السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1010. -- باب:: " اجعلوا أئمتكم خياركم " وما جاء في إمامة ولد الزناء
-- باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5135
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنُ أَخِي عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ:" سَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ وَلَدِ الزِّنَاءِ إِنْ مَرِضَ، أَعُودُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنْ مَاتَ أُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَإِنْ شَهِدَ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَؤُمُّ؟ قَالَ: نَعَمْ".
عبدالعزیز بن رفیع رحمہ اللہ کے بھتیجے اسماعیل بن عبدالملک فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر حرامی بچہ بیمار ہو جائے تو میں اس کی عیادت کروں؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: اگر فوت ہو جائے تو جنازہ پڑھوں؟ فرمایا: ہاں، پھر میں نے کہا: اگر وہ گواہی دے تو اس کی گواہی جائز ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے کہا: وہ امامت کروائے؟ فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5135]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5136
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَحَدَّثَنَا زَيْدٌ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّفَرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَسَدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ:" وَلَدُ الزِّنَاءِ شَرُّ الثَّلَاثَةِ، إِنْ أَبَوََيْهِ أَسْلَمَا وَلَمْ يُسَلِمْ هُوَ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ". وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا عَلَيْهِ مِنْ وِزْرِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] تَعْنِي وَلَدَ الزِّنَاءِ. وَعَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَالزُّهْرِيِّ فِي وَلَدِ الزِّنَاءِ أَنَّهُ يَؤُمُّ.
(الف) سفر بن نسیر اسدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تین میں تیسرا شر ہے۔“ اس کے والدین تو مطیع ہوچکے، لیکن وہ مطیع نہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سے تیسرا شر ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے والدین کا اس پر کوئی بوجھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5136]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے والدین کا اس پر کوئی بوجھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5136]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أبو داؤد 3963»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5137
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ وَهُوَ حَيٌّ: أَفَلَا تَلْقَاهُ فَتَسْأَلَهُ؟ قَالَ أَيُّوبُ: فَلَقِيتُ عَمْرًا فَقَالَ:" كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرٍّ لِلنَّاسِ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا هَذَا الْأَمْرُ، مَا لِلنَّاسِ؟ فَيَقُولُونَ: نَبِيُّنَا يَزْعُمُ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَهُ وَأَنَّ اللهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلْتُ أَحْفَظُ ذَلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِي صَدْرِي بِغِرَاءٍ وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهَا الْفَتْحَ وَيَقُولُونَ: أَنْظِرُوهُ ⦗١٣٠⦘ فِي قَوْمِهِ، فَإِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيٌّ وَهُوَ صَادِقٌ، فَلَمَّا جَاءَتْ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ، وَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ حِوَائِنَا ذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّيْنَاهُ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، وَإِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا، وَقَالَ: صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا"، فَنَظَرُوا فِي أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِمَا كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، أَوْ سِتِّ سِنِينَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ فِيهَا صِغَرٌ، فَإِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحِيِّ: أَلَا تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ؟ فَكَسَوْنِي قَمِيصًا مِنْ مُعَقَّدِ الْبَحْرَيْنِ، فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ فَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
ایوب، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ زندہ تھے، کیا آپ نے ان سے ملاقات نہیں کی؟ آپ ان سے سوال کریں۔ ایوب کہنے لگے: میں عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: ہم ایک پانی کے چشمے پر تھے، لوگوں کا وہاں سے گزر ہوتا تھا۔ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم لوگوں کے معاملات کے بارے میں سوال کرتے تھے۔ وہ کہتے: وہ نبی ہے اس کا گمان ہے کہ اللہ نے اس کو مبعوث کیا ہے اور اللہ نے اس پر فلاں فلاں وحی کی ہے۔ میں اس کلام کو یاد کر لیتا تھا۔ گویا کہ میرے دل میں اس کا شوق پیدا ہو گیا اور عرب نے اسلام لانے سے فتح تک توقف کیا۔ وہ کہتے تھے: اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ گیا تو یہ سچا نبی ہے۔ جب فتح کا واقعہ ہو گیا تو ہر قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی اور میرے والد اپنے قبیلہ کے ساتھ اسلام قبول کرنے گئے۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے پاس ٹھہرے تو ہم نے ملاقات کی۔ جب انہوں نے ہم کو دیکھا تو کہنے لگے: میں تمہارے پاس سچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آیا ہوں، وہ تمہیں فلاں چیز کا حکم دیتے ہیں اور فلاں سے روکتے ہیں اور فرمایا: ”نماز اس طرح پڑھو اور اس وقت پڑھو اور فلاں نماز اس طرح اور اس وقت پڑھو۔ جب نماز کا وقت ہو تو تمہارے لیے کوئی ایک اذان دے اور تمہاری امامت وہ کروائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو۔“ انہوں نے ہمارے محلے والوں میں دیکھا تو انہوں نے مجھ سے زیادہ قرآن کو یاد کرنے والا کسی کو نہ پایا، کیونکہ میں قافلوں سے ملتا رہتا تھا۔ انہوں نے مجھے آگے کر دیا اور میں سات سال کا تھا یا چھ سال کا۔ میرے اوپر ایک چادر تھی جو چھوٹی تھی۔ جب میں سجدہ کرتا تو وہ مجھ سے سکڑ جاتی۔ قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: کیا تم اپنے قاری کی پشت ہم سے ڈھانپتے نہیں ہو؟ تو انہوں نے بحرین کی بنی ہوئی چادر مجھے پہنا دی۔
میں اتنا کبھی خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص کی وجہ سے خوش ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5137]
میں اتنا کبھی خوش نہیں ہوا جتنا اس قمیص کی وجہ سے خوش ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4051»
الحكم على الحديث: صحيح
1011. -- باب: إمامة الصبي الذي لم يبلغ
-- باب: نابالغ بچے کی امامت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5138
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ لَنَا:" لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ". قَالَ: فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَأَنَا غُلَامٌ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ، فَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ". وَرَوَاهُ مِسْعَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ.
عاصم، سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب میری قوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس لوٹی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری امامت وہ کروائے جو تم میں سے قرآن کو زیادہ پڑھا ہوا ہو۔“ وہ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے بلوایا اور رکوع و سجود سکھائے، میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور میں بچہ تھا، میرے اوپر ایک پھٹی ہوئی چادر تھی تو وہ میرے باپ سے کہتے: ”کیا آپ اپنے بیٹے کی سرین ہم سے نہیں ڈھانپتے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5138]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَرْمِيُّ وَكَانَ شَيْخًا كَيِّسًا حِيَّ الْفُؤَادِ، حَدَّثَنَاهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ:" قَدِمَ قَوْمِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا قَرَءُوا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا قَضَوْا حَوَائِجَهُمْ فَسَأَلُوهُ: مَنْ يَؤُمُّهُمْ؟ فَقَالَ:" أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ". قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَسَأَلُوهُمْ فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا أَجْمَعَ أَوْ آخِذًا لِلْقُرْآنِ مِنِّي، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، وَكُنْتُ أُصَلِّي لَهُمْ أَوْ أُصَلِّي بِهِمْ، قَالَ: فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ".
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، جب انہوں نے قرآن پڑھ لیا اور اپنی ضروریات کو پورا کر لیا تو انہوں نے سوال کیا کہ ان کی امامت کون کروائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرآن زیادہ یاد کیے ہوئے ہو۔“ جب وہ واپس قوم میں آئے تو انہوں نے اس کے بارے میں سوال کیا، لیکن مجھ سے زیادہ قرآن کسی کو بھی یاد نہیں تھا، انہوں نے مجھے آگے کر دیا اور میں بچہ تھا، میں ان کو نماز پڑھاتا، جب بھی کوئی مجلس ہوتی تو میں ان کا امام ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5139]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5140
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ نہ پڑھ لیں۔ جب وہ کلمہ پڑھ لیں تو انہوں نے اپنے مال اور خون مجھ سے محفوظ کر لیے مگر حق کی وجہ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 25»
الحكم على الحديث: صحيح
1012. -- باب:: لا يأتم مسلم بكافر
-- باب: اس بیان میں کہ ”کوئی مسلمان کسی کافر کی اقتدا نہ کرے“۔
حدیث نمبر: Q5141
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللهِ"، وَلَمْ تَكُنْ صَلَاةُ الْكَافِرِ إِسْلَامًا مِنْهُ إِذَا لَمْ يَتَكَلَّمْ بِالْإِسْلَامِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کا سب سے زیادہ قاری ہو۔“
اور کسی کافر کا نماز پڑھ لینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ نماز سے پہلے زبانی طور پر اسلام کا اقرار نہ کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q5141]
اور کسی کافر کا نماز پڑھ لینا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ نماز سے پہلے زبانی طور پر اسلام کا اقرار نہ کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q5141]
حدیث نمبر: 5141
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ الْمِسْمَعِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں جب تک وہ یہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔ جب انہوں نے یہ کام کیے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5142
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَصَلُّوا صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، حُرِّمَتْ عَلَيْنَا أَمْوَالُهُمْ وَدِمَاؤُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے میں مشرکین سے لڑائی کروں۔ یہاں تک وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب انہوں نے گواہی دے دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور انہوں نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو ان کے مال اور خون ہمارے اوپر حرام ہیں مگر حق کی وجہ سے۔ اس کے لیے بھی وہی احکام ہیں جو مسلمان کے لیے، اس پر بھی وہی ہے جو کسی مسلمان پر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5142]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5143
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ:" مَعَكَ مَاءٌ؟" فَأَتَيْتُهُ بِمَطْهَرَةٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنَ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، هَكَذَا رَوَاهُ مُسَدَّدٌ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ.
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ضرورت پوری کر لی تو فرمایا: ”تیرے پاس پانی ہے؟“ میں پانی کا برتن لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ اور ہتھیلیاں دھوئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازوؤں سے جبہ اتارنے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ جبے سے نکال لیا اور جبے کو کندھوں پر ڈال لیا، بازو دھوئے، پھر پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں بھی سوار ہوا اور ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے جو نماز پڑھ رہے تھے، ان کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ ایک رکعت ہو چکی تھی، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا تو انہوں نے ہی نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہو گیا اور وہ رکعت ادا کی جو ہم سے رہ گئی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5143]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 274»
الحكم على الحديث: صحيح