🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1080. -- باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة
-- باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5424
فَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْكُدَيْمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَيُتِمُّ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنْ مُغِيرَةَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح پڑھ لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5424]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تقدم برقم 5432»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5425
فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا: ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أَتَمَّ وَقَصَرَ، وَصَامَ وَأَفْطَرَ فِي السَّفَرِ". وَقَدْ قَالَ: عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ الْمُرْهِبِيُّ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ.
عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر کرتے اور کبھی مکمل نماز بھی پڑھ لیتے، اور روزہ رکھتے اور کبھی افطار بھی فرما لیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5426
أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ،" أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُصَلِّي فِي السَّفَرِ الْمَكْتُوبَةَ أَرْبَعًا". وَهُوَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَيْبَانَ بِهَرَاةَ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ فَذَكَرَهُ. وَهُوَ كَالْمُوَافِقِ لِرِوَايَةِ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، وَإِنْ كَانَ فِي رِوَايَةِ دَلْهَمٍ زِيَادَةُ سَنَدٍ، وَلِسَنَدِهِ شَاهِدٌ قَوِيٌّ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ..
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں فرض نماز چار رکعات پڑھا کرتی تھیں۔
یہ روایت دلہم بن صالح کی روایت کے موافق ہے، اگرچہ دلہم کی روایت میں سند کا ایک واسطہ زیادہ ہے، اور اس کی سند کا ایک قوی شاہد صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5426]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5427
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، قَالَ، وَثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں عمرہ کے لیے گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی جبکہ میں نے پوری پڑھی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ النسائي 1456»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5428
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّبَّعِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ الصَّلَاةَ، وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ، فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَى مَكَّةَ قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ، وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، قَالَ:" أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ". وَمَا عَابَهُ عَلَيَّ". قَالَ عَلِيٌّ: الْأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ.
عبد الرحمن بن اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا۔ جب میں مکہ واپس آئی تو میں نے کہا: ”میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی جبکہ میں نے مکمل پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا جبکہ میں نے روزہ رکھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
علی (دارقطنی) نے کہا: پہلی روایت متصل ہے اور یہ سند حسن ہے، عبدالرحمن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا ہے اور وہ قریب البلوغ عمر میں ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5428]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5429
وأَخْبَرَنَا عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، ثنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ فَأَفْطَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُمْتُ، وَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، وَقَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ فَقَالَ:" أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کے لیے نکلی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، اور آپ نے قصر کی جبکہ میں نے پوری پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5429]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5430
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالُوا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ صَلَّيْتِ رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّهُ لَا يَشُقُّ عَلَيَّ".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ دو رکعات پڑھیں، تو فرمانے لگیں: اے بھانجے! یہ میرے اوپر شاق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5430]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5431
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٢٠٥⦘ الْمِصْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ إِلْيَاسَ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ الصَّلَاةَ حِينَ فُرِضَتْ كَانَتْ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا". قَالَ: فَأَخْبَرْتُهَا عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: إِنَّ عُرْوَةَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّ عَائِشَةَ" كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي السَّفَرِ" قَالَ: فَوَجَدْتُ عُرْوَةَ يَوْمًا عِنْدَهُ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ عَائِشَةَ؟ فَحَدَّثَ بِمَا حَدَّثَنِي بِهِ عُمَرُ فَقَالَ عُمَرُ: أَلَيْسَ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعًا فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: بَلَى.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نماز فرض کی گئی تو سفر و حضر میں دو دو رکعات تھیں۔ پھر سفر میں دو رکعات برقرار رکھ دی گئیں اور حضر کی نماز چار رکعات مکمل کر دی گئی۔ فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بتایا تو وہ فرمانے لگے: عروہ نے تو مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھا کرتی تھیں۔ ایک دن عروہ رحمہ اللہ کو میں نے ان کے پاس پایا۔ میں نے کہا: آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مجھے خبر دیں! انہوں نے مجھے ویسے ہی بیان کر دیا جیسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیان کیا تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تم نے بیان نہیں کیا کہ وہ سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں؟ کہنے لگے: کیوں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5431]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5432
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ خَشْرَمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ". قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ عَائِشَةَ كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْيَانَ.
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پہلے دو دو رکعات نماز فرض کی گئی، حضر کی نماز میں پھر اضافہ کر دیا گیا اور سفر کی نماز برقرار رکھی گئی۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا ہوا کہ وہ نماز مکمل پڑھتی ہیں؟ فرمایا: انہوں نے وہی تاویل کی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تاویل کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5432]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1040»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ:" صَلَّى بِنَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقِيلَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَكَذَلِكَ مُسْلِمٌ.
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان کی گئی تو انہوں نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پڑھا۔ اور فرمایا: میں نے منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعات پڑھیں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعات پڑھیں۔ کاش چار رکعات میں سے میرا حصہ دو مقبول رکعات ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5433]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1034»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں