السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1080. -- باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة
-- باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَاهُمْ، وَحَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَتَمُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ". زَادَ عَنْ حَفْصٍ:" وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا"، زَادَ مِنْ هَهُنَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ:" ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَلَوَدِدْتُ أَنَّ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ"، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ ⦗٢٠٦⦘ قُرَّةَ عَنْ أَشْيَاخِهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ صَلَّى أَرْبَعًا، فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ، ثُمَّ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا؟ قَالَ:" الْخِلَافُ شَرٌّ".
عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو دو رکعات پڑھیں۔“ اس میں حفص نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع میں بھی (دو ہی پڑھیں) پھر انہوں نے نماز مکمل کی۔ اس روایت میں یہاں ابی معاویہ سے کچھ زائد بیان کیا گیا ہے کہ: ”پھر تمہارے راستے جدا ہو گئے، میری خواہش ہے کہ چار رکعات کے بدلے میرے حصے میں دو مقبول رکعات ہوں۔“ معاویہ بن قرہ اپنے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعات پڑھیں، تو ان سے کہا گیا کہ آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر تو عیب لگاتے تھے اور اب خود چار رکعات پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اختلاف بری چیز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5434]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 1960»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، بِوَاسِطَ، عَنْ أَشْيَاخِ الْحِيِّ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ الظُّهْرَ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ فَعَابَ عَلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي رَحْلِهِ الْعَصْرَ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ وَصَلَّيْتَ أَرْبَعًا؟ قَالَ:" إِنِّي أَكْرَهُ الْخِلَافَ" وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.
معاویہ بن قرۃ اپنے قبیلے کے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے ان پر عیب لگایا۔ پھر انہوں نے اپنے گھر عصر کی نماز چار رکعات پڑھائی۔ میں نے کہا: آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب لگاتے ہو اور خود چار رکعات پڑھتے ہو؟ فرمانے لگے: میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5435]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ انظر ما سبق»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5436
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ، فَلَمَّا دَخَلَ مَسْجِدَ مِنًى فَقَالَ:" كَمْ صَلَّى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟" قَالُوا: أَرْبَعًا. فَصَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقُلْنَا: أَلَمْ تُحَدِّثْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَأَنَا أُحَدِّثُكُمُوهُ الْآنَ، وَلَكِنَّ عُثْمَانَ كَانَ إِمَامًا فَمَا أُخَالِفُهُ، وَالْخِلَافُ شَرٌّ".
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب وہ مسجدِ منیٰ میں داخل ہوئے تو انہوں نے سوال کیا کہ امیر المؤمنین نے کتنی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: چار رکعات، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی چار رکعات پڑھ لیں۔ ہم نے کہا: آپ تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات پڑھتے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی، تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، میں اب بھی تمہیں (یہی بات) بیان کر دیتا ہوں، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ امام ہیں اور میں ان کی مخالفت نہیں کرنا چاہتا اور اختلاف بری چیز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5436]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعْلِمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ".
ایوب، زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منیٰ میں نماز کو دیہاتیوں کی وجہ سے مکمل پڑھتے تھے، کیونکہ ان کا آنا زیادہ ہوتا تھا، اس غرض سے چار رکعات پڑھاتے تھے تاکہ ان کو معلوم ہو سکے کہ نماز چار رکعات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5437]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1964»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5438
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ السُّنَّةَ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ صَاحِبَيْهِ، وَلَكِنَّهُ حَدَثَ الْعَامَ مِنَ النَّاسِ، فَخِفْتُ أَنْ يَسَتَنُّوا". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ غَيْرُ هَذَا، وَالْأَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ رَآهُ رُخْصَةً فَرَأَى الْإِتْمَامَ جَائِزًا كَمَا ⦗٢٠٧⦘ رَأَتْهُ عَائِشَةُ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مَعَ اخْتِيَارِهِمُ الْقَصْرَ.
