909. -- باب: صلاة الليل والنهار مثنى مثنى
-- باب: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4578
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو النَّضْرِ، وَرَوْحٌ، وَفَهْدُ بْنُ حَيَّانَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ (ح) ⦗٦٨٧⦘ وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ الْعَمْيَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى، وَتَشَهَّدْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَبَأَّسْ، وَتَمَسْكَنْ وَأَقْنِعْ يَدَيْكَ، وَقُلِ: اللهُمَّ اللهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَفِي حَدِيثِهِمْ" وَتُقَنِّعُ يَدَيْكَ، وَتَقُولُ: اللهُمَّ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ" وَفِيمَا قَرَأْتُ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ لِأَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ رِوَايَةُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوَاضِعَ، قَالَ: عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ وَقَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ: وَإِنَّمَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ هُوَ ابْنُ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: هُوَ عَنِ الْمُطَّلِبِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا مطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز دو دو رکعتیں ہے، تو ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھ، عاجزی اور انکساری کر، اپنے ہاتھوں کو بلند کر اور کہہ: «اللّٰهُمَّ اللّٰهُمَّ» ”اے اللہ! اے اللہ!“، جس نے ایسا نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے، ناقص ہے“۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں لیث بن سعد کی عبد ربہ بن سعید سے روایت شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور شعبہ نے اس حدیث میں کئی جگہ غلطی کی ہے: انہوں نے «انس بن ابی انس» کہا حالانکہ وہ عمران بن ابی انس ہیں، اور «عبداللہ بن حارث» کہا حالانکہ یہ عبداللہ بن نافع عن ربیعہ بن حارث ہے، اور ربیعہ بن حارث، عبدالمطلب کے بیٹے ہیں، تو انہوں نے «عن المطلب» کہہ دیا اور اس میں فضل بن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4578]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں لیث بن سعد کی عبد ربہ بن سعید سے روایت شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور شعبہ نے اس حدیث میں کئی جگہ غلطی کی ہے: انہوں نے «انس بن ابی انس» کہا حالانکہ وہ عمران بن ابی انس ہیں، اور «عبداللہ بن حارث» کہا حالانکہ یہ عبداللہ بن نافع عن ربیعہ بن حارث ہے، اور ربیعہ بن حارث، عبدالمطلب کے بیٹے ہیں، تو انہوں نے «عن المطلب» کہہ دیا اور اس میں فضل بن عباس کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4578]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
910. -- باب: من أجاز أن يصلي أربعا لا يسلم إلا في آخرهن
-- باب: اس قول کا بیان جس نے چار رکعتیں اس طرح پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے کہ صرف ان کے آخر میں سلام پھیرے
حدیث نمبر: 4579
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهِنَّ خَيْرٌ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَقْرَأُ فِيهِنَّ، أَوْ يُقْرَأُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فِيهِنَّ سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ" وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے ڈھلنے کے بعد چار رکعات پڑھتے تھے۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! یہ نماز کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جب سورج ڈھلتا ہے اور ظہر کی نماز تک آسمان کے دروازے بند نہیں کیے جاتے۔ میں پسند کرتا ہوں کہ آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے میرے نیک اعمال اوپر چڑھائے جائیں۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان تمام میں قراءت کرتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: کیا ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فاصلہ کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، صرف آخری رکعت میں سلام ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4579]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4580
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ عُبَيْدَةُ ح قَالَ: وَثنا أَبُو الرَّبِيعِ أَيْضًا أنبأ قَزَعَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ:" أَدْمَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يُصَلِّيهِنَّ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تُصَلِّيهَا؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ ⦗٦٨٨⦘ قَالَ: وَهَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا وَهُوَ أَتَمُّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُبَيْدَةَ وَقِيلَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَقِيلَ: عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ قَزَعَةَ وَهُوَ خَطَأٌ، وَعُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ:" لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد میرے گھر چار رکعات ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسی نماز ہے جو آپ پڑھتے ہیں؟ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔
عبیدہ بن معتب ضعیف ہیں، ان کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبیدہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4580]
عبیدہ بن معتب ضعیف ہیں، ان کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبیدہ ضعیف ہیں۔ یہ روایت سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4580]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4581
أَنْبَأَهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُؤَمَّلٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ" إِنَّكَ تُدِيمُ هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ:" إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ قَبْلَ أَنْ تُرْتَجَ" لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ. وَقَدْ وَرَدَ الْحَدِيثُ الثَّابِتُ بِإِجَازَةِ خَمْسٍ لَا يُتَشَهَّدُ وَلَا يُسَلَّمُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ فِي الْوِتْرِ، وَبِإِجَازَةِ تِسْعٍ لَا يُقْعَدُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَلَا يُسَلَّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ، وَذَلِكَ أَيْضًا فِي الْوِتْرِ مَذْكُورٌ.
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے قبل چار رکعات پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ”کیا آپ ان پر ہمیشگی کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال آسمان کے دروازے بند ہونے سے پہلے اوپر چلے جائیں۔“
(ب) ثابت (صحیح) حدیث میں وتر میں پانچ رکعات کی اجازت آئی ہے، جن کے درمیان نہ تشہد ہوگا اور نہ ہی سلام، صرف آخری رکعت میں، اور نو رکعات کی اجازت بھی آئی ہے کہ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھا جائے اور سلام صرف نویں رکعت میں ہوگا۔ یہ بھی وتر کے بارے میں مذکور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4581]
(ب) ثابت (صحیح) حدیث میں وتر میں پانچ رکعات کی اجازت آئی ہے، جن کے درمیان نہ تشہد ہوگا اور نہ ہی سلام، صرف آخری رکعت میں، اور نو رکعات کی اجازت بھی آئی ہے کہ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھا جائے اور سلام صرف نویں رکعت میں ہوگا۔ یہ بھی وتر کے بارے میں مذکور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4581]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
911. -- باب: من أجاز أن يصلي بلا عقد عدد
-- باب: اس قول کا بیان جس نے کسی متعین تعداد کی پابندی کے بغیر نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 4582
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، قَالَ: دَخَلَ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ مَسْجِدَ دِمَشْقٍ فَإِذَا بِرَجُلٍ يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَنْظُرَ عَلَى شَفْعٍ يَنْصَرِفُ أَمْ عَلَى وِتْرٍ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ هَلْ تَدْرِي عَلَى شَفْعٍ انْصَرَفْتَ أَمَ عَلَى وِتْرٍ؟ قَالَ: أَلَّا أَكُونَ أَدْرِي فَإِنَّ اللهَ يَدْرِي، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهُ يَقُولُ، ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" قَالَ: فَقَالَ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: قَالَ: أَبُو ذَرٍّ، فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي مِمَّا وَقَعَ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ".
ہارون بن رئاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احنف بن قیس رحمہ اللہ دمشق کی مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک شخص کو بہت زیادہ رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا، فرماتے ہیں: میں دیکھتا رہا کہ وہ جفت یا طاق پر سلام پھیرتا ہے۔ احنف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب اس نے نماز مکمل کی تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تو جانتا ہے کہ تو نے نماز جفت پڑھی ہے یا طاق؟ وہ کہنے لگا: میں نہیں جانتا، لیکن اللہ جانتا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے (ان پر اللہ کی رحمتیں اور سلام ہو)۔ پھر وہ رو پڑا، پھر اس نے کہا: میں نے اپنے دوست ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کی ایک غلطی مٹا دیتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: احنف رحمہ اللہ نے پوچھا: آپ کون ہیں، «رَحِمَكَ اللّٰهُ» ”اللہ آپ پر رحم کرے“؟ کہنے لگے: ابوذر رضی اللہ عنہ۔
احنف رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کے بارے میں جو خیال میرے دل میں آیا تھا، اس کی وجہ سے میں اپنے آپ میں چھوٹا ہو کر رہ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4582]
احنف رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان کے بارے میں جو خیال میرے دل میں آیا تھا، اس کی وجہ سے میں اپنے آپ میں چھوٹا ہو کر رہ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4582]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 3561»
الحكم على الحديث: صحيح
912. -- باب: صلاة التطوع قائما، وقاعدا
-- باب: کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 4583
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا، وَقَاعِدًا، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر نماز کھڑے یا بیٹھے ہوئے پڑھ لیتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کھڑے ہو کر شروع کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب نماز بیٹھ کر شروع کرتے تو رکوع بھی بیٹھے ہوئے کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4583]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 732»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4584
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ (ح) وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کر دیتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4584]
تخریج الحدیث: «صحيح 732»
الحكم على الحديث: صحيح 732
حدیث نمبر: 4585
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ كَثِيرٌ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں: مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4585]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 732»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4586
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ، يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ:" كَانَ أَكْثَرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ثَقُلَ وَبَدَّنَ وَهُوَ جَالِسٌ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ.
عبداللہ بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن بھاری ہو گیا تو اکثر نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4586]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4587
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيَّانِ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَةٍ قَاعِدًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَةٍ قَاعِدًا، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
مطلب بن ابی وداعہ سہمی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن وفات سے ایک سال پہلے پڑھ لیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورت کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے یہاں تک کہ وہ اپنے سے لمبی سورت سے بھی لمبی ہو جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 733»
الحكم على الحديث: صحيح