السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1013. -- باب: صلاة الرجل بصلاة الرجل لم يقدمه
-- باب: کسی آدمی کا ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا جسے اس نے امام نہ بنایا ہو۔
حدیث نمبر: 5144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهٌ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ قَالَ مُسْلِمٌ وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ". قَالَ أَبُو دَاوُدَ:" اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"، أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ سُلَيْمَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور تم «اللّٰهُ أَكْبَرُ» نہ کہو جب تک وہ نہ کہہ لے اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور تم رکوع نہ کرو یہاں تک کہ وہ رکوع کرے اور جب وہ کہے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» تو تم کہو: «اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» مسلم کے الفاظ یہ ہیں: «وَلَكَ الْحَمْدُ» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور تم سجدہ نہ کرو یہاں تک کہ وہ سجدہ کرلے اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5144]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري689»
الحكم على الحديث: صحيح
1014. -- باب: من كره أن يفتتح الرجل الصلاة لنفسه ثم يدخل مع الإمام
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے مکروہ جانا کہ آدمی اپنی اکیلے نماز شروع کرے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْأَدِيبُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّدُوسِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ ⦗١٣٣⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَقَالَ:" فَأَتِمُّوا". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دُحَيْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ:" فَأَتِمُّوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اقامت سنو تو آرام سے چلو، جو نماز تم پالو پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے تو اس کو پورا کرلو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5145]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 610»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5146
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْرُوفُ بِأَبِي شَيْخٍ، أنبأ الْمَرْوَزِيُّ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: كَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ فَيُشِيرُونَ إِلَيْهِمْ كَمْ صَلَّى بِالْأَصَابِعِ وَاحِدَةً، ثِنْتَيْنِ، فَجَاءَ مُعَاذٌ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَضَيْتُ فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَامَ مُعَاذٌ يَقْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ، هَكَذَا فَافْعَلُوا".
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز کے لیے آتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض نماز پڑھ چکے ہوتے تو وہ نمازیوں کی طرف ایک یا دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کر کے پوچھتے۔ معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نماز پڑھ لی تھی، وہ بھی نماز میں شامل ہو گئے، فرماتے ہیں کہ جس حالت میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا، اسی حالت میں میں بھی شامل ہو گیا۔ پھر میں نے نماز پوری کی۔ پھر ایک دن آئے تو کچھ نماز گزر چکی تھی، وہ نماز میں شامل ہوئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پوری کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ نے تمہارے لیے طریقہ مقرر کر دیا ہے، تم بھی ایسے ہی کر لیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5146]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 507»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5147
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ يُصَلِّي فَيُخْبَرُ بِمَا سُبِقَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَإِنَّهُمْ قَامُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَرَاكِعٍ وَقَاعِدٍ وَمُصَلٍّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَاءَ مُعَاذٌ، فَأَشَارُوا إِلَيْهِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَهَذِهِ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ يَعْنِي عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: فَقَالَ مُعَاذٌ: لَا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّ مُعَاذًا قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا"..
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ساتھیوں نے بیان کیا کہ آدمی جب نماز کے لیے آتا ہے تو اس کو بتایا جاتا کہ اتنی نماز گزر چکی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام، رکوع، بیٹھتے اور نماز پڑھتے تھے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس کا اشارہ کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات حصین سے سنی، وہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس حالت پر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا اسی حالت میں نماز میں شامل ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ (رضی اللہ عنہ) نے تمہارے لیے طریقہ بنایا ہے تم بھی ایسے ہی کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5147]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 507»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5148
وَرَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ: مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: وَحَدَّثَنِي بِهَا حُصَيْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَتَّى جَاءَ مُعَاذٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ فَقَالَ: لَا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلَى قَوْلِهِ" كَذَلِكَ فَافْعَلُوا". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ فَذَكَرَهُ.
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آئے، شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حصین رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حالت پر دیکھتا۔۔۔ تم بھی ایسا ہی کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5148]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ" فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ إِنْ يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَى الْقِرَاءَةِ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ" فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ" إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ ⦗١٣٤⦘ فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ" فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ الْأَرْضَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ: أَنْ صَلِّ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ وَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل ہیں، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوئے تو روئیں گے اور قرأت نہیں کر سکیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو۔“ تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”تم یوسف کی عورتوں کی طرح ہو، ابوبکر کو حکم دو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے نکلے گویا میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی وجہ سے زمین پر لکیریں بن رہی تھیں۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو پیچھے ہٹنا شروع ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پڑھاؤ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5149]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 5079»
الحكم على الحديث: صحيح
1015. -- باب: من أباح الدخول في صلاة الإمام بعد ما افتتحها
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی اکیلے نماز شروع کرنے کے بعد امام کی نماز میں شامل ہونے کو مباح قرار دیا۔
حدیث نمبر: 5150
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں شامل ہوئے، پھر ان کی طرف اشارہ کیا کہ ”تم اپنی جگہ پر رہو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے، پھر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں شامل ہوئے، ان کو جماعت کروائی۔ جب نماز پوری کی تو فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں، میں جنبی تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5150]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد 233»
الحكم على الحديث: صحيح
1016. جماع أبواب موقف الإمام والمأموم -- باب: الرجل يأتم برجل
امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: ایک مرد کا ایک مرد کی اقتدا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5151
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَايِنِيُّ، أنبأ وَرْقَاءُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ فَقَالَ:" أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْرَعْتُ. قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءًا فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ". ⦗١٣٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدَايِنِيِّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ہم پانی کے گھاٹ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! پانی پیو گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور میں نے پانی پیا، فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے چلے گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں جس کے دونوں کنارے مخالف تھے نماز پڑھی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5151]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 766»
الحكم على الحديث: صحيح
1017. -- باب: الصبي يأتم برجل
-- باب: ایک بچے کا ایک مرد کی اقتدا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5152
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بُرْهَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ" قَالَ: فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ أُصَلِّي بِصَلَاتِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابٍ كَانَ لِي، أَوْ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بالوں سے یا سر سے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5152]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
1018. -- باب: الرجل يأتم برجل فيجيء آخر
-- باب: ایک مرد کا ایک مرد کی اقتدا کرنے اور پھر ایک اور (مرد) کے آ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5153
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ قَالُوا: ثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَرْزَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" سِرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَقَامَ يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ،.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں چلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5153]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 301»
الحكم على الحديث: صحيح