عبد الرحمن بن حمید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منیٰ میں نماز مکمل پڑھتے تھے، پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دو ساتھیوں کا طریقہ ہی سنت ہے، لیکن اب لوگوں کا آنا عام ہوا تو میں ڈر گیا کہ لوگ اس کو سنت نہ بنا لیں۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں رخصت ہے اور مکمل بھی جائز سمجھتے تھے، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5438]
شیخ فرماتے ہیں: اس میں رخصت ہے اور مکمل بھی جائز سمجھتے تھے، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5438]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تاريخ ابن عساكر 39/255»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 5439
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ قَالَ:" أَقْبَلَ سَلْمَانُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالُوا: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" إِنَّا لَا نَؤُمُّكُمْ وَلَا نَنْكِحُ نِسَاءَكُمْ، إِنَّ اللهَ هَدَانَا بِكُمْ" قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعًا، قَالَ: فَقَالَ سَلْمَانُ:" مَالَنَا وَلِلْمُرَبَّعَةِ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِينَا نِصْفُ الْمُرَبَّعَةِ، وَنَحْنُ إِلَى الرُّخْصَةِ أَحْوَجُ". فَبَيَّنَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِمَشْهَدِ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةِ أَنَّ الْقَصْرَ رُخْصَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَرُوِّينَا عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَنَّهُمَا كَانَا يُتِمَّانِ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَيَصُومَانِ، وَرُوِّينَا جَوَازُ الْأَمْرَيْنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي قِلَابَةَ.
(الف) ابو لیلیٰ کندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ صحابہ کے ساتھ آئے جو سوار تھے، نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے کہا: اے ابو عبداللہ! آگے بڑھو، تو ابو عبداللہ کہنے لگے: نہ تو ہم تمہاری امامت کروائیں گے اور نہ ہی تمہاری عورتوں سے نکاح کریں گے، کیونکہ تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے۔ چنانچہ قوم کے ایک آدمی نے ان کو چار رکعات پڑھائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں چار سے کیا واسطہ؟ ہمیں تو دو رکعات ہی کافی تھیں اور ہم رخصت کے زیادہ محتاج ہیں۔ ان صحابہ کی موجودگی میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قصر رخصت ہے۔
(ب) مسور بن مخرمہ اور عبداللہ بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہما دونوں حضرات سفر میں مکمل نماز پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5439]
(ب) مسور بن مخرمہ اور عبداللہ بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہما دونوں حضرات سفر میں مکمل نماز پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5439]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ الطبراني في الكبير 6053»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 5440
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ زَيْدٍ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنَّا مَعَاشِرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا نُسَافِرُ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، وَمِنَّا الْمُتِمُّ وَمِنَّا الْمُقْصِرُ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، وَلَا الْمُقْصِرُ عَلَى الْمُتِمِّ، وَلَا الْمُتِمُّ عَلَى الْمُقْصِرِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صحابہ کی جماعت میں سفر کرتے تھے تو بعض قصر اور افطار کرنے والے ہوتے اور بعض نماز مکمل پڑھتے اور روزہ بھی رکھتے تھے، تو روزہ رکھنے والا افطار کرنے والے پر اور افطار کرنے والا روزہ رکھنے والے پر اور قصر کرنے والا نماز مکمل پڑھنے والے پر اور مکمل پڑھنے والا قصر کرنے والے پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5440]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ليكن اس كي اصل مسلم 1119»
الحكم على الحديث: ضعيف
1081. -- باب: إتمام المغرب في السفر والحضر وأن لا قصر فيها
-- باب: سفر اور حضر میں مغرب کی نماز پوری پڑھنے کا بیان اور یہ کہ اس میں قصر نہیں ہے
حدیث نمبر: 5441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ:" جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ". فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، وَقَدْ أَشَارَ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِهِ إِلَى مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشا کو جمع کیا، اور ان کے درمیان کوئی نماز نہ تھی۔ مغرب کی تین رکعات ادا کیں اور عشا کی دو رکعات پڑھیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں ایسے ہی نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ اللہ سے جا ملے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5441]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1288»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5442
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْحِلِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، إِلَّا الْمَغْرِبَ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ". قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ؟ قَالَ:" أَقَمْنَا عَشَرَةَ أَيَّامٍ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف چلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ واپسی تک ہمیں دو دو رکعات نماز پڑھائی، لیکن مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے مکہ میں کتنی دیر قیام کیا؟ فرمایا: دس دن۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5442]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5443
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّبِيعِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فُرِضَتْ ثَلَاثًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى وَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ لِأَنَّهَا وِتْرٌ، وَالصُّبْحُ تَطُولُ فِيهَا الْقِرَاءَةُ". هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ. وَقَدْ رُوِّينَاهُ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الصَّلَاةِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ.
عامر شعبی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نماز دو دو رکعات فرض کی گئیں سوائے مغرب کے، وہ تین رکعات ہی فرض کی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو پہلی نماز ہی پڑھا کرتے تھے اور جب زیادہ قیام کرتے تو دو دو رکعات ساتھ ملا لیتے، لیکن مغرب میں نہیں؛ کیونکہ یہ وتر ہیں اور صبح کی نماز بھی نہیں؛ کیونکہ اس میں قراءت لمبی ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5443]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ابن أبي شيبه 36004»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